مشرقیات

آلودگی سے ہم جان کس طرح چھڑائیں کہ یہاں کسی کو اس حوالے سے رتی بھر بھی علم نہیں ہے،خدا کے بندوں کو آگاہ کرنے کے لئے ہمارے ہاںکی سرکار بھی دلچسپی نہیں لے رہی۔دنیا کے سارے چاچے مامے امیر وغریب ممالک کے تمام حکمران سکاٹ لینڈ کے شہر گلاسگو میں دو ہفتوں سے سر جوڑے بیٹھے ہیں کہ زمین پر سانس لینا مشکل سے مشکل ہورہا ہے تو اس کا فوری اور دیر پا حل کیا ہے؟
پہلے یہ جان لیںکہ موسمیاتی تبدیلی جس کا پیش خیمہ آلودہ ماحول بنا ہے کس طرح غریب ممالک کے کروڑوں لوگوںکوبیما ر کئے ہوئے ہے،اپنے آس پاس بیٹھے بچوں کی کھانسی،آنکھوںکی جلن،گلے کی خراش اور بے موسم کے زکام
بخار کی حالت زار نوٹ فرما لیں ، اس کی وجوہات میں سب سے بڑی وجہ آلودہ ماحول ہے۔ہمارے ہاںکے تمام بڑے شہروںمیں یہ آلودگی خطرناک حدتک بڑھ چکی ہے،سکول جانے والے بچوں کی بڑی تعداد اس سے شدید متاثر ہو رہی ہے۔ بھارت میں تو دہلی کو اس آلودگی کے باعث دھند نے مستقل طور پراپنی لپیٹ میںلیا ہوا ہے،اب مسلہ یہ ہے کہ اس نے موسموں کو بھی الٹ پھیر سے دوچار کردیا ہے ،گیسوں کے بے تحاشا اخراج کے باعث یہ زمین اتنی گرم ہو چکی ہے کہ گرمی تو گرمی لوگ اب سردی میں بھی پنکھے چلا نے پر مجبور ہوئے ہیں،المناک صورت حال یہ ہے کہ اس موسمیاتی تبدیلی سے دنیا کو دوچار کرنے کے ذمہ دار امیر ممالک ہیں اور انہوں نے ہی اب اس کے سامنے بند باندھنا ہے تاہم سرمایہ دارانہ نظام کے یہ خوشہ چیں کسی بھی صورت مال کمانے کے ہتھکنڈوں سے دست بردار ہونے کو تیا رنہیں۔بقول اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے یہ امیر ممالک صر ف تین کام کر لیں تو دنیا کے سات ارب سے زیادہ انسانوںکو موسمیاتی تبدیلی کے باعث ہونے والی تباہی سے بچایا جا سکتا ہے۔یہ تین کام کیا ہیں،پٹرول،گیس اور کوئلے کی کھپت یااستعمال کم سے کم کرکے ہم آب وہواکو مزید زہریلاہونے سے بچا سکتے ہیں تاہم کوئی ایک بھی امیر ملک ان تینوںتوانائی کے حامل قدرتی وسائل سے دست بردارہونے کو تیا ر نہیں ہے ،کوئلے کے استعمال کے بارے میں تو پھر بھی دنیا تقریباً یکسو ہے تاہم پٹرول اور گیس کے استعمال کو چھوڑ دینا تو دورکی بات کم کرنے کو بھی فی الحال کو ئی تیار نظر نہیں آ رہا،ایسے میں دنیا کے غریب غربا کوئی پرسان حال نہیں ہے اور ہم جیسے ترقی پذیر ممالک اپنی بے خبری میں موسمیاتی تبدیلی کے رحم وکرم پر ہیں۔