ملاعلی کردستانی کی پشاورآمد

عراقی روحانی طبیب کی پشاورآمد کی اطلاع پرہجوم امڈ آیا

ویب ڈیسک (پشاور) عراق سے تعلق رکھنے والے روحانی طبیب ملاعلی کردستانی کی پشاور آمد کی اطلاع پر اتوار کے روز صوبہ بھر سے ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے اپنے بیمار بچوں کیساتھ حیات آباد میں ڈیرے ڈالے جہاں دن بھر کے. انتظار کے بعد ملا علی کا دورہ منسوخ ہونے کی وجہ سے انہیں شام کو گھروں کو واپس لوٹنا پڑا۔

دوسری طرف سوشل میڈیا پر ڈاکٹرز اور دیگر مکتبہ ہائے فکر کے لوگوں میں دم کے ذریعے علاج کے بارے میں بحث چھڑ گئی ہے بعض صارفین کی جانب سے ملا علی کے ماضی کے واقعات بھی لوگوں کی آگہی کیلئے شیئر کئے گئے ہیں. تاہم اس سب کے باوجود بھی صوبہ بھر میں ملاعلی کردستانی کا لوگ بے چینی کیساتھ انتظار کررہے ہیں۔

واضح رہے کہ خیبر پختونخوا میں ہزاروں کی تعداد میں بچے سماعت، گویائی اور بصارت کی نعمتوں سے محروم ہیں. ان سپیشل بچوں کے والدین بحالی کے سلسلے میں سپیشل ایجوکیشنسٹ، بحالی ماہرین، ماہرین نفسیات، سپیچ تھراپسٹ، آکو پیشنل تھراپسٹ، ہائیڈرو تھراپسٹ، ڈاکٹرز کی خدمات حاصل کرتے ہیں جس میں کئی سال کا عرصہ درکار ہوتا ہے لیکن سوشل میڈیا پر ایک عراقی شخص کی ویڈیوز شیئر ہونے کے بعد والدین کو امید ہوچلی تھی جن میں سے بعض افراد نے انہیں پشاور کے دورے کی دعوت دی تھی اس دورے کے پہلے مرحلے میں اسلام آباد میں قومی اسمبلی کے اسپیکر اسد قیصر نے ان کا استقبال کیا تھا. اور کئی سینیٹرز نے ان کیساتھ ملاقاتیں کی تھیں۔

ملاعلی کردستانی کی پشاور آمد

اتوار کے روز پشاور میں ملا علی کلک کردستانی کے دورے کا شیڈول اعلان کیا گیا تھا. جس کیلئے حیات آباد کے ایک ٹشو پیپر کارخانے میں قیام کا بندوبست تھا. ملاعلی کی پشاور آمد کے بعد صوبہ بھر سے ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے اپنے معذور بچوں کے علاج کے سلسلے میں دن بھر ٹشو پیپر کارخانہ کے سامنے ڈیرے جمائے رکھے، اس موقع پر والدین سماعت، بینائی اور گویائی سے محروم بچوں کو ساتھ لائے تھے

جنہیں دن بھر کے انتظار کے بعد بتایا گیا. کہ سکیورٹی کلیرنس نہ ملنے کی وجہ سے ان کا دورہ ملتوی کردیا گیا ہے. اور آج پیر کے روز ان کے پشاور میں مریضوں کیساتھ ملاقاتیں کرنے کا امکان ہے۔ ڈاکٹرز کا دعویٰ ہے کہ معذور ہونے والے مریض کو کسی طور بھی علاج سے سو فیصد تک ٹھیک نہیں کیا جاسکتا ہے لیکن ملا علی کلک کردستانی کی ویڈیوز میں بچے فوری طور پر ٹھیک ہورہے ہیں اس معاملہ پر سب سے زیادہ حیرت ڈاکٹرز کو ہے جنہوں نے سوشل میڈیا پر مورچے سنبھال لئے ہیں ایک صارف نے فیس بک پر لکھا ہے کہ 5 برس قبل کردستان عراق میں ایک شخص مشہور ہوگیا. جو خود کو طبِ .نبوی کا ماہر اور روحانی معالج باور کرانے لگا.

اربیل کے مضافات میں واقع کلک نامی علاقے میں اس کا ایک مطب تھا دیکھتے ہی دیکھتے سوشل میڈیا میں اس کی ویڈیوز وائرل ہونے لگیں جن میں گونگوں، بہروں، دماغی معذوروں اور مختلف امراض کا شکار بیماروں کو دم سے ٹھیک ہوتے دکھایا جانے لگا، تھوڑے ہی عرصے میں یوٹیوب پر اس کے سبسکرائبرز کی تعداد 2 ملین سے تجاوز کر گئی ایک لمحہ بھی کسی طبی درسگاہ میں نہ پڑھنے کے باوجود یہ شخص خود کو ڈاکٹر کہلانے لگا،

سوشل میڈیا صارفین کے مطابق کئی ممالک میں ناکامی کے بعد ملا علی کلک کردستانی اب پاکستان میں قیام کئے ہوئے ہیں جن کی وجہ سے ہزاروں والدین کو اپنے بچوں کے صحت مند ہونے کی فکر نے پریشان کئے رکھا ہے. اور اس کیلئے وہ سینکڑوں میل کا سفر بھی کرنے کیلئے تیار ہیں۔