سیاسی عدم استحکام کا خاتمہ ناگزیر

حکومت و اپوزیشن کچھ امور کی بنا پر ایک بار پھر آمنے سامنے ہیں، دونوں جانب سے قائدین تنقید کے نشتر برسا رہے ہیں، بلکہ ملک گیر دو طرفہ جلسوں کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے، جس میں سیاسی قوت کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے ، پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم ) نے گزشتہ روزکراچی میں سیاسی قوت کا بھرپور مظاہرہ کیا ، جس میں پیپلز پارٹی کے سوا جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان ، پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کے محمود خان اچکزئی ، مسلم لیگ ن کے شاہد خاقان عباسی ، نیشنل پارٹی کے صدر عبدالمالک بلوچ اور دیگر قائدین نے شرکت کی، تاہم جلسے کے اختتام پر مولانا فضل الرحمان نے بلاول بھٹو اور میاں نواز شریف سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا ، اپوزیشن جماعتوں کے قائدین کے رابطوںکا بحال ہونا اس امر کی دلیل ہے کہ وہ حکومت کے خلاف دوبارہ صف آراء ہونے کی تیاری کر رہے ہیں، اس کا اظہار پی ڈیم ایم کی قیادت کراچی جلسے میں بھی کر چکی ہے۔ 17نومبر کو کوئٹہ اور 20 نومبر کو پشاور میں پی ڈی ایم کے زیر اہتمام جلسے کا اعلان کیا گیا ہے، مولانا فضل الرحمان نے اس موقع پر کہا کہ تحریک انصاف کی حکومت عوامی مسائل کو حل کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے، اس حکومت کو مزید وقت دینا ملک و قوم کے ساتھ زیادتی ہو گی۔ انہوں نے پی ڈی ایم کو قوم کی امید قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم ملک کی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ مولانا کے بقول ہم آئین کے تحفظ ، پارلیمنٹ کی بالادستی ، مہنگائی کے خاتمے کے لیے میدان میں نکلے ہیں جب کہ شاہد خاقان عباسی نے ملک کو بحران سے نکالنے کا واحد حل نئے انتخابات کو قرار دیا ۔ طرفہ تماشا تو یہ ہے کہ حکمران اتحاد میں شامل جماعتیں بھی تحفظات کا اظہار کر رہی ہیں، جس کی وجہ سے بظاہر ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ تحریک انصاف کی مشکلات بڑھ گئی ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ سیاسی جماعتوں کے آپسی اختلافات کے باعث ملک کے اندر سیاسی عدم استحکام کی صورت حال پیدا ہو گئی ہے، جو موجودہ حالات میں تشویشناک ہے، کیونکہ تحریک انصاف کی حکومت کو اس وقت شدید مالی مسائل کا سامنا ہے، بیرونی قرضوں میں کئی گنا اضافہ ہو چکا ہے ، ڈالر کی قیمت میں اضافے سے روپیہ اپنی قدر کھو چکا ہے، جس سے مہنگائی میں بے پناہ اضافہ ہو چکا ہے، مسائل سے چھٹکارے کے لیے دور دور تک کوئی سبیل دکھائی نہیں دے رہی ہے۔ ایسی صورتحال کا تقاضا تو یہ تھا کہ سیاسی جماعتیں مشکل حالات میں بالغ نظری کا مظاہرہ کرتیں ، اور آپسی اختلافات کو پس پشت ڈال کر باہمی یکجہتی اور تعاون سے ملک کو مشکل صورت حال سے باہر نکالتیں مگر افسوس سیاسی جماعتیں پوائنٹ سکورنگ سے بالا ہو کر سوچنے کے لیے تیار نہیں ہیں ۔ ایک لمحے کے لیے سوچئے، اگر اپوزیشن کی تحریک کے نتیجے میں تحریک انصاف کی حکومت کا خاتمہ ہو جاتا ہے تو کیا اس سے ملک کے مسائل بھی ختم ہو جائیں گے؟ ہر گز نہیں ، کیونکہ اپوزیشن کے اقدام سے ملک مزید سیاسی عدم استحکام کا شکار ہوجائے گا ، اور عین ممکن ہے اس عدم استحکام کے نتیجے میں ہم مسائل کی ایسی دلدل میں پھنس جائیں جس سے چھٹکارا آسان نہ ہو، حکومت گرانے کی تحریک میں شامل سیاسی جماعتوںکو یہ بھی سوچنے کی ضرورت ہے کہ حکومت کے خاتمے کے بعد بھی اگر مسائل حل نہ ہوئے تو اس کا ذمہ دار کون ہو گا؟
امر واقعہ یہ ہے کہ ترقی یافتہ اقوام جن میں امریکہ ، چین، روس ، برطانیہ وغیرہ شامل ہیں ، وہاں پر طویل المدتی منصوبہ بندی کے تحت جمہوریت رائج ہے انتخابات میں کامیاب ہونے والی جماعت کو بالعموم دو ٹنیور کا موقع دیا جاتا ہے تاکہ وہ اپنی حکمت عملی کے مطابق منصوبے تشکیل دے کر ان کی تکمیل کر سکے، معاشی امور کے ماہرین کی بھی یہی رائے ہے کہ ترقی کے لیے طویل المدتی منصوبہ بندی نہایت ضروری ہے، ہمارے ہاں اس کے برعکس ہو رہا ہے ، پانچ سال کے لیے منتخب ہو کر آنے والی حکومت کو کام کرنے کا ماحول نہیں ملتا ،جس کی وجہ سے اس کی آئینی مدت کا اکثر حصہ نان ایشوز میں ضائع ہو جاتا ہے، کیا یہ درست نہیں ہے کہ حکومت قائم ہونے کے ایک سال بعد ہی جواب طلبی کر کے حکومت کو ناکام قرار دینی کی روایت پائی جاتی ہے، متعدد جمہوری حکومتیں تو اپنی آئینی مدت بھی پوری نہیں کر سکی تھیں، جنہوں نے آئینی مدت پوری کی بھی تو انہیں سازگار ماحول نہ مل سکا۔ ہماری پسماندگی کی بنیادی وجہ سیاسی عدم استحکام ہے۔ جس کی ذمہ داری تمام سیاسی جماعتوں پر عائد ہوتی ہے۔ میثاق جمہوریت میں جمہوری حکومتوں کی مکمل سپورٹ اور کام کرنے کا پورا موقع فراہم کرنے کی بات کی گئی ہے، مگر سیاسی جماعتیں اس کی پاسداری کرنے کی بجائے منتخب حکومت کا دھڑن تختہ کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتیں، سیاسی جماعتوں کو اس حوالے سے سوچنا چاہیے کیونکہ اس طرح کے طرز عمل سے کوئی بھی جماعت حکومت کر سکتی ہے اور نہ ہی ہم جمہوریت کے ثمرات سے مستفید ہو سکتے ہیں۔