کارکردگی میں بہتری لانے کا موزوں راستہ

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے بعض سرکاری محکموں میں نچلی سطح پر بدعنوانیوں کی شکایت کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ صوبائی وزراء اور انتظامی سیکرٹریوں کواضلاع کی سطح پر مبینہ طور پر بدعنوانی اورمالی بے ضابطگیوں میں ملوث سرکاری افسران اور اہلکاروں کی لسٹیںفوری مرتب کرنے کی ہدایت کی ہے جبکہ مالی بے ضابطگیوں میں ملوث اہلکاروں کو عہدوں سے ہٹانے کیلئے ایک ہفتے کی ڈیڈلائن دی ہے ۔وزیراعلیٰ نے گورننس کی موجودہ صورتحال خصوصاً ضم اضلاع میں گورننس کی صورتحال پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ منفی شہرت کے حامل تمام محکموں کے ضلعی سربراہان اور دیگر تمام اہلکاروں کو فوری طور پر عہدوں سے ہٹایا جائے ۔وزیراعلیٰ نے مزید ہدایت کی کہ بد عنوانی میں ملوث اہلکاروں کے خلاف کاروائی نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ انتظامی سیکرٹری کو فارغ کیا جائے گا۔اجلاس میں مبینہ طور پر بد عنوانی اور مالی بے ضابطگیوں میں ملوث اہلکاروں کے خلاف کاروائی کیلئے خفیہ اداروں سے معلومات حاصل کرنے جبکہ ایسے بدعنوان عناصر کو ملازمتوں سے فی الفور فارغ کرنے کیلئے متعلقہ قوانین میں ضروری ترامیم کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے ۔ وزیراعلیٰ نے بد عنوان عناصر کے خلاف کاروائی کیلئے متعلقہ وزرائاور سیکرٹریوں کو مکمل اختیار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس سلسلے میں کسی بھی قسم کے سیاسی اثرو رسوخ کو خاطر میں نہ لائیں۔دریں اثناء معلومات تک رسائی قانون کے تحت شہریوں کو معلومات فراہم نہ کرنے کے باعث 7سرکاری محکموں پر بھاری جرمانہ عائد کردیا گیا رائٹ ٹو انفارمیشن کمیشن کے مطابق گزشتہ روز کو شہریوں کو معلومات فراہم نہ کرنے پر7سرکاری محکموں پر جرمانہ عا ئد کیاجبکہ شہریوں کی جانب سے مانگے گئے عوامی ریکارڈ فراہم نہ کرنے پر 8 سرکاری اداروں کو شوکاز نوٹس جاری کیا گیا۔وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے بالآخر سرکاری محکموں کی کارکردگی اور عمال کے احتساب کے جس عزم صمیم کا مظاہرہ کیا ہے اس کی ضرورت ایک عرصے سے اس لئے محسوس کی جارہی تھی کہ حکومت کی تمام تر کوششوں کے باوجود اچھی حکمرانی اور مسائل کے حل کے حوالے سے عوام مطمئن نہیں تھے بیورو کریسی کا طریقہ کار ہی یہ رہا ہے کہ وہ حکومت کو بریفنگ میں تو دن دگنی رات چوگنی ترقی اورمنصوبوں کے حوالے سے بلند وبانگ دعوے کرے اور یہ کامیاب تاثر دے کہ کام ان کی بریفنگ اور حکومتی منشاء کے مطابق ہوگا مگر عملی طور پر اس کا فقدان بلکہ بعض معاملات اور جگہوں پر برعکس صورتحال کوئی پوشیدہ امر نہیں ہم سمجھتے ہیں کہ اوسط اور پست سطح پر خراب کارکردگی کی پوری ذمہ داری ماتحت عملہ ہی پر عائد نہیں ہوتی بلکہ ان کی ناقص کارکردگی میں محکموں کے اعلیٰ منتظمین کا بھی برابر کا حصہ ہے ایسے میں اوسط سطح پر کارکردگی کے احتساب بارے اقدامات احسن ہوں گے اس کے ساتھ ساتھ ضرورت اس امر کی بھی ہے کہ محکموں کے سیکرٹریز کوبھی برابر کا ذمہ دار ٹھہرایا جائے اور ان سے ہی سوالات ہوں تو زیادہ مناسب ہو گا بہرحال وزیر اعلیٰ نے جس عزم کے ساتھ اس مرحلے کا آغاز کیا ہے اس ضمن میں کسی مصلحت کو آڑے نہ آنے دیا جائے گا کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے سخت گیری کا واضح عندیہ ضرور دیا ہے لیکن اس پر قائم رہنا آسان نہ ہوگا وزیر اعلیٰ کی ہدایات کے مطابق سو فیصد نہ سہی پچاس فیصد کام بھی انجام پا جائے توصوبے میں اچھی حکمرانی اور احتساب دونوں ہوتا ہوا نظر آئے گا اور باقی عبرت حاصل کریں گے اور کارکردگی میں بہتری لانا مجبوری بن جائے گی یا پھراحتساب کا سامنا کرنا ہو گاشفافیت کے تقاضے پورے ہوں تو کسی شہری کو قانون کے مطابق معلومات کی فراہمی میں کوئی مضائقہ نہیں سرکاری ریکارڈ سے معلومات کی فراہمی کے لئے زیادہ وقت بھی درکار نہیں ہوتا لیکن اس کے باوجود جن اداروں کی جانب سے لیت و لعل سے کام لیا جاتا ہے اور جن جن دفاتر سے معلومات کی فراہمی سے انکار یا ٹال مٹول کی جاتی ہے اگرچہ وہ بد معاملگی بے ضابطگی اور خلاف قواعد وقانون اقدامات کا واضح ثبوت نہیں لیکن انکاراور تاخیر بھی بلاوجہ نہیں ہو سکتی نیز مقررہ مدت سے تاخیر از خود قانون کی خلاف ورزی ہے اس طرح کے عمال کے خلاف ازروئے قانون سزا وجرمانہ کے ساتھ ساتھ ان کے خلاف انتظامی طور پر بھی کارروائی ہونی چاہئے جس میں ان کوعہدوں سے ہٹانا اور ایسے عہدوں پر تعیناتی جو پرکشش نہ ہوں ایک اچھا موثر اور فوری اقدام ہوگا وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا ان تمام عمال کے خلاف ممکنہ سطح پر معلومات فراہمی سے انکار پر محکموں کے سیکرٹریز کو کارروائی کی ہدایت کریں تو یہ بھی ایک اہم قدم ہو گا۔مشکل امریہ ہے کہ سوال اور احتساب کا عمل پوری کوششوں کے باوجود ہنوز ٹھوس اقدامات کا متقاضی ہے اس ضمن میں وزیر اعلیٰ کو مزید سخت گیری کا مظاہرہ کرنا ہو گا سرکاری ملازمین کا قبلہ سیدھا ہوتو حکومت اور عوام دونوں کی مشکلات و شکایات میں کمی ممکن ہوگی۔