حسن علی ہمارے ہیرو ہیں؟

مملکت خداداد پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں مشکل سے عوام کو اچھی خبریں سننے کو ملتی ہیں۔غربت وافلاس، بے روزگاری اور مہنگائی کے مارے عوام ہر صبح کو اسی امید پر شام کرتے ہیں کہ کہیں سے کوئی اچھی خبر سننے کو ملے لیکن انکی امیدوں پر اس وقت پانی پھر جاتا ہے جب اگلی صبح مہنگائی کا نیا بم انکے اوپر آگرتا ہے۔ کہیں قدرتی آفات میں گھرے عوام زلزلوں اور سیلاب کی تباہ کاریوں سے اپنے پیاروں کی لاشوں کو سمیٹتے ہیں تو کہیں دہشت گردی کی بھینٹ چڑھے اپنے بچوں اور بڑوں کی بے گور و کفن لاشیں اٹھاتے ہیں۔ کورونا وائرس کا خطرہ تھوڑا سا ٹل جا تا ہے تو ڈینگی بخار سراٹھا لیتا ہے ۔ ڈینگی سے جان چھوٹتی ہے تو موبائل فون پر خواتین میں چھاتی کے سرطان کے حوالے سے خبردار کیا جاتا ہے۔کالا یرقان، ذیابیطس، سرطان اور دل کی بیماریاں تو جیسے عام سی بیماریاں ہیں جس سے ہر سال لاکھوں لوگ موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ ایسے میں اگر کہیں سے کوئی اچھی خبر مل جائے تو وہ یقینا تازہ ہوا کا ایک جھونکا ثابت ہوتا ہے۔ پچھلے دنوں ٹی ٹونٹی کرکٹ ٹورنا منٹ میں پاکستانی کرکٹ ٹیم نے غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستانی عوام کے دل جیت لئے۔ ٹیم کی غیر معمولی کارکردگی اور مسلسل جیت پر قوم نے خوشی کے شادیانے بجائے اور اپنی ٹیم کو داد تحسین دی۔ پاکستانی ٹیم نے ٹورنامینٹ کے پہلے مرحلے میں اپنی پول کے سارے ٹیموں کو مات دے کر سیمی فائنل تک رسائی حاصل کی اور سب سے بڑھ کر یہ کہ قومی ٹیم نے بھارت کو اٹھائیس سال بعد شکست دے کر پوری قوم سے زبردست داد وصول کی لیکن دوسری طرف ٹورنامنٹ میں ایک کیچ چھوڑنے پر فاسٹ باولر حسن علی کی ایسی درگت بنا ڈالی کہ پوری ٹیم کی ساری محنت پر پانی پھر گیا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ حسن علی نے میچ کے ایک نازک مرحلے پر کیچ چھوڑا لیکن اسی کا نام ہی تو کھیل ہے۔ ہار جیت کھیل کا حصہ ہے ۔کوئی جیتے گا کوئی ہارے گا لیکن ایک کیچ چھوڑنے کی سزا اس حد تک نہیں ہونی چاہئے کہ ایک فرد کی ذاتی تضحیک تک بات چلی جائے۔ ہم نے دیکھا کہ کیچ چھوٹتے ہی قومی ہیرو کے خلاف سوشل میڈیا پر ایک طوفان اٹھ کھڑا ہوگیا۔ کسی نے انکو الفاظ کی گولہ باری سے زیر کیا تو کسی نے انکی تصویروں کو مختلف اندازوں مین پیش کرکر تمسخر کا نشانہ بنایا۔ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ اسی مایہ ناز آل راونڈر نے پاکستان کو اکیلے ہی کئی اہم میچ جتوائے ہیں۔ کھلاڑی اپنی طرف سے بھر پور کوشش کرتا ہے کہ بہترین کھیل پیش کرے لیکن اگر اس سے کھیل کے میدان میں کوئی غلطی سرزد ہوجائے تو اسے کھیل کا حصہ مان کر کھیل تک محدود رکھنا چاہئے۔ حسن علی سے جب کیچ چھوٹا تو مایوسی کے آثار ان کے چہرے پر نمایاں تھے کیونکہ وہ اس بات سے بخوبی آگاہ تھے کہ پوری قوم اس وقت اپنی شاہین صفت ہیروز کی طرف آس لگائے بیٹھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کیچ چھوٹتے ہی سینیر کھلاڑی شعیب ملک فورا انکی طرف لپکے اور انکا حوصلہ بڑھایا۔ اسی ٹورنا منٹ کے فائنل میچ میں ہم نے دیکھا کہ اس وقت دنیا کے بہترین فاسٹ باولر آسٹریلیا کے مچل سٹارک کو نیوزی لینڈ کے خلاف چار اورز میں ساٹھ رنز دینے پڑے کسی نے کچھ نہیں کہا لیکن حسن علی کو چوالیس رنز پڑنے پر ہم نے ایک طوفان کھڑا کردیا۔ اسی ٹورنامنٹ کا ایک اچھا پہلو یہ بھی رہا کہ تقریبا ہر کھلاڑی نے کسی نہ کسی میچ میں اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھائے۔ بابر اعظم، محمد رضوان، شعیب ملک اور آصف علی نے بیٹ سے مخالفین کے چھکے چھڑادئے تو شاہین آفریدی، حارث روف اور شاداب خان نے گیند سے اپنی جادوگری دکھا کر مخالفین کو شکست پر مجبور کردیا۔ ایسے میں اگر ایک آدھ کھلاڑی اچھی کھیل کا مظاہرہ نہ کرسکے تو ہمیں کھیل کے آداب کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے ایک سپورٹس مین سپرٹ کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔ ہمیں اپنے آپ کے اندر برداشت کا مادہ پیدا کرنا چاہئے۔ ہمیں اپنی کمزوریوں اور کوتاہیوں کو ضرور بتا نا چاہئے اور اس پر بحث کرنی چاہئے لیکن یہ تنقید صحت مند ہونی چاہئے کسی کی ذات کو نشانہ نہین بنا نا چاہئے تاکہ ہم اپنی کمزوریوں اور کوتا ہیوں کو سمجھیں اوران سے سبق حاصل کریں۔ اسی ٹورنا منٹ میں دنیائے کر کٹ کے بہت سارے ریکارڈز پاکستان کے نام ہوئے۔ ہمارے کئی ایک کھلاڑیوں نے دنیا میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منواکر دنیا کے بہترین کھلاڑیوں سے عالمی ریکارڈ چھین لئے۔ یہی ہمارا فخر اور قومی جیت ہے۔ کئی سال بعد پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ بحال ہوئی ہے۔ یہی ہماری جیت ہے۔ اسی ٹیم نے قوم کو متحد کیا ہے۔ یہی ہماری فتح ہے۔ اسی ٹیم نے تقریبا تین دہائیوں بعد قوم کو جیت کے نام سے آشنا کیا ہے۔ یہی ٹیم ہمارے فخر کا نشان ہے۔انہی سطور کی وساطت سے لکھاری خواتین و حضرات اور خصوصا سوشل میڈیا صارفین سے مودبانہ گزارش ہے کہ کرکٹ کا میدان ہو یا سیاست کا،آپ تنقید ضرور کریں لیکن صحت مند تنقید اور بھی اخلاق کے دائرے کے اندر۔