علم، مضبوط معیشت کی ضمانت

ہائیر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کے زیراہتمام اور برٹش کونسل کی میزبانی میں حال ہی میں بھوربن میںایک اجلاس منعقد ہوا جس میں پاکستان کی سرکاری و نجی شعبے کی جامعات کے وائس چانسلرز شریک ہوئے، اس اجلاس کا مقصد ایچ ای سی کے سابق چیئرمین ڈاکٹر طارق بنوری کی متعارف کردہ انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ پالیسیوں کا جائزہ لینا تھا۔ اجلاس میں شرکت کرنے والے 180 وائس چانسلرز میں سے 178 نے ان پالیسیوں کو یکسر مسترد کیا، اُ ن کا موقف تھا کہ ان پالیسیوں نے اڑھائی سال کے مختصر عرصے میں اعلیٰ تعلیم کے شعبے کو بہت نقصان پہنچایا ۔ ڈاکٹر بنوری کی متعارف کرائی گئی پالیسیوں میں تجویزکردہ ایک حیران کن اقدام یہ تھا کہ پاکستان کو تعلیم کے ان تین مراحل بیچلرز، ماسٹرز اور پی ایچ ڈی کے لئے ان تقاضوں کو ترک کر دینا چاہیے جو بولوگنا پروٹوکول کے تحت مقرر ہیں حالانکہ زیادہ تر ممالک نے اعلیٰ تعلیمی قابلیت کیلئے اس بنیادی فریم ورک پر متفق ہیں اور اس پروٹوکول کا نام بولوگنا یونیورسٹی کے نام پر رکھا گیا تھا جہاں 1999 ء میں 29 یورپی ممالک کے وزرائے تعلیم نے اعلامیے پر دستخط کیے تھے۔ یہ فریم ورک” سیکھنے کے نتائج ، طلباء اپنی ڈگری مکمل کرنے کے بعد کیا جانتے ہیں اور کیا کر سکتے ہیں؟” کے لحاظ سے تعلیمی قابلیت کا تعین کرتا ہے۔ یہ فریم ورک ان تین مراحل اور اوقات کا بھی تعین کرتا ہے جن کے تحت طلبا کے بیچلرز، ماسٹرز اور پی ایچ ڈی کی ڈگریوں کے اہل بنتے ہیں ۔ ہم سب اچھی طرح جانتے ہیں کہ بیچلر ڈگری کے ساتھ کالجوں سے پاس آئو ٹ ہونے والے ہمارے طلبا کا معیار کیا ہوتا ہے؟ان سے ماسٹر ڈگری کے بغیر براہ راست پی ایچ ڈی پروگرام میں جانے کی توقع رکھنا ناقابل فہم بات ہے چنانچہ اگر اس پر عمل درآمد ہوتا تو پاکستان سے پی ایچ ڈی کی اہمیت ختم ہو جاتی یہی وجہ ہے کہ بھوربن کے اجلاس میں سابق چیئرمین کی تجویز کردہ ان پالیسیوں کو تقریباً متفقہ طور پر مسترد کیا گیا۔وائس چانسلرز کویہ بھی شکایت تھی کہ سٹیک ہولڈرز کے ساتھ کوئی مشاورت نہیں کی گئی اور وائس چانسلرز کی کمیٹی کے سامنے معاملے کو لائے اور اس کی تجاویز حاصل کیے بغیر پالیسی میںبنیادی تبدیلیاں لائی گئی تھیں۔ اسی طرح ایسوسی ایشن آف پرائیویٹ سیکٹر یونیورسٹیز آف پاکستان نے بھی ان نئی پالیسیوں کو یکسر مسترد کر دیا تھا۔ ان پالیسیوں کے نتیجے میں اعلیٰ تعلیم کے عمل کو ایک اور بڑا نقصان یہ پہنچاکہ ایچ ای سی کی طرف سے نوجوان تدریسی عملے کیلئے ریسرچ گرانٹس تقریباً روک دی گئیں۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ ہزاروں نوجوان فیکلٹی ممبران جنہوں نے اپنے کیریئر کے ابتدائی مراحل میں ان گرانٹس پر انحصار کیا تھا وہ ریسرچ فنڈ سے محروم ہوگئے تھے۔تاہم خوش قسمتی سے ایچ ای سی اب بحالی کی طرف گامزن ہے اور سابق چیئرمین کی برطرفی کے بعد کئی مثبت چیزیں رونما ہوئی ہیں۔ سب سے پہلے حکومت نے یونیورسٹیوں کے آپریشنل بجٹ میں 15 ارب روپے کے اضافے کا اعلان کیا ہے۔اس سے پہلے ایچ ای سی کاتقریبا ً15 ارب روپے کا بجٹ منجمد کر دیا گیا تھا کیونکہ سابق چیئرمین نے بجٹ میں اضافے کی درخواست نہیں کی تھی اور وزارت خزانہ کو غلط بتایا کہ یونیورسٹیوں کے پاس وافر فنڈز ہیں۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ مہنگائی، تنخواہیں بڑھنے، بجلی، گیس اور پیٹرول کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے اور آلات کی درآمد کے لیے درکار غیر ملکی کرنسی کی قدر میں 40 فیصد اضافے کی وجہ سے یونیورسٹیوں کے بجٹ میں عملاً70 فیصد سے زائد کمی ہوئی ہے۔اسی طرح اندرون ملک اور بیرون ملک بہترین ٹیلنٹ کو راغب کرنے کے لیے تقرریوں کے لئے” ٹینور ٹریک سسٹم ”کو بحال کیا گیاہے۔ ٹینور ٹریک سسٹم کے تحت تعینات بہترین کارکردگی دکھانے والوں کے لیے تنخواہ میں 100 فیصد اضافہ ہوگا – حکومت نے وزیر اعظم کی سربراہی میں نالج اکانومی ٹاسک فورس کے تحت وضع کردہ منصوبوں کے لیے فنڈز فراہم کرکے سائنس، ٹیکنالوجی اور جدت کو فروغ دینے کا فیصلہ کیا ہے ۔ ملک بھر کے سائنسی اداروں میں تقریبا ً100 ارب روپے کے منصوبوں کی فنڈنگ جاری ہے۔ یہ منصوبے پاکستان کے سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبے میںنمایاں تبدیلی لائیں گے۔ چونکہ نئے عالمی نظام میں جدت ہی معیشتوں کو آگے بڑھا رہی ہے اور پاکستان بھی صرف اسی صورت میں تیزی سے ترقی کر سکتا ہے جب وہ علم پر مبنی مضبوط معیشت کو فروغ دے چنانچہ اس کے لیے ملک کو اعلیٰ ٹیکنالوجی اشیا ء کی تیاری اور برآمد کا اہل ہونا چاہیے۔(بشکریہ، دی نیوز، ترجمہ :راشد عباسی)