جلسے کی اجازت دینے سے بلاجواز انکار کیوں؟

پیپلزپارٹی کے رہنمائوں کی جانب سے کہا گیاہے کہ پی پی پی کارکن حکومتی پابندیوں کو جوتی کی نوک پر رکھتے ہیں پیپلز پارٹی نے یوم تاسیس کے جلسے کی اجازت کیلئے ڈپٹی کمشنر پشاور کو باضابطہ طور پر درخواست دی تھی جس کے جواب میں ضلعی انتظامیہ نے امن و امان کو جواز بناکر پی پی پی کو جلسے کی اجازت دینے سے انکار کردیا ہے۔جسے کسی صورت تسلیم نہیں کیا جائے گایوم تاسیس کا جلسہ ہر حال میں30تاریخ کو ہی منعقد ہوگا۔ حکومت نے جلسے کے انعقاد کی راہ میں کوئی رکاوٹ ڈالی کسی کارکن یا رہنماء کو گرفتار کرنے کی کوشش کی گئی تو پی پی پی کے کارکنوں کے رد عمل کی ذمہ دار حکومت ہوگی۔قانونی تقاضوں کے مطابق جلسے جلوسوں کا انعقاد ہر سیاسی جماعت کا حق ہے ابھی حال ہی میں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے خودپشاور ہی میں تحریک انصاف کے جلسے سے خطاب کرچکے ہیں پی پی پی کی جانب سے اجازت کی درخواست پر امن و امان کو جواز بنا کر ڈپٹی کمشنر کا انکاراگرچہ معروضی حقائق کے منافی موقف ہے اور اگر ڈپٹی کمشنر کا بیان درست ہے تو پھر اس انتظامی کوتاہی وناکامی کی ذمہ داری بھی انہی پر عائد ہوتی ہے نیز اسے حکومتی ناکامی سے بھی تعبیر کیا جا سکتا ہے حقائق کے تناظر میں دیکھا جائے تو امن و امان کی صورتحال تسلی بخش ہے اور ڈپٹی کمشنر کا انکار کسی دبائو اور اشارہ آبروکا شاخسانہ لگتا ہے جس کی گنجائش نہیں ہونی چاہئے جس طرح حکومت کو جلسے کی اجازت ہے اسی طرح کا حق سبھی جماعتوں کو ملنا چاہئے البتہ جلسہ گاہ ایسا رکھنے کا متفقہ فیصلہ ضروری ہے کہ خواہ مخواہ شہر کی سڑکیں بند کرکے جلسے نہ کئے جائیں بلکہ سیاسی جماعتیں کسی کھلے میدان کو بھر کر اپنی مقبولیت و اکثریت کا اظہار کریں پی پی پی کے جلسے کے بڑا ہونے یا اس کا کسی دوسرے جلسے سے کوئی تقابل نہیں ہر سیاسی جماعت کے جلسے کی کامیابی و ناکامی کا دارومدار کارکنوں اور قیادت کی جدوجہد کا مظہر ہوتا ہے بہتر ہو گا کہ قانونی طور پر جلسے کی اجازت دی جائے البتہ اس کے لئے شہر سے باہر جلسہ کرنے کا مشورہ انتظامیہ دے سکتی ہے جو نامعقول بات نہ ہو گی۔
کی میرے قتل کے بعداس نے جفا سے توبہ
ملاکنڈ میںمنشیات کے خلاف آواز اٹھانے والے محمد زادہ شہید کے قاتلوں کی گرفتاری اوران کے نام پر نارکاٹکس فورس کا قیام عمل میں لانا احسن قدم ہے مقتول دہائی دیتے رہے لیکن ان کے تحفظ اور منشیات فروشوں کے خلاف کسی نے کارروائی نہیں کی اب ملاکنڈ لیوی نے منشیات فروسوں کے خلاف بھی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے خفیہ ایجنسیوں کی رپورٹس کے مطابق ضلع ملاکنڈ میں ٹوٹل 61بڑے ڈرگ ڈیلرز ہیں جن میں سے 30 انہوں نے گرفتار کر لئے گئے ہیں جبکہ مزید کے خلاف بھی کارروائی جاری ہے ڈھٹائی کا یہ عالم ہے کہ قاتلوں کے ساتھ سرکاری اہلکاروں کی تصاویر وائرل ہو گئی ہیں بہرحال ان کے خلاف ابتدائی کارروائی کی گئی ہے مناسب ہو گا کہ ان سرکاری اہلکاروں کو بھی شامل تفتیش کیا جائے ۔ منشیات فروشی کے الزامات کے تحت اب ہونے والی کارروائیاں اگرچہ نمائشی ‘ بے وقت اور لڑائی کے بعد اپنے منہ پر مکار مارنے کے مترادف ہے لیکن دیر آید درست آید کے مصداق اب بھی ان عناصر کے خلاف ٹھوس کارروائی ہو تو غنیمت ہوگی۔دیکھنا یہ ہو گا کہ پولیس قاتلوں کے خلاف کس طرح مستعدی سے تفتیش کرتی ہے اور عدالت میں جرم ثابت کرا کے ان کو قرار واقعی سزا دلواتی ہے۔ایسا کرکے ہی مقتول کا خون رائیگان جانے نہیں دیا جائے گا اور اگر کچھ عرصہ بعد ملزمان رہا ہوجاتے ہیںتو یہ پولیس کی بڑی ناکامی ہو گی جس سے بچنے کے لئے اعلیٰ پولیس حکام کو اس کیس کی ذاتی نگرانی کرنی چاہئے۔
جعلسازوں سے ہوشیار
بے روزگار نوجوانوں کو نوکری کا جھانسہ دے کر ٹیسٹ کے نام پر کروڑوں روپے ہتھیانے کا نیادھندہ عروج پر ہے ۔وفاقی حکومت کی جانب سے تمام صوبائی حکومتوں کو بھیجے گئے آگاہی مراسلے میں کہا گیا ہے کہ ملک بھر میں جعلی ٹیسٹنگ ایجنسیاں قائم کردی گئی ہیں اور یہ ایجنسیاں اس وقت جعلی اشتہارات بنا کر سوشل میڈیا اور دیگر طریقہ کارکے تحت شہریوں کو ٹیسٹ دینے کیلئے مدعو کرتی ہیںامیدوار صرف مستند ذرائع یعنی اخبار اور ادارے کی ویب سائٹ سے ہی مشتہر آسامی کیلئے درخواست دیں کسی بھی اشتہار کے سامنے آنے کی صورت میں متعلقہ محکمہ سے رابطہ کرتے ہوئے اس اشتہار کی تصدیق کی جائے ۔حکومت کی جانب سے بروقت انتباہ جاری کیا گیا ہے امیدواروں کو کسی جھانسے میں نہیں آنا چاہئے اور پوری تصدیق کے بعد صرف مستند ذرائع سے شائع شدہ اشتہار پر درخواستیں جمع کرائی جائیں ساتھ ہی ساتھ حکومتی اداروں کو ان جعلسازوں کی جعلسازی کی روک تھام کے لئے سوشل میڈیا پر متحرک ہونے اوران کے خلاف قانونی کارروائی میں تاخیرنہیں کرنی چاہئے۔ سرکاری طور پر کسی اشتہار کی فوری تردید اور آگاہی کے لئے سوشل میڈیا پر مناسب اور بروقت انتظامات سے عوام کو جعلسازوں سے بچایا جا سکے گا نیز ان کا بروقت تدارک کا فریضہ بھی انجام دینا ممکن ہوگا۔توقع کی جانی چاہئے کہ اس حوالے سے معلومات و آگاہی دینے کے لئے حکومت ‘ میڈیا اور سرکاری ادارے اپنا کردار ادا کریں گے اور گمنام قسم کے اشتہارات کی بروقت نشاندہی کرکے امیدواروں کو لٹنے سے بچایا جائے گا۔ملازمت کے خواہشمند امیدواروں کی بھی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ بھی تحقیق اور اطمینان کے بعد ہی فیس جمع کریں اور درخواستیں بھجوائیں۔