معاشی گورکھ دھندا، مہنگائی اور ہماری طرزِ زندگی

اس وقت ایک عجیب سی صورتحال کا سامنا ہے۔مُلک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کی وجہ سے عوام کی ایک اکثریت پریشانی کا شکار ہے جبکہ اقتصادی ماہرین نے بھی اپنے اپنے اعداد وشمار کے حوالے سے سب کو اُلجھن میں ڈال رکھا ہے ۔ مختلف تاویلات پیش کی جا رہی ہیں، حکومت کے لیے نرم گوشہ رکھنے والے مستقبل میں مہنگائی کو کنٹرول کرنے کا عندیہ دے رہے ہیں اور حکومتی پالیسیوں کے مخالفین اپنے حساب کتاب سے واضح کرتے ہیں کہ حکومت کے لئے ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کے آگے بندھ باندھنا آسان نہیں رہا۔پیٹرولیم و بجلی کی قیمتوں میں اضافہ اور روپے کی قدر میں استحکام نہ ہونا وہ بنیادی وجوہات ہیں جن کے باعث مہنگائی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ مہنگائی کے اثرات سے عوام اور خاص کر کم آمدنی والوں کو بچانا ریاست اور حکومت کی ذمہ داری ہے ۔اربابِ اقتدار یہ تو کہتے ہیں کہ مہنگائی پوری دنیا میں ہے لیکن یہ نہیں کہتے کہ دنیا کی اکثر حکومتیں مہنگائی کے اثرات کوکم کرنے کے لیے لوگوں کو ریلیف فراہم کرتی ہیں۔ یہاں عوام کو براہ راست ریلیف یا امداد دینے کی بجائے سرکاری اور نجی اداروں اور کارٹیلز کو سبسڈی دے دی جاتی ہے۔ اس کا عوام کو کوئی فائدہ نہیں ہوتا جبکہ کھربوں روپے کرپشن اور لوٹ مار کی نذر ہو جاتے ہیں۔
حال ہی میں کچھ یورپی ممالک نے کم آمدنی والے شہریوں کو ماہانہ مہنگائی الاؤنس دینے کا اعلان کیا ہے۔ حکومت اربوں یورو کی یہ امداد ایندھن اور توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے سبب دے رہی ہے۔ امریکی اقتصادی پابندیوں کی وجہ سے ایران کی کرنسی ”تومان” کی قدر مسلسل گرتی جا رہی ہے اور مہنگائی میں اضافہ ہو رہا ہے ۔اس کے باوجود وہاں کی حکومت لوگوں کو ہر ممکن ریلیف فراہم کرتی ہے۔ تیل کے منافع میں سے ہر فرد کو ٤٥ ہزار تومان ماہانہ کیش فراہم کرتی ہے۔ امن وامان کی صورتحال بھی ہم سے بہتر ہے۔اہل اقتدار یہ بات تو خوب دہرا رہے ہیں کہ دُنیا بھرمیںمہنگائی ہے مگر یہ احساس بھی ضروری ہے کہ دیگر ممالک کی طرح اپنے عوام کی مدد کرنی چاہیے اور اِنہیں مہنگائی، بے روزگاری اور افلاس کے رحم و کرم پر نہ چھوڑاجائے۔ ہمیں یہ بھی نہیں بھولنا چاہئے کہ مہنگائی، غربت اور بے روزگاری معاشرے میں تضادات اور مُلکی عدم استحکام کا باعث ہوا کرتی ہے۔ حکومتی ترجمان اور کئی وفاقی وزرا میڈیا پہ بڑھتی ہوئی مہنگائی کے مختلف جواز پیش کر رہے ہوتے ہیںلیکن مہنگائی کی حالیہ لہر ملکی تاریخ کی شدید اور بدترین لہرہے۔ پاکستان بیورو برائے شماریات نے اشیا ئے خورد ونوش کا جائزہ لیا ہے اور اُن تمام اشیاکی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے جو ہر گھر کی ضرورت ہیں۔وزیراعظم کہتے ہیں کہ بین الاقوامی سطح پر اشیا کی قیمتوں میں غیرمعمولی اضافے سے دنیا کے بیشتر ملک لاک ڈائون کے نتیجے میں بری طرح متاثر ہوئے مگر پاکستان نے مہنگائی کے خلاف سب سے بہتر کارکردگی دکھائی ہے۔ مان لیا کہ حکومت کی بہتر لاک ڈائون حکمت عملی کی بدولت نقصانات کم ہوئے ہیں لیکن لوگوں کی آمدنی کم ہوئی ہے۔ مزدوروں کا روزگار یقیناً متاثر ہوا ۔ پھر روزمرہ ضرورت کی اشیا کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ بھی ایک حقیقت ہے جس کی سرکاری ادارہ شماریات بھی تصدیق کر رہا ہے۔ پٹرولیم مصنوعات اور بجلی کے سرکاری ریٹ مسلسل بڑھائے جا رہے ہیں۔ پٹرول اور ڈیزل کے نرخ بڑھے تو پبلک اور گڈز ٹرانسپورٹ کے کرائے بھی بڑھ گئے۔ چینی کی قیمت میں تین سال کے دوران دو سو فیصد اضافے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ نگرانی کرنے والے اداروں کا چینی بنانے والوں، ہول سیلرز اور آڑھتیوں پر کنٹرول انتہائی کمزور ہے۔ پٹرولیم کے نرخوں میں اضافے سے صنعتی پیداوار کم ہو رہی ہے۔ صنعتوں سے گیس پر سبسڈی واپس لی جا رہی ہے۔ حکومت یا اداروں کے مرتب کردہ معاشی اشاریے درست ہوں گے ان سے ملک کے روشن مستقبل اور معاشی استحکام کی نوید ملتی ہے مگر لمحہ موجود میں اس سے غریب اور متوسط طبقے کی فکر مندی دور نہیں ہوتی۔ یہ معاشی گورکھ دھندے ہیں،جس کی منطق اس وقت غائب ہو جاتی ہے جب لوگ آٹا دال سبزی پھل اور کھانے پینے کی دوسری اشیا خریدنے دکانوں پر جاتے ہیں۔اس کے باوجود ہمارے ہاں بڑی تعداد میں لوگ ایک ایسی طرزِ زندگی اپنائے ہوئے ہیں کہ پاکستان میں غربت کا گماں ہی نہیں ہوتا۔ پٹرول کے نرخ بھی بڑھ رہے ہیں اور گاڑیوں میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ بجلی مہنگی ہو رہی ہے مگر رات گئے شاپنگ مال جگمگا رہے ہیں۔ شادی بیاہ کی تقریبات ،قیمتی ملبوسات ، انواع واقسام کے طعام پر بے دریغ پیسہ لٹایا جاتا ہے۔ مُلک میں ایسا نظام رائج ہے جو اس طبقہ کو قانونی اور مالی تحفظ فراہم کرتا ہے۔ ایلیٹ کلاس میں اضافہ ہو رہا ہے۔ دُبئی میں زمین خریدنے والے دوسرے نمبر پہ بڑے سرمایہ کار پاکستانی ہیں۔ ٹیلی ویژن پہ غربت کا رونا رونے والے بھی اسی طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ غریب اور متوسط طبقے کی زندگی بد سے بدحال ہوتی جارہی ہے۔ مراعات یافتہ طبقہ پھل پھول رہا ہے۔آ ئی ایم ایف کی غلامی کا طوق اُتار کر عوام الناس کو مہنگائی کے عذاب سے چھٹکارا دلانے کے لیے مسائل کا قابل عمل حل ڈھونڈنے کی اشد ضرورت ہے۔