فیشن انڈسٹری دنیا کو تباہ

فیشن انڈسٹری دنیا کو تباہ کرنے کے درپے

ویب ڈیسک: ان تصاویر کو دیکھ لیں اورسوچیں کہ فیشن کی خطرناک حد تک اس ماحولیاتی قیمت کو نظر انداز کرنا ممکن ہے۔ یہ چلی کے صحرائے اتاکاما میں پھینکے گئے کم از کم 39,000 ٹن ضائع شدہ کپڑے ہیں۔


خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یہ مٹیریل زیادہ تر فاسٹ فیشن انڈسٹری سے بچ گیا ہے۔چلی کی بندرگاہ پر ہر سال تقریبا 59,000 ٹن کپڑے لائے جاتے ہیں۔ اس میں سے کم از کم 39,000 ٹن صحرا میں پھینک دئیے جاتے ہیں۔ پورٹ کے درآمدی علاقے میں ایک سابق ملازم الیکس کارینو نے بتایا کہ یہ کپڑے پوری دنیا سے آتے ہیں۔


انہوں نے کہا کہ چونکہ کسی نے اسے لے جانے کے لیے لاگوٹیرف ادا نہیں کیا اس لئے جو چیز نہیں بیچی جاتی اور نہ ہی دوسرے ممالک کو بھیجی جاتی ہے وہ فری زون میں رہتی ہے”۔ ایکو فائبرا کے بانی، فرینکلن زیپیڈا ایک کمپنی جو ضائع شدہ کپڑوں کا استعمال کرتے ہوئے انسولوشن پینل بناتی ہے، نے کہا: "مسئلہ یہ ہے کہ ان کپڑوں میں کیمیائی مصنوعات ہیں، اس لیے انہیں تحلیل نہیں کیا جا سکتا”، ورلڈ اکنامک فورم کے مطابق، فیشن انڈسٹری پوری انسانیت کے کاربن کے اخراج کا 10% پیدا کرتی ہے، پانی کی دوسری سب سے بڑی صارف ہے اور دنیا کی ساتویں بڑی معیشت ہے۔