درجہ حرارت میں کمی ڈینگی

درجہ حرارت میں کمی،ڈینگی سے زیادہ نقصان کا خطرہ ٹل گیا

ویب ڈیسک :درجہ حرارت میں کمی آنے کی وجہ سے ڈینگی مچھروں کے حملے بھی کنٹرول میں آرہے ہیں آئندہ دنوں کے دوران کیس مکمل طور پر ختم ہونے کا امکان ہے اس وقت صوبے کے مختلف ہسپتالوں اور گھروں پر مثبت مریضوں کی تعداد صرف 391 رہ گئی ہے۔

سردی بڑھنے کے باعث یومیہ بنیاد پر متاثرین کی تشخیص کی شرح میں بھی کمی آگئی ہے اور گذشتہ روز مختلف اضلاع میں 110نئے مریض رپورٹ کئے گئے ہیں ڈینگی بخار سے رواں سیزن کے دوران9 افراد جاں بحق ہو ئے ہیں جبکہ مجموعی طور پر 9ہزار613 افراد میں وائرس کو تشخیص کیا گیا تھا جن میں سے 9ہزار313 افراد ہسپتالوں اور گھروں پر صحت یاب ہوئے ہیں محکمہ صحت کے اعداد وشمار کے مطابق گزشتہ روز ایبٹ آباد میں 4نئے مریض، مردان، لکی مروت، سوات، ٹانک، بنوں، چارسدہ اورڈیرہ اسماعیل خان سے ایک ایک نیا کیس جبکہ ضلع خیبر سے پانچ نئے کیس، کوہاٹ سے تین نئے کیس ، نوشہرہ، سے4اور پشاور میں سب سے زیادہ 84 نئے مریض تشخیص کئے گئے ہیں صوابی میں تین مریض تصدیق کئے گئے ہیں۔

اس طرح ڈینگی بخار سے زیادہ متاثرہ افراد میں سے 18مریض خیبر ٹیچنگ ہسپتال،سات مریض لیڈی ریڈنگ ہسپتال، سات مریض حیات آباد میڈیکل کمپلیکس، دو مریض نارتھ ویسٹ جنرل ہسپتال ،چار مریض ایوب ٹیچنگ ہسپتال ایبٹ آباد، ایک مریض مفتی محمود میموریل ٹیچنگ ہسپتال ڈی آئی خان ،ایک مریض کنگ عبداللہ ٹیچنگ ہسپتال مانسہرہ اور6مریض باچاخان میڈیکل کمپلیکس صوابی میں زیرعلاج بتائے گئے ہیں یادرہے کہ محکمہ موسمیات کی جانب سے خیبر پختونخوا میں15نومبر تک کے عرصہ میں ڈینگی مچھر انتہائی سطح پر پھیلنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا تھا اوریہ خدشہ اکتوبر کے مہینے میں خیبر پختونخوا میں حقیقت ثابت ہوا ہے ڈینگی اس وقت18سے زائد اضلاع میں پھیلا ہے جس میں پانچ اضلاع پشاور، نوشہرہ، مردان، صوابی اور ہری پور کو انتہائی حساس ڈکلیئر کیا گیا ہے تاہم درجہ حرارت میں کمی کی وجہ سے اب وائرس کا پھیلائو بھی کنٹرول ہوریا ہے انٹی گریٹڈ وکٹر کنٹرول پروگرام اینڈ ملیریا کنٹرول پروگرام کے منیجر ڈاکٹر رحمن آفریدی کے مطابق ڈینگی مچھروں کیلئے19سینٹی گریڈ سے34سینٹی گریڈ تک درجہ حرارت کی ضرورت ہوتی ہے یہی وجہ ہے کہ صوبے کے جن اضلاع میں سردی بڑھ گئی ہے وہاں سے ڈینگی کے کیس رپورٹ ہونا بند ہوگئے ہیں گرم مرطوب اضلاع بشمول پشاور میں بھی آئندہ چند روز میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت19درجہ سینٹی گریڈ سے بتدریج کم ہوجائے گا جس کے نتیجے میں ڈینگی مچھروں کے حملے ختم ہوجائیں گے۔

جنوری سے فروری تک ڈینگی کیخلاف آپریشن معطل جبکہ مارچ کے آخری ہفتہ میں ڈینگی کا لاروا تلف کرنے کی مہم شروع کرنے کی منصوبہ بندی ہے جو آئندہ سال دسمبر تک جاری رہے گی۔