ڈیجیٹل سکلز ٹریننگ پروگرام اہم پیشرفت

خیبر پختونخوا کی حکومت آٹھ ارب روپے کی لاگت سے نوجوانوں کو جدید انفارمیشن ٹیکنالوجی کی تربیت کا دو سالہ منصوبہ تشکیل دے چکی ہے، جس کا اعلان وزیر برائے سائنس و انفارمیشن ٹیکنالوجی عاطف خان نے گزشتہ روز ڈیجیٹل یوتھ سمٹ 2021ء کے حوالے سے منعقدہ تقریب میںکیا، صوبائی حکومت کی طرف سے نوجوانوں کی فلاح کو مدِنظر رکھ کر تشکیل دیا جانے والا منصوبہ قابلِ تحسین ہے، اس پروگرام سے مستفید ہونے والے نوجوانوں کو ملکی اور غیر ملکی سطح پر روزگار کے مواقع مل سکیں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے بغیر معاشی ترقی بہت مشکل ہے، آج کی ترقی یافتہ اقوام اس کی زندہ مثال ہیں ، دنیا ٹیکنالوجی کی بدولت برق رفتاری سے آگے بڑھ رہی ہے، ایسے ہی شفافیت کو برقراررکھنے کے لیے سارا نظام پیپر لیس ہو کر ڈیجیٹل ٹیکنالوجی پر منتقل ہو چکا ہے، دنیا کی ترقی کے تناظر میں دیکھا جائے تو ہم بہت پیچھے ہیں، ہمارے پڑوس میں بھارت ہم سے ٹیکنالوجی میں بہت آگے ہیں، اس حوالے سے اگرچہ ہمیں بہت پہلے توجہ دینی چاہیے تھی مگر”دیر آید درست آید” کے مصداق اگر صوبائی حکومت نوجوانوںکو ڈیجیٹل سکلز ٹریننگ دینے کا پروگرام بنا چکی ہے ، تو اس کی تحسین کی جانی چاہیے اور امید کی جانی چاہیے کہ صوبائی حکومت کی سرپرستی میں شروع ہونے والا یہ عظیم منصوبہ پایہ تکمیل کو پہنچے گا۔ اس منصوبے سے نہ صرف نوجوانوں کو روزگار کے وسیع مواقع میسر آئیں گے بلکہ ملک کی مجموعی معیشت کو آگے لے جانے میں اہم کردار ادا کرے گا، تربیت یافتہ ایک لاکھ نوجوان مزید لاکھوں افراد کو ڈیجیٹل تربیت فراہم کرنے کا ذریعہ بنیں گے۔
طالبات کو تحفظ فراہم کرنے کی ضرورت
پشاور یونیورسٹی میں طالبات کے ساتھ چھیڑ چھاڑ اور ہراسگی کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، طالبات نے اس حوالے سے یونیورسٹی انتظامیہ کو آگاہ کیا، مگر انتظامیہ کی طرف سے خاموشی اختیار کی گئی، طالبات نے دلبرداشتہ ہو کر سوشل میڈیا کا سہارا لیا اور یونیورسٹی میں پیش آنے والے واقعات کی تفصیلات شیئر کر کے باقاعدہ مہم شروع کر دی۔ سوشل میڈیا پر بات آنے کے بعد پشاور پولیس بیدار ہو گئی اور سی سی پی او پشاور نے طالبات کے ساتھ پیش آنے والے واقعات کا نوٹس لیتے ہوئے کارروائی کی ہدایت کر دی، یہ خوش آئند ہے۔
پشاور یونیورسٹی میں طالبات کے ساتھ پیش آنے والے نازیبا حرکات کے واقعات قابل مذمت ہیں، مگر انتظامیہ کی خاموشی سے کئی طرح کے سوالات پیدا ہوتے ہیں، کیونکہ والدین اپنی بچیوںکو تعلیمی اداروں میں بھیجتے ہوئے مطمئن ہوتے ہیں کہ وہاں کی انتظامیہ بچوں کی تعلیمی ضروریات کا خیال رکھنے سمیت انہیں ہر طرح کا تحفظ بھی فراہم کرے گی لیکن طالبات کی طرف سے شکایات کے باوجود پشاور یونیورسٹی انتظامیہ حرکت میں نہیں آئی۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ یونیورسٹی تعلیمی ضروریات پوری کرنے تک محدود ہو گئی ہے، طلباء وطالبات کی تربیت کی طرف کوئی توجہ نہیں دی جا رہی ہے، یہ طرز عمل کسی بھی اعتبار سے حوصلہ افزاء نہیں ہے۔ سوشل میڈیا پر بات آنے سے پہلے ہی اگر انتظامیہ کی طرف سے ناخوشگوار واقعات کا نوٹس لے کر طالبات کو تحفظ فراہم کرنے کی یقین دہانی کرا دی جاتی تو بہت بہتر ہوتا، مگر یونیورسٹی انتظامیہ نے دانستہ طور پر چپ سادھے رکھی ، جو یونیورسٹی کی نیک نامی کے لیے خطرناک ثابت ہو رہی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ یونیورسٹی میں طالبات کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے اور نازیبا حرکات میں ملوث افراد کے خلاف بھرپور کارروائی کی جائے تاکہ آئندہ کسی کو اس طرح کی حرکت کی جرأت نہ ہو۔
تمام سیاسی جماعتیں ضابطہ اخلاق کی پابند
پاکستان پیپلز پارٹی نے 30نومبر کو اپنے یوم تاسیس کے موقع پر پشاور کے کبوتر چوک میں جلسہ کرنے کا اعلان کیا ہے، جس میں پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری شرکت کریں گے، اس مقصد کے لیے پیپلز پارٹی کے خیبر پختونخوا کے انفارمیشن سیکرٹری امجد آفریدی نے درخواست کے ذریعے پشاور انتظامیہ سے جلسہ کی اجازت طلب کی تو پشاور انتظامیہ کی جانب سے جلسہ کو بلدیاتی انتخابات کے ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی قرار دے کر درخواست کو مسترد کر دیا گیا، حالانکہ محض ایک ہفتہ قبل حکمران جماعت تحریک انصاف پشاور میں سیاسی جلسہ کر چکی ہے، اس وقت بھی بلدیاتی انتخابات کا اعلان ہو چکا تھا، اب اگر تحریک انصاف کی حکومت اپوزیشن جماعتوں کو جلسہ کرنے سے روکے گی تو اس کا درست تاثر قائم نہیں ہو گا، اور ممکن ہے سیاسی جماعتیں بھی اس پابندی کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیں۔
حقیقت یہ ہے کہ انتخابات کے ضابطۂ اخلاق پر عمل کرنا حکومتی جماعت سمیت تمام سیاسی جماعتوں کے لیے ضروری ہے، فرق صرف یہ ہے کہ انتظامیہ حکمران جماعت کے تابع ہوتی ہے جسے حکمران جماعت اپنی مرضی کے مطابق استعمال کرتی ہے ، تحریک انصاف پر ہی کیا موقوف اس سے قبل مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی بھی ایسے ہی طرز عمل کا مظاہرہ کرتی آئی ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اب قول و فعل کے تضاد کی روایت ختم ہونی چاہیے، تمام جماعتوں کو انتخابی ضابطہ اخلاق کی پاسداری کا خیال کرنا چاہیے، وزیر اعظم عمران خان ماضی میں برملا کہتے رہے ہیں کہ وہ آزاد و خود مختار الیکشن کمیشن چاہتے ہیں ، اب ان کی حکومت ہے تو توقع کی جانی چاہیے کہ وہ ایسا راستہ اختیار کریں گے جس پر مخالف سیاسی جماعتوں کو انگلی اٹھانے کی نوبت نہیں آئے گی۔ اسی طرح اپوزیشن جماعتوں کو بھی ایسا راستہ اختیار کرنے سے گریز کی ضرورت ہے جو تصادم کا سبب بنتا ہو۔ خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کا شفاف اور پرامن انعقاد اسی صورت ہو مکمن ہو سکتا ہے جب تمام سیاسی جماعتیں ضابطۂ اخلاق کی پاسداری کریں گی۔