”وہ”جانے اور”وہ”جانے

ہم ایسے تاریخ و سیاسیات اور صحافت کے طالبعلم تو چند ماہ و سال سے نہیں بلکہ عشروں سے یہ عرض کرتے چلے آرہے ہیں کہ ہمارے پالیسی سازوں کو اپنے لوگوں کے مصائب کا اندازہ ہی نہیں یہ قرض کی پینے اور فاقہ مستی کے رنگ لانے کی دعائیں بتاتے ہیں حکومت کسی کی بھی ہو یہ مالیاتی جادوگر ایسے ایسے خواب بیچتے ہیں کہ بس رہے نام خدا کا ۔ پیپلز پارٹی میں ہزار خرابیاں ہوں گی لیکن اس کی سب سے بری عادت یہ ہے کہ یہ اپنے دور میں عام آدمی اور ملک کیلئے کچھ نہ کچھ کرتی رہتی ہے پڑوسیوں خصوصا چین اور ایران سے بہتر تعلقات کے ساتھ خارجہ پالیسی میں بھی توازن قائم کرتی ہے اس پارٹی کو بہ امر مجبوری راستہ دینے والے روز اول سے ہی اس پر” کارندے چھوڑ”دیتے ہیں تاکہ خوبیاں اور کارکردگی دونوں زہریلے پروپیگنڈے کی دھول میں چھپ جائیں۔ چلیں چھوڑیں اس بحث میں کیا رکھا ہے ہم اپنے مالیاتی جادوگر اور وزیراعظم کے مشیر خزانہ کی سنتے ہیں جناب شوکت ترین کے مطابق دنیا کے مقابلہ میں ہمارے ہاں قوت خرید کم ہے، عوام مہنگائی سے بیزار ہیں بلاشبہ مہنگائی ہے لیکن ہمارے ہاں بھی قوت خرید آہستہ آہستہ بڑھے گی سعودیہ سے امدادی پیکیج آنے والا ہے ۔ مشیر خزانہ کے مطابق روپے کی قدر میں سٹے بازوں کا ہاتھ ہے۔ سوال یہ ہے کہ سٹے بازوں کے خلاف کارروائی کس نے کرنا تھی نیز یہ کہ پشاور اور کوئٹہ میں افغان کرنسی کے بدلے ڈالر خریدنے کی پیشگی اور ٹھوس اطلاعات کے باوجود نوٹس کیوں نہ لیا گیا۔ کیا متعلقہ حکام اس بات سے لاعلم رہے یا مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کیا گیا؟ شوکت ترین نے گزشتہ روز یہ بھی کہا کہ عدم استحکام کی وجہ آئی ایم ایف سے ڈیل ہے۔ ساتھ ہی یہ دعوی بھی کیا کہ ہم نے مذاکرات کے دوران آئی ایم ایف کو متعدد معاملات میں صاف انکار کیا۔ اب اگر ان کی بات کو درست مان لیا جائے کہ متعدد معاملات پر انکار کیا گیا ہے تو یہ عرض کرنا پڑے گا کہ ابھی انکار سے یہ صورتحال ہے اگر بقول ان کے آئی ایم ایف کی شرائط پر معاہدہ ہوتا تو پھر حالات کیا ہوتے اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ کراچی میں گزشتہ روز ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مشیر خزانہ کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف سے کہا ہے کہ معاہدہ جلد کریں نیز یہ کہ اگر عالمی مارکیٹ میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھیں تو ہم بھی نرخوں میں اضافہ کریں گے۔ ان کی خدمت میں بار دیگر بلکہ ”بار دیگران”یہ عرض کرنا پڑے گا کہ حضور! پٹرولیم مصنوعات کے موجودہ نرخ عالمی مارکیٹ کے حساب سے نہیں بلکہ آئی ایم ایف کی شرائط کی روشنی میں بڑھائے گئے ہیں۔ مشیر خزانہ کو یاد ہی ہوگا کہ چند دن قبل تک وہ اور ان کے بعض رفقا قیمتوں کے حوالے سے تقابلی جائزہ پیش کرتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ پاکستان تو سستے ممالک میں سے ایک ہے صد شکر کہ انہوں نے اب یہ تو تسلیم کیا کہ دنیا میں ہمارے مقابلہ میں قوت خرید زیادہ مستحکم ہے۔ ظاہر ہے کہ اس کی بنیادی وجہ آمدنی کے ذرائع ہیں جو مغرب، امریکہ اور آسٹریلیا میں فی گھنٹہ کے حساب سے ہیں۔ مقابلتا ہمارے ہاں یومیہ اجرت ہے یا ملازمین کے لئے ماہانہ اور یہ اخراجات میں ہونے والے مسلسل اضافے کے مقابلہ میں بہت کم ہے۔ مشیر خزانہ کا یہ کہنا کسی حد تک درست ہے کہ”اوورسیز کی ترسیلات زر سے معیشت محفوظ ہے لیکن یہ دیرپا انتظام نہیں”مناسب ہوتا کہ وہ حکومت کو دیرپا انتظام کے لئے حکمت عملی وضع کرکے دیتے یہی ان کے منصب کا تقاضہ بھی ہے۔ اسی طرح یہ بھی حقیقت ہے کہ قرضوں سے نہیں خودانحصاری سے معیشت مستحکم ہوتی ہے۔ کیا ان کے خیال میں قرضوں اور امدادوں کے پیکیج حالات کو بہتر رکھنے کے لئے ضروری ہیں یا ایسے موثر اقدامات جو دیرپا نتائج کے ضامن ہوں؟ اک لمبی مدت مالیات کے شعبہ میں بسر کرنے والے اس حقیقت سے لاعلم تو نہیں ہوں گے کہ پچھلے پندرہ دنوں کے دوران عالمی منڈی میں تیل کی فی بیرل قیمت میں کمی ہوئی، روپے کی قدر میں مسلسل کمی کی وجہ سے ہمارے ہاں اگر صورتحال مختلف ہے تو کسی تاخیر کے بغیر روپے کی قدر میں کمی کو روکنے اور ڈالر کی پڑوسی ملک منتقلی کا نوٹس کس نے لینا تھا؟ جس خوشخبری کے جلد ملنے کی وہ نوید دے رہے ہیں کیا اس کے ثمرات عوام تک بھی پہنچیں گے؟ ڈالر کی قیمت 166روپے سے170روپے کے درمیانی ہونی چاہیے تھے، والی ان کی بات بجا ہے مگر سوال پھر یہی ہے کہ آخر حکومت نے روپے کی قدر میں کمی کا نوٹس کیوں نہ لیا۔ کیا قانون کے مقابلہ میں سٹے باز زیادہ طاقتور ہیں؟ یہ عرض کرنا بھی ضروری ہے کہ موخر ادائیگیوں پر تیل کا حصول مختصر عرصہ کے لئے مناسب تو ہوگا مگر کیا موخر ادائیگیوں کا قرضہ سود کے بغیر ہے؟ عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ عوام کو حقیقت سے آگاہ کیا جانا چاہیے۔ ثانیا یہ کہ حکومت کسی تاخیر کے بغیر آئی ایم ایف سے پچھلے سال اکتوبر میں ہوئے معاہدے اور حالیہ معاہدہ(جو اگلے ہفتے میں متوقع ہے)کی تفصیلات پارلیمان میں لائے۔ یہ معاہدے اگر ملک اور قوم کے مفاد میں ہیں تو انہیں پارلیمان میں لانے میں کوئی امر مانع نہیں ہونا چاہیے البتہ گریز کی پالیسی سے شکوک و شبہات بڑھ رہے ہیں۔ بعض ماہرین کا خیال ہے کہ حکومت اگلے ہفتے ہونے والے معاہدہ کی تفصیلات اس لئے چھپارہی ہے کہ اگر اسے پارلیمان میں لائی تو خود حکومتی ارکان کے لئے اس کی حمایت کرنا مشکل ہوجائے گا۔ اب چلتے چلتے اس نئے ”پھواڑے”پر ایک دو باتیں جو گلگت بلتستان کے سابق چیف جج رانا شمیم کے بیان حلفی سے شروع ہوا ہے اور دودن سے حکومت و نون لیگ کے توپچی گولہ باری میں مصروف ہیں اس ساری ہاو و ہو میں ہمیں تو محمود خان اچکزئی کی یہ بات اہم لگتی ہے کہ اتحاد کی مجبوریاں خاموش رکھے ہوئے ہیں ورنہ یہ تو سمجھ آرہا ہے کہ ایک بار پھر چہرے بدلنے پر صبر و شکر کے درس شروع ہونے والے ہیں ۔ اس کی سادہ تفسیر یہ ہے کہ ”سیاسی حلالے ” کیلئے کوششیں جاری ہیں ان حالات میں تو یہی کہا جا سکتا ہے کہ ارے لوگو تمہارا کیا ”وہ”جانے اور ”وہ” جانے۔