غلطیاں ہی غلطیاں

اپوزیشن نے مسلسل حکومت کے خلاف ایک محاذ کھڑا کر رکھا ہے ۔ اس میں کوئی اچھنبے کی بات نہیں۔ اپوزیشن کا کام ہی یہی ہوا کرتا ہے پھر وہ ممالک جہاں سیاسی بالیدگی کا کہیں نام و نشاں نہ ہو حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ملکی مفادات کی جنگ سے زیادہ ذاتی مخاصمت دکھائی دے وہاں معاملہ کبھی بھی ملک و قوم کا سمجھا نہیں جاتا۔ اس حکومت کو ووٹ دینے میں عوام ا لناس نے جس معصومیت کا مظاہرہ کیا ‘ وہ اپنی جگہ لیکن اس حکومت نے بھی انہیں باتوں کے علاوہ کچھ نہ دیا۔ آج تین سال گزرجانے کے بعد بھی وہی باتیں کرتے ہیں۔ کیسی عجیب بات ہے کہ وہ لوگ جن پر اس قوم نے اعتبار کیا ‘ وہ بنا تیاری کے ہی حکومت چلانے آگئے ۔ نیت درست ہی رہی ہو گی لیکن صرف نیت سے معیشت چلائی نہیں جاتی اس کے لئے فہم لازم ہے اور اس حکومت میں فہم کی انتہائی کمی رہی ۔ لوگ بار بار یہ کہنے پر مجبور ہوئے کہ ہم سے غلطی ہو گئی ‘ اس سے کم از کم پہلے والے بہتر تھے کم از کم کچھ جانتے تو تھے ۔اب عوام توشاید انتخابات کے حوالے سے سوچنا بھی نہیں چاہتے ۔ ہماری دادی اپنے حج کا ایک قصہ سناتی تھیں۔ ایک بوڑھی عورت ان کے ساتھ والے خیمے میں موجود تھیں جو خاصی تھک چکی تھیں۔ دادی امی بتایا کرتی تھیں کہ ایک دن شاید وہ زیادہ تھک گئی تھیں قدرے اونچی آواز میں رو رو کر اللہ سے دہائی دینے لگیں”اللہ میں بھولی ‘ ایک بار مجھے گھر لے جا ‘ پھر میں نہ آئوں”۔ خیر یہ تو مذاق کی بات ہے لیکن ہمارے عوام کا حال کچھ اس سے مختلف نہیں۔ لیکن سب سے زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ سمجھ نہیں آتا کہ جب یہ حکومت جائے گی تو ہمارے پاس کونسے بدل موجود ہیں۔ اس حکومت سے بے شمار امیدیں تھیں۔ کرپشن کے خاتمے کی امید تھی ‘ ان کی نااہلی سے ادارے ہی ختم ہو رہے ہیں۔ حکومت وقت کی خود پسندی کا عالم یہ ہے کہ یہ اپنے سوا ہر شخص کو چور سمجھتے ہیں لیکن پھر بھی بیورو کریسی میں محض ان لوگوں کو پسند کرتے ہیں جو اصلی کرپٹ ہوں۔ اصلی کرپٹ کامطلب یہ ہے کہ وہ ہر ایک چیز میں
بدعنوانی کرنا جانتے ہوں اور خوشامدی ہوں۔ نااہلوں کو ہمیشہ ہی خوشامدی اچھے لگتے ہیں اس کی گواہی تو تاریخ بھی دے سکتی ہے ‘ اور پھر خوشامدیوں کا بدعنوان ہونا بھی ایک قدرتی سی بات ہے ۔ سو ہم اس گھن چکر میں الجھ کر رہ گئے ہیں۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایک ایسی قوم جو اپنی اپنی حیثیت اور قدرت کے مطابق مقدور بھر بدعنوان ہے اس پر فرشتوں کی حکومت کی امید بھی کیسے رکھی جا سکتی ہے ۔ یہ سیاست دان بھی تو ہمارے ‘ آپ کے ہی نمائندے ہیں ہم میں ہی شامل ہیں ہم سے ہی ابھرے ہیں ۔ ان سے ہم سے جدا ہونے کی امید بھی بھلا کیسے رکھی جا سکتی ہے ۔ اس حکومت کا عالم یہ ہے کہ اس کے اتحادی بھی اب ان کے نامناسب رویوں کے حوالے سے آواز اٹھانے لگے ۔ اسمبلی میں سیشن کیے گئے دو بلوں کا جو حال ہوا اس نے اپوزیشن کو بہت کچھ کہنے کا موقع فراہم کیا۔ لیکن سب سے زیادہ اہم بات تو مسلم لیگ(ق) کے چیمہ صاحب کے حوالے سے رہی جنہوں نے وزیر اعظم صاحب کے رویئے کو ایک جملے میں بیان کر دیا کہ گزشتہ تین سالوں میں وزیر اعظم صاحب نے ایک بار بھی ان سے مشاورت نہیں کی۔ پی ڈی ایم کے حوالے سے یہ محسوس کرتے تھے کہ یہ اتحاد تو فطری تھا کیونکہ مفادات پرستوں کا اجتماع تھا لیکن اس اتحاد کا یوں ہوا میں تحلیل ہو جانا بھی فطری تھا کیونکہ بہت عرصے تک مفاد پرستوں کا ٹولہ متحد نہیں رہ سکتا۔ اس حکومت کا اتحاد بھی ان جماعتوں سے غیر فطری تھا جو ان کے ساتھ موجود ہیں۔ اسمبلی میں دونوں بلوں کا پاس نہ ہوسکنا اور حکومتی کارندوں کا ایک کی حمایت میں ووٹ نہ دینا کئی باتوں کا غماز ہے ۔ حکومت کا مسلسل اپنے
ہی اتحادیوں سے فاصلے پر رہنا اس بات کی واضح نشاندہی کرتا ہے کہ انہیں اپنے اتحادیوں کی اہمیت کا ہی ا ندازہ نہیں وہ جانتے ہی تھے کہ ان اتحادیوں کا آخر دم تک ان کے ساتھ رہنا خود ان کے لئے کس قدر ضروری ہے خاص طور پر اس وقت جبکہ حکومت بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی خارجہ پالیسی کے حوالے سے کئی اہم فیصلے کر رہی ہے ۔ ایسے وقت میں جب ملکی حالات اتنے دگر گوں ہیں کہ لوگوں کو خانہ جنگی کا خطرہ محسوس ہوتا ہے ۔ زندگی گزارنا لوگوں کو بہت کٹھن محسوس ہونے لگا ہے ۔ حکومت کی معیشت پر کوئی گرفت بھی محسوس نہیں ہوتی ۔ ایسے میں وزیر اطلاعات و نشریات کا ایک مقامی ٹی وی چینل پر یہ تبصرہ کرنا کہ اس وقت اتحادی جماعتیں اس لئے ایسی باتیں کر رہی ہیں کیونکہ وہ اپنا ریٹ بڑھانے کے خواہاں ہیں کچھ ایسا مناسب نہیں تھا ۔ لیکن ہر اہم بات کے حوالے سے اس حکومت کا رویہ بڑا ہی غیر سنجیدہ محسوس ہوتایہ تبصرہ بھی اسی غیر سنجیدگی کی جانب اشارہ کرتا محسوس ہوتا ے ۔ بیورو کریسی پر عدم اعتماد ‘ اور ان کی پسند بھی اسی غیر سنجیدگی کا غماز ہے ۔ ایک ایسی طاقت جس نے امور حکومت کو چلانے اور ان کی درستگی میں ممد ومعاون ثابت ہونا تھا اسے بھی انہوں نے خود سے متنفر کر رکھا ہے ۔ اور جن لوگوں کو اداروں کا اقتدار سونپ رکھا ہے ان میں سے اکثریت کے کردار کے حوالے سے منفی باتیں سننے کو ملتی ہیں اب حکومت اپنے اتحادیوں کی تنقید کا سامنا بھی کرے گی ان کا نالاں ہونابھی صاف دکھائی دے گا تو تجزیہ کرنے والے یہ سوال کرنے میں حق بجانب ہونگے کہ آخر اس سیاسی جماعت کا مستقبل کیا ہے اور ان کے ہاتھ میں ملک کا مستقبل تھما دینا کس قدر عقلمند تھی۔ سوالات کے سرے جو آپس میں الجھے ہوئے ہیں کرونا نے دنیا کی معیشت ہی تباہ کر ڈالی ہے ۔ پوری دنیا میں مہنگائی کسی صورت قابو میں نہیں آتی لیکن ا ن کی نا اہلی بھی اس ملک کے لئے کسی وباء سے کم نہیں ۔ لوگوں کی بدعنوانی اور ان کی نا اہلی اور پھر کرونا ۔ آخر صورتحال میں کسی صورت کوئی بہتری پیدا ہونے کی امید دکھائی دے گی بھی یا نہیں۔ یا پھر غلطیاں ہی غلطیاں اپنے دامن میں سمیٹتے جانا ہماری قسمت ہے۔