حکومت اور حزب اختلاف کی کشمکش

سپیکر قومی اسمبلی کے خط کے جواب میں قائد حزب اختلاف نے بالواسطہ مذاکرات کی پیشکش کوبالحکمت رد کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ایک مکمل پیکج کی صورت میں انتخابی اصلاحات کے لئے نئی پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی جائے واضح رہے کہ اسپیکر قومی اسمبلی نے زیر التواء قانون سازیوں بشمول الیکٹرانک ووٹنگ مشین(ای وی ایم)اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لئے آئی ووٹنگ سے متعلق پر بات چیت کے لئے اپوزیشن جماعتوں کو مدعو کیا تھا۔اپنے خط میں اسپیکر نے اپوزیشن کو پارلیمانی کمیٹی برائے قانون سازی امور کو متحرک کرنے کی تجویز دی تھی، کمیٹی انہوں نے حکومت کی جانب سے 10 جون کو اپوزیشن ارکان کی عدم موجودگی میں قومی اسمبلی میں پیش کردہ21بلوں پر غور کے لئے بنائی تھی۔تاہم اپوزیشن پارٹیوں نے اسپیکر کی تجویز مسترد کردی تھی اور کہا تھا کہ کمیٹی مقررہ قانون سازی کے طریقہ کار پر عمل کیے بغیر اور تین اجلاس منعقد کرنے کے باوجود تشکیل دی گئی، حکومتی اراکین کی حمایت نہ ہونے کی وجہ سے یہ اپنے طریقہ کار کے دائرہ اختیار کے لئے اپنے ٹرمز آف ریفرنس کو بھی حتمی شکل نہیں دے سکی۔شہباز شریف نے تجویز دی ہے کہ پارلیمانی کمیٹی کی تشکیل اسی طرح کی کمیٹی کی بنیاد پر ہونی چاہیے جو جولائی 2014میں اس وقت کے اسپیکر ایاز صادق نے انتخابی اصلاحات کے پیکیج پر غور اور منظوری کے لئے بنائی تھی۔دوسری جانب وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے اعلان کیا ہے کہ حکومت انتخابی اصلاحات پر اقدامات واپس نہیں لے گی، خواہ وہ اس پر اتفاق رائے نہ بھی کرسکیں۔اپنی ٹوئٹ میں ان کا کہنا تھا کہ انتخابی اصلاحات عمران خان یا تحریک انصاف کا ایجنڈا نہیں ہے یہ ایک قومی ایجنڈا ہے۔وزیر اطلاعات کے اس بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے مریم اورنگزیب نے الزام عائد کیا کہ وزیراعظم عمران خان نے ہر قومی ایجنڈے کو متنازع بنادیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ملک کی ہر سیاسی جماعت انتخابی اصلاحات چاہتی ہے لیکن عمران خان صرف آئندہ انتخابات چرانا چاہتے ہیں۔جاری صورتحال اور سیاسی مدوجذر سے کسی طور پر نہیں لگتا کہ یہ بیل منڈھے چڑھ پائے گی قبل ازیں حکومت کی جانب سے حزب اختلاف کو یکسر نظر انداز کرنے کی پالیسی حاوی رہی اور اب گزشتہ روز ایوان میں حکومت کو رائے شماری میں ناکامی ‘ پارلیمان کا اجلاس حکومت کی طرف سے خود طلب کرکے خود ہی ملتوی کرنے اور حکومتی اتحادیوں کی سرد مہری اختیار کئے جانے کے بعد اب حزب ا ختلاف کا پلڑا بھاری ہونے کا تاثر ہے جو اب ترکی بہ ترکی جواب دے کر حساب کتاب بقایا جات سمیت چکانے کے موڈ میں ہے اس ضمن میں حزب اختلاف کی منتشر جماعتوں میں گاڑھی چھننا بھی ایک وجہ ہے ۔حکومت اور اپوزیشن کے درمیان جاری حالیہ مڈ بھیڑ کے بعد ملک کا سیاسی درجہ حرارت بڑی تیزی سے بڑھنے لگا ہے،حزبِ اختلاف کی سرگرمیوں اور رابطوں کا سلسلہ پروان چڑھ رہا ہے تو حکومتی ایوانوں میں بھی دوڑ دھوپ دکھائی دے رہی ہے ہم اس امر کا بار بار اعادہ کرتے آئے ہیں کہ ایسے ہر اقدام سے گریز کرنا چاہئے،جو سیاسی کشیدگی میں اضافے کا باعث بنے، ملک کے آئین و قانون سے متصادم ہو یا پھر کسی طرح بھی صحت مندانہ سیاسی و جمہوری روایات کو مجروح کرتا ہو۔اس طرح کی صورت حال کسی طور بھی باعث ِ اطمینان نہیں ہو سکتی،جس میں سیاسی تنائو اس حد تک بڑھ جائے کہ امور ریاست کی بطریق احسن انجام دہی مشکل دکھائی دے رہی ہو۔جمہوری سیاست کاری سیاست دانوں اور جماعتوں کا حق ہے جبکہ حکومت سازی کا اختیار منتخب نمائندوں کی اکثریت کے پاس ہوتا ہے حکومت اور اپوزیشن جب تک دونوں ایک دوسرے کے حق و اختیار کا پاس نہیں کریں گے معاملات خوش اسلوبی کے ساتھ چلانا ممکن نہیں مناسب ہو گا کہ حکومت اور اپوزیشن اپنے اپنے دائرے میں رہیں،تمام سرگرمیاں آئینی حدود کے اندر رکھی جائیں،ایک دوسرے کو نیچا دکھانے یا نیچے گرانے کے لئے زور لگانے کے بجائے مسائل کے حل کے لئے توانائی اور طاقت صرف کی جائے۔اپوزیشن جماعتوں نے ملتوی ہونے والے ایک مشترکہ اجلاس سے قبل اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ وہ مل کر پارلیمان کے اندر بھرپور کردار ادا کریں گے اور حکومتی سازش کو روکنے کے لئے تمام قانونی اور سیاسی اقدام اٹھائیں گے۔دوسری جانب حکومتی وزرا یہ موقف اختیار کیے ہوئے ہیں کہ اس مجوزہ بل میں شامل شقیں جیسا کہ بیرون ممالک مقیم پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دلوانااور آئندہ عام انتخابات میں الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کا استعمال وغیرہ درحقیقت ملک میں انتخابی عمل کو شفاف بنانے کی غرض سے ہیں اورشفافیت پر مبنی یہی اقدامات اپوزیشن کو پریشان کئے ہوئے ہیں۔یہ عوامل اور تحفظات ایسے نہیں جن پر مفاہمت نہ ہوسکے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومتی ایوانوںاور اپوزیشن بنچوں پر بیٹھے سیاست دان تدبر کا مظاہرہ کرتے ہوئے مسائل کا حل نکالیں کیا ہی بہتر ہو گا کہ قومی ہم آہنگی کے فروغ کے لئے محترم وزیراعظم اور ان کے ساتھی پہل کریںاور حزب ا ختلاف کو براہ راست مذاکرات کی دعوت دی جائے۔