منشیات فروش ایڈوانس بینکنگ سسٹم فائدہ

منشیات فروش بھی ایڈوانس بینکنگ سسٹم کا فائدہ اٹھانے لگے

ویب ڈیسک :صوبائی اسمبلی ، پشاور ہائی کورٹ،سول سیکرٹریٹ،سی سی پی آفس، سی سی پی او آفس سے چند قدم کے فاصلے پر اور پشاور سنٹرل جیل کے سامنے پل کے نیچے کھل عام نشے کا استعمال جاری ہے۔

سینکڑوں کی تعداد میں نشے کے عادی لوگ دن رات پل کے نیچے منشیات کا استعمال کرتے ہیں جن میں بچے،جوان، بوڑھے اور خواتین بھی شامل ہیں۔نئی ٹیکنالوجی اور ایڈوانس بینکنگ سسٹم سے منشیات فروش بھی فائدہ اٹھانے لگے اور منشیات فروخت کرنے لئے موبائل اکاونٹ کے ذریعے ادائیگی کا استعمال شروع کردیاہے۔ ذرائع کے مطابق زیادہ تر منشیات ضلع خیبر سے سپلائی کی جاتی ہے اور پشاور کے مختلف علاقو ں تک نشہ سپلائی کرنے کیلئے موبائل اکاونٹ کے ذریعے ایڈوانس میں ادائیگی کی جاتی ہے۔

ادائیگی کے بعد منشیات سپلائی کرنے کیلئے پیکٹ بنائے جاتے ہیں اور ہر پیکٹ پر فرد کا نام اور علاقے کا نام لکھا ہوتا ہے تاکہ سپلائی کے وقت یہ آسانی ہو کہ کونسا پیکٹ کس کاہگ کو اور کونسے علاقے تک پہنچانا ہے۔یہ پیکٹ مختلف لوگوں کے ذریعے گاہگ تک رات کی تاریکی اور دن کی روشنی میں سپلائی ہوتے ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ پولیس ہرشام بھتہ وصول کرتی ہے اور جتنے زیادہ لوگ ہوں اتنا ہی زیادہ بھتہ وصول کیاجاتاہے۔ دوسری جانب پولیس منشیات فروشوںکے خلاف کاروائی کرنے کے بڑے دعوے کررہی ہے لیکن سڑک کے کنارے اور اعلٰی سرکاری دفاتر کے سامنے منشیات کا استعمال پولیس کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔

منشیات کے ایک عادی شخص نے بتایا کہ نشے کے عادی لوگ نہ کام کرسکتے ہیں اور نہ ہی نوکری،یہ لوگ منشیات خریدنے کیلئے بھیک مانگنے کے ساتھ ساتھ،چوری،ڈکیتی اور رہزنی بھی کرتے ہیں۔