اپوزیشن کی تحریک ناکام رہے گی؟

اپوزیشن کی تحریک کی حیثیت چائے کی پیالی میں طوفان سے زیادہ نہیں ہے۔ ملکی استحکام کا تقاضا ہے کہ انتخابات اپنے وقت پر ہوں ۔ چنانچہ بااثر حلقے حکومت کی پشت پرکھڑے ہیں اور 2023ء کے انتخابات کے انعقاد تک کھڑے رہیںگے۔ اپوزیشن نے آئی ایس آئی چیف کی تقرری کے معاملہ پر جو مؤقف اختیار کیا وہ حکومت اور فوجی قیادت کو دور کرنے کی کوشش تھی مگر وزیر اعظم نے اپوزیشن کے عزائم کو بھانپتے ہوئے بروقت ایک مستحسن فیصلہ کیا۔ آج مہنگائی کو بنیاد بناکر اپوزیشن جماعتیں حکومت اُلٹانا چاہتی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ حکومت کس طرح تبدیل ہو گی کیونکہ بقول فیض وصال یار فقط آرزو کی بات نہیں۔
حکومت تبدیل ہونے کی دو صورتیں ہیں۔ اول اِن ہائوس تبدیلی ہے۔ ہائوس کے اندر تبدیلی لانے کے لیے اپوزیشن کو حکومت کی اتحادی جماعتوں کا ساتھ درکار ہو گا۔ ایم کیو ایم کے 7اراکین ہیں جب کہ مسلم لیگ ق اور بلوچستان عوامی پارٹی دونوں کے پانچ پانچ اراکین اسمبلی میںموجود ہیں۔حکومت کی اتحادی جماعت جی ڈی اے کے تین اور عوامی مسلم لیگ کا ایک ووٹ حکومت کے ساتھ ہے ۔ اس لحاظ سے 21اتحادی اراکین کی حمایت تحریک انصاف کو حاصل ہے۔ مزید برآں جمہوری وطن پارٹی کا ایک اور دو آزاد اراکین بھی حکومت کی حمایت کر رہے ہیں۔ اس طرح 342کے ایوان میں تحریک انصاف کو 180اراکین کی حمایت حاصل ہے۔ ایم کیو ایم اور مسلم لیگ ق اپنی الگ حیثیت میں حکومت سے علیحدہ ہوتی بھی ہیں تو حکومت کی سادہ اکثریت پر فرق نہیں پڑتا البتہ یہ دونوں جماعتیں ، باپ اور جی ڈی اے مل کر حکومت کو گرا سکتی ہیں۔ اس صورت حال میں نئے دو سوالات کھڑے ہوںگے۔ پہلا سوال، یہ جماعتیں حکومتیں سے کیوںالگ ہونگی اور دوسرا سوال یہ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کیوں چاہے گی کہ ان جماعتوں کی حکومت سے علیحدگی کا الزام اس کے سر پر آئے۔ پہلے سوال کا جواب یہ ہے کہ حکومت سے علیحدگی کی ایسی کوئی وجہ دکھائی نہیں دیتی ، ق لیگ ، ایم کیو ایم اور باپ کا حکومت کے ساتھ کسی مسئلے پر کوئی بڑا اختلاف نہیں ہے۔ حصہ بقدر جثہ وزارتیں اُن کو ملی ہوئی ہیں ، پنجاب کی حد تک ق لیگ ڈی فیکٹو وزارت اعلیٰ کے مزے لے رہی ہے جب کہ باپ کو بلوچستان کی حکومت ملی ہوئی ہے۔ سندھ میں جی ڈی اے کے وفاقی وزراء کی بلے بلے ہے۔ کیا اسٹیبلشمنٹ پاکستان کی سب سے بڑی جماعت کو ناراض کرنے کا خطرہ مول لے گی۔ پہلے ہی اپوزیشن جماعتوں میں سے مسلم لیگ ن اور جمعیت علمائے اسلام نے فوج مخالف بیانیہ ترتیب دے رکھا ہے۔ لیگی قیادت کا فوج مخالف بغض عیاں ہے ، دریں حالات تحریک انصاف جیسی جماعت کو مخالف صف میں دھکیل دینا ایک غیر دانشمندانہ حرکت ہو گی ، چنانچہ اسٹیبلشمنٹ یہ صورت حال پیداہونے سے روکے گی ۔ اس تناظر میں میرے نزدیک اِن ہائوس تبدیلی کا کوئی امکان نہیں ہے۔
جہاں تک نئے انتخابات کا سوال ہے تو یہ وزیر اعظم عمران خان کے اعلان کی مرہون منت ہیں۔ جب تک عمران خان نہیں چاہیں گے نئے انتخابات کے قبل از وقت انعقاد کا سوال ہی پیدا نہیںہوتا۔ بعض احباب غلط فہمی کا شکار ہیں کہ عمران خان کو دبائو میں لا کر اپوزیشن نئے انتخابات کا اعلان کرانے میںکامیاب رہے گی۔ ماضی قریب کی اپوزیشن تحریکوں کا جائزہ لیا جائے تو ایساہونا بعید از قیاس نظرآتاہے۔ طاہر القادری کا لانگ مارچ اور دھرنا ہماری یادداشت میںابھی تازہ ہے۔ وہ جب اسلام آباد پہنچے تو انہوں نے باضابطہ اعلان کر دیا اور برملا کہا کہ سب ختم ہوگیا ہے۔ رات تمام ہوئی تو صبح ان کا مؤقف بدلا ہوا تھا۔ اس وقت گمان تھا کہ اسٹیبلمنٹ حکومت کی مخالف ہے لیکن یہ کسی کو بھی گوارا نہ ہواکہ مملکت خداداد پاکستان میں حکومت کی تبدیلی کا عمل اس طرح واقع ہو۔ نواز حکومت کے خلاف تحریک انصاف کا دھرنا 126دن جاری رہا اور انجام کار ڈی چوک کا محاصرہ اٹھانا پڑا۔ کسی مہم جوئی سے قبل اپوزیشن جماعتیں ان دھرنوں اورلانگ مارچوں کے انجام سامنے رکھیں۔ یہ بھی ذہن میںرکھیں کہ کل تک آپ اس طرح کی مہم جوئی کے خلاف تھے اور کہا کرتے تھے کہ یوںجتھوںکی لشکر کشی سے حکومتیں تبدیل نہیں ہو سکتیں۔ کل تک جو چیز حرام تھی آج وہ آپ کے لیے حلال کیسے ہو گئی ہے؟ جمہوریت صرف آپ کے اقتدار کے پانچ سال پورے کرنے کا نام نہیں، جمہوریت کا درس دیتے آپ کی زبانیںنہیںتھکتیں اور دوسری طرف عمل یہ ہے کہ آپ لشکر کشی کے ذریعے دوسری مرتبہ حکومت گرانے کی کوشش کرنے لگے ہیں۔ دوسری کوشش بھی کامیابی سے ہمکنار ہونے والی نہیں ہے البتہ اس کوشش میں آپ اپنی عزت ہی گنوائیں گے۔ آرمی چیف کی ایکسٹینشن کے قانون کی منظوری کیلئے ن لیگ نے ووٹ ڈالے اورجب وزیر اعظم عمران خان نے آئی ایس آئی چیف کے معاملے پر اصولی موقف اختیار کرتے ہوئے سمری طلب کی تو سول بالادستی کا بیانیہ سامنے رکھنے والے اصولی موقف کے ساتھ کھڑے نظر نہ آئے بلکہ انہوں نے کوشش کی کہ کسی طرح فوج کی قیادت اور حکومت کے تعلقات خراب ہوں۔ آج بھی اپوزیش کی تحریک میں شدت اسی وجہ سے آئی ہے کہ انہیںلگ رہا ہے کہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے مابین رخنہ پڑ چکا ہے اور وہ اس صورتحال کا فائدہ اٹھا سکتی ہے۔ یہ ہیں جمہوریت اور سول بالادستی کے نعرے لگانے والوں کے اصل چہرے ۔ ابن الوقتی اور نظریۂ ضرورت ان کے خمیر میں شامل نہ ہوتی تو آج پاکستان کاسیاسی نظام ایک بہتر اور خوبصورت شکل میں ہمارے سامنے ہوتا۔ انہوں نے 90کی دہائی میں پاور پالیٹکس کی بنیاد رکھی ، قوم آج تک ان کی غلطیوںکا خمیازہ بھگت رہی ہے ، آج پھر یہ جماعتیں اسی راستے پر گامنز ہیں ، آج ان کا ہدف تحریک انصاف کی حکومت ہے۔ آج لشکر کشائی کرنے والے کل کس منہ سے لشکر کشی کے خلاف لب کشائی کریں گے، یوں اس شیطانی سیاست کا دروازہ کھلے گا جو ملکی سیاست کی بنیادیں ہلا دے گی۔