قرض اور بھیک

بھیک مانگنے اور کھانے کا بھی اپنا ہی ایک نشہ اور خمار ہے۔ ایک بھکاری بھلے اپنی غیرت اور خودی کا گلا گھونٹ ڈالے لیکن بھیک مانگنے کی ذلت اور خواری سے کبھی پیچھا نہیں چھڑا پاتا۔ وقت کے ساتھ ساتھ بھیک کی لت ایک مجبوری بن جاتی ہے جس کی بڑی وجہ یہ ہے کے دوسروں سے حاجت روائی کا حریص انسان بتدریج اپنی تخلیقی توانائیاں کھو بیٹھتا ہے۔ بھیک میں ملا مالِ حرام ہی اسکا اوڑھنا اور بچھونا بن جاتا ہے یہاں تک کہ وہ محنت سے جی چرانے لگتا ہے اگرچہ اسے کام کاج کر کے روزی کمانے کے مواقع کیوں نہ میسر ہوں۔ اِسی انفرادی کردار کی اجتماعی قومی زندگی میں جھلک کا دوسرا نام جمود ہے۔
چند روز پہلے اخبارات کی ایک سرخی نظر سے گزری۔ خبر ہمارے ہاں اندرونی اور بیرونی ذرائع سے حاصل کردہ ان قرضوں سے متعلق تھی جو کہ تعمیر و ترقی کے نام پر لیے گئے۔ ترقی تو خیر ہم کیا کرتے ہمارے ہاں تو جاری اخراجات کا خسارہ آج تک پورا نہ ہو پایا۔ ہماری وزارت مالیات کی سینٹ میں جمع کروائی گئی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق اگست2021تک ہمارے مجموعی اندرونی و بیرونی قرضوں کا حجم 41000بلین روپے ہے۔ خبر کی تفصیلات میرے سامنے تھیں کہ ہمارے وزیراعظم صاحب کے اپنے انتخاب سے پہلے کہ یہ الفاظ میرے کانوں میں گونجنے لگے: میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ پاکستان کبھی ۔۔۔ کبھی کسی سے بھیک نہیں مانگے گا۔”وزیراعظم صاحب نے واقعی ہمیں یہ شعور اور آگہی عطا فرمائی کہ اغیار سے بلاضرورت اور بیجا حاجت روائی کا کسب بالآخر قومی غیرت اور ملی حمیت کی موت پر منتج ہوتا ہے۔
اچھے خیالات و نظریات ہمیشہ اپنے عملی اظہار کے متقاضی ہوتے ہیں۔ عمل میں نہ جھلکنے والے اچھے خیالات کی حقیقت ایک سراب سے زیادہ اور کچھ نہیں جو خواب تو جگاتا ہے لیکن تعبیر سے کبھی ہمکنار نہیں کر پاتا۔ آئیے اپنی وزارت مالیات کی سینٹ میں پیش کردہ رپورٹ سے چند ایک خوشے مزید چنتے ہیں۔ کہا گیا ہے کہ گزشتہ تین سالوں کے دوران ہمارے مجموعی اندرونی قرضوں کے حجم میں 10000بلین روپے کا اضافہ ہوا۔ یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ پیداوار کے اندرونی ذرائع کی بڑھوتری کے بغیر جب حکومت اندرونی مالی اداروں سے قرض لیتی ہے تو اس سے انفلیشن یعنی اشیائے صرف کی قیمتوں میں اضافے کا رجحان عام ہوتا چلا جاتا ہے۔ رپورٹ میں مزید انکشاف یہ کیا گیا کہ جون 2018تک ہمارے مجموعی بیرونی قرضوں کا حجم8000بلین روپے تھا جو کہ اگست2021تک بڑھ کے 14000بلین روپے ہو گیا۔ اس کا سیدھا سادہ مطلب یہ ہے کہ گزشتہ تین سالوں میں ہمارے بیرونی قرضوں میں6000بلین روپے کا ہوشربا اضافہ ہوا جو کہ گزشتہ تمام ادوار کے مجموعی بیرونی قرضوں کا 75فیصد بنتا ہے۔ نوٹ کیجیے گا کہ بیرونی قرضوں کا یہ فیصدی تناسب ہمارے حصول آزادی کے بعد اب تک کے شمار کیے گئے مجموعی سالوں کے کم و بیش برابر ہے۔
ہمارے استدلال پر یہ اعتراض ممکن ہے کہ ہم قرض اور بھیک میں واضح فرق کو پیش نظر رکھے بغیر دونوں کو خلط ملط کرتے ہوئے تبصرہ آرائی میں مصروف ہیں۔ ہمارے خیال میں دونوں ہی نشہ آور ہیں اور دونوں کا ہدف انسان کی عزت نفس اور خوداری ہے۔ ان مشترک صفات سے قطع نظر قرض کی بھیک کی نسبت ایک زائد خاصیت یہ ہے کہ بھیک میں ملا مال واپس نہیں کرنا پڑتا جبکہ قرض ایک متعینہ مدت کے بعد سود سمیت لوٹانا بھی پڑتا ہے۔ ہم اپنے اندرونی مالی خساروں کو کچھ کم کر پائیں تو نشے کی لعنت سے چھٹکارا ممکن ہو ورنہ ہم سود سمیت لوٹایا جانے والا قرض بھی بھکاریوں کی طرح مانگتے ہی چلے جائیں گے۔
مالی خسارہ کم کرنے کی ایک ترکیب اندرونی ذرائع دولت کی افزائش ہے۔ کسی بھی ملک کا سب سے زیادہ قیمتی اثاثہ اسکے ہنر مند افراد ہوتے ہیں۔ اللہ کا لاکھ شکر ہے ہم معاشی ناہمواریوں کے لا تعداد کچوکے سہنے کے باوجود تاحال قحط الرجال میں مبتلا نہیں۔ ہمارے نوجوان اپنی تمام تر مشکلات کے باوجود محنت کے خوگر اور جذبہ حب الوطنی سے سرشار ہیں۔ ہمیں صرف اپنے نوجوانوں کی صلاحیتوں سے بھرپور استفادے کے لیے جامع منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ ہمیں اپنی توجہ نوجوان نسل کو مناسب ہنر کی ترسیل کے ساتھ ساتھ چھوٹی صنعتوں اور تجارتی سرگرمیوں کے فروغ پر مرکوز رکھنی چاہیے۔ چھوٹی صنعتوں اور کاروباری سرگرمیوں کے فروغ سے ہمارے نوجوانوں کو روزگار کے مواقع ملیں گے جن سے ایک جانب تو یہ نوجوان اپنا اور اپنے اہل خانہ کا بوجھ سہارنے کے قابل ہونگے اور دوسری جانب ملک کے پیداواری عمل کو بھی فروغ دینے کا باعث ہونگے۔ چھوٹی پیداواری صنعتوں کے فروغ سے ہمارے ہاں ملکی اشیائے صرف کے استعمال کا کلچر بتدریج جڑ پکڑے گا جس سے ملک کے مالی خسارے کو کنٹرول کرنے میں مدد ملے گی۔