عالمی ساہوکاروں کا ایجنڈا ملکی بقا اور سلامتی کے لیے خطرہ

ٹی وی چینلوں کی خبروں اور تبصروں کے مطابق قومی سلامتی کے اجلاس میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بتایا کہ تحریکِ طالبان پاکستان کے بارے میں ہمارے دو آپشنز ہیں۔ ایک مذاکرات اور دوسرا عسکری ایکشن لیکن پاکستان کی صورتحال تحریکِ طالبان پاکستان کے خلاف عسکری ایکشن کی اجازت نہیں دیتی۔ اس پوری صورتحال سے پتا چلتا ہے کہ آرمی چیف خطے کے بد سے بدتر ہونے والے حالات سے واقف ہیں کہ امریکا اور بھارت منصوبے تیار کر رہے ہیں کہ کسی نہ کسی طرح پاکستان میں اندرونی خلفشار برپا کرنے کی کوشش میں ہیں تاکہ پاکستان میں خانہ جنگی بھڑک اْٹھے جس سے پاکستان کے شمالی علاقے اور بلوچستان دہشت گردی کی آماجگاہ بن جائیں۔چند دن قبل چینی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ چین کے عوام چھے ماہ کا راشن ذخیرہ کر لیں اور ساتھ ہی یہ اعلان کیا گیا کہ کسی بھی دکان یا شاپنگ سینٹر میں اشیا ء کے بھائو میں اضافہ کیا گیا تو اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ گلوبل نیٹ ورک ملٹری چینل ہندوستان کی ”یوریشیا ٹائمز” کی ویب سائٹ کے مطابق، ہندوستان اور روس کے تعاون سے تیار کردہ ”براہموس میزائل” کے مزید جدید ورڑن کو تیار کرنے کے بعد 2025ء کے بجائے فوری طور پر لداخ اور ارونچل پردیش کی چینی سرحد پر تعینات کر دیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق میزائلوں کی موجودہ ”براہموس” سیریز روس اور ہندوستان کا مشترکہ منصوبہ ہے اور یہ دنیا کا تیز ترین سْپرسونک کروز میزائل مانا جاتا ہے جس کی رفتار تقریباً 3 میک تک (1میک مطلب آواز کی رفتار کے برابر) ہے۔ اس وقت یہ میزائل ہندوستانی مسلح افواج کے جنگی پلیٹ فارم پر نصب ہے۔ مستقبل کے ہائپرسونک میزائل ماڈل کے براہموس میزائل کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کی رینج 600 کلومیٹر تک ہے۔ تاہم بھارتی عسکری ماہرین کا کہنا تھا کہ میزائل کی اصل رینج ایک ہزار کلومیٹر سے تجاوز کر سکتی ہے اور یہ میک 8 پر پرواز کر سکتا ہے۔ اس سلسلے میں بھارت کا کہنا ہے کہ چین کو چین کے اندر گھس کر ماریں گے لیکن چین کا سْپرسونک کروز میزائل بھارتی میزائل سامنا کر ے گا تو بھارت کو اپنی اوقات کا اچھی طر ح علم ہو جائے گا۔ بھارت نے لداخ ارونچل پردیش اور دیگر چینی سرحد پر 100 سے زائد میزائل نصب کر رکھے ہیں جن میں Sـ400 جس کو دنیا کا سب سے زیادہ محفوظ دفاعی میزائل نظام کہا جاتا ہے۔بھارت نے اینٹی 6 میزائل سسٹم پاکستان اور چین کی سرحد پر نصب کر دیا ہے اس کی رینج 200کلو میٹر ہے اور اس میں 6لانچرز ہیں جن کی مدد سے 43منٹ میں 72 میزائل فائر کیے جا سکتے ہیں، اس کے علاوہ بھارت نے اسمرچ راکٹ میزائل بھی نصب کر رکھا ہے اس کی رینج 90کلو میٹر ہے اس سے 40منٹ میں 48میزائل فائر ہو سکتے ہیں۔
بھارت اور چین کے درمیان تنائو اور جھڑپوں کی خبریں اب بھی عالمی میڈیا میں زیر بحث ہیں۔ بھارتی فوج کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں ملک مذاکرات کا راستہ کھلا رکھنا چاہتے ہیں اور ان جھڑپوں سے بات چیت کے عمل کو خراب نہیں ہونے دینا چاہتے۔ تاحال دونوں ملکوں کے درمیان کئی بار فوجی سطح پر رابطے اور بات چیت ہوئی ہے لیکن ان سے تعلقات میں کوئی بڑی بہتری نہیں آسکی۔ انڈیا اور چین کے فوجی اس متنازع سرحد پر اب بھی کئی مقامات پر آمنے سامنے ہوتے ہیں جس سے کسی جھڑپ کے خدشات بڑھ جاتے ہیں۔ لائن آف ایکچوئل کنٹرول پر اس طرح کی غیر مستحکم صورتحال ہو تو ایسی جھڑپوں کو روکا نہیں جاسکتا۔ وہ سمجھتے ہیں کہ دونوں ملکوں کو بات چیت جاری رکھنی چاہیے کیونکہ کوئی بھی جنگ نہیں چاہتا، محدود انداز میں بھی نہیں۔ اس بار بھی وہی علاقہ تنازعے کا مرکز ہے جہاں 1962 میں دونوں کے درمیان جنگ بھی ہوچکی ہے اور چین کا دعویٰ ہے کہ اس جنگ میں اس نے بازی ماری تھی۔ گزشتہ چند برسوں میں بھارت کی جانب سے سرحدی علاقوں میں تیزی سے کیے جانے والے تعمیراتی کام کو بھی تنازعے کی بڑی وجہ بتایا جاتا ہے۔ لدا خ تنازعے کی بڑی وجہ گزشتہ چند سال میں بھارت کے سرحدی علاقوں میں تیزی سے ہوتا تعمیراتی کام بھی ہوسکتا ہے۔ سڑکوں کی تعمیر ایک بڑی وجہ ہے۔ عام طور پر جس وادی میں امن و امان رہتا ہے آج وہی گلوان وادی ہاٹ اسپاٹ بن چکی ہے کیونکہ یہاں پر ایل اے سی ہے جس کے پاس بھارت نے شیوک ندی سے دولت بیگ اولڈی (ڈی بی او) تک ایک سڑک تعمیر کرلی ہے۔ پورے لداخ کے ایل اے سی کے علاقے میں یہ سب سے مشکل علاقہ ہے۔ بھارت کی چین سے بے چینی کی ایک اور وجہ چینی فوج کا رینگتے ہوئے آگے بڑھنا ہے۔ چینی دھیرے دھیرے اپنی کارروائیوں کے ذریعے متنازع علاقوں کو اپنے زیر کنٹرول علاقے میں شامل کر لیتے ہیں۔
چین اور بھارت کی سرحد پر جاری یہ کشیدگی اس بات کا مطالبہ کر رہی ہے کہ پاکستان میں کسی بھی قسم کا فساد برپا نہ کیا جائے۔