نسل پرستی

وہ کہتے تھے”تم وہاں بیت الخلا کے پاس بیٹھو گے”

ویب ڈیسک: عظیم رفیق کے انگلش کرکٹ بورڈ پر نسل پرستی کے الزامات کو ذرائع ابلاغ شہ سرخیوں میں شائع کر رہے ہیں اگرچہ ان الزامات کی تحقیقات جاری ہیں تاہم پاکستانی نژاد عظیم رفیق کو ان تحقیقات کے نتیجے میں کسی کو بھی کارروائی کا سامنا نہ کرنے کا یقین ہے اس یقین کی وجہ یہ ہے کہ عظیم رفیق نے اس قسم کے الزامات تب بھی لگائے تھے جب وہ یارکشائر کلب کی جانب سے کرکٹ کھیل رہے تھے بقول ان کے انہوں نے برطانوی قانون سازوں کو نسل پرستانہ بدسلوکی کے بارے میں بتایاتھا، کلب میں ایشیائی پس منظر سے تعلق رکھنے والے کھلاڑیوں کے بارے میں عام تبصرے کئے جاتے تھے جیسے ‘تم وہاں بیت الخلا کے پاس بیٹھو گے’، ‘ہاتھی دھونے والے’۔ لفظ ‘پاکی’ مسلسل استعمال کیا جاتا تھا۔


رفیق نے گزشتہ ستمبر میں کائونٹی کے خلاف سب سے پہلے نسلی ایذا رسانی اور غنڈہ گردی کا الزام لگایا، جس کے فوراََ بعد کلب نے تحقیقات کا آغاز کیا۔رفیق کو نسلی ایذا رسانی اور غنڈہ گردی کا نشانہ بنایا گیا تھا تاہم کسی بھی فرد کو تادیبی کارروائی کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔
آج رفیق نے انگلینڈ کے سابق بلے باز اور یارکشائر کے ایک وقت کے کپتان گیری بیلنس کے بارے میں تفصیل سے بات کی۔ رفیق نے کہا کہ بیلنس نے 2017 میں ایک پری سیزن ٹور پر اس کے ساتھ نسلی طور پر بدسلوکی کی تھی۔ "گیری بیلنس آتے جاتے کہتے: ‘تم اس سے کیوں بات کر رہے ہو؟ تم جانتے ہو کہ وہ ایک پاکی ہے۔”اور یہ ٹیم کے ساتھیوں کے سامنے ہوا۔ یہ کوچنگ اسٹاف کے سامنے ہوا۔