شعبدہ بازی ‘ ضعیف الاعتقادی اور معاشرہ

ضعیف الاعتقادی اگرایک لحاظ سے دیکھا جائے تو ہمارا اجتماعی مسئلہ ہے ‘ اسلام نے روشن خیالی کا درس بھی دیا ہے اور اس کی حوصلہ افزائی بھی کی ہے ‘ مگر ہم نے تقریباً ہر قدم پر فرسودہ روایات سے متاثر ہوکراپنے لئے مسائل کھڑے کر رکھے ہیں ‘ اس کی وجہ اگر غور کریں تو ہماری صدیوں سے بھارت کے ہندوئوں کے ساتھ رہنے اور ان کی بت پرستی کی روایات سے متاثر ہونا ہے ‘ ہم بہ فضل تعالیٰ مسلمان ہیں مگر بھارتی معاشرے کی صدیوں کی روایات سے ہم خود کو بچانے میں پوری طرح کامیاب نہیں ہوسکے ‘ اور اپنے لئے”ایسے بت”تراشنے کی غلطی کر بیٹھے جو ضعیف الاعتقادی کے خمیر سے تراشے گئے ‘ اس تمہید کی ضرورت یوں پیش آئی کہ حالیہ دنوں میں ایک عراقی کردی النسل کے ایک”شعبدہ باز” کا بڑا چرچا رہا ہے ‘ جس نے مبینہ طورپر مختلف بیماریوں خصوصاً معذوروں ‘ گونگوں ‘ بہروں وغیرہ کا ایک شف سے علاج کرنے کا دعویٰ کرتا ہے ‘ گویا بقول راحت اندوری
تیری کتھئی آنکھوں میں ہیں جنتر منتر سب
چاقو واقو ‘چھریاں وریاں ‘ خنجر ونجر سب
اس صورتحال پر بات اگر ضرورت پڑی تو آگے چل کر ہو گی ‘ تاہم اسی سے ملتے جلتے کچھ واقعات کا یاد آنا بھی ایک فطری عمل ہے ‘ سن کا تو درست اندازہ نہیں ہے ‘ تاہم یہ بات یقینی ہے کہ جنرل یحییٰ خان کا دور تھا ‘ انڈونیشیاء کے لوگوں کی ہمارے یعنی پاکستانیوں کے دلوں میں قدر اس لئے بہت زیادہ تھی کہ اس سے پہلے1965ء کی پاک بھارت جنگ کے دوران احمد سوئیکارنو وہاں کے صدر تھے اور انہوں نے پاکستان کے ساتھ ڈٹ کر کھڑے ہوتے ہوئے بھارت کودھمکی دی تھی ‘ اپنے بحری بیڑے کو متحرک کرکے بھارت کو تنبیہ کی تھی کہ اگر اس نے بحر ہند میں کوئی غلط حرکت کی تو ا نڈونیشیاء اس کو پوری قوت سے روکے گا ‘ یہ ویسی ہی صورتحال تھی کہ غلام ہندوستان میں انگریز آقائوں کے ترکی ‘کی خلافت عثمانیہ کے خلاف یورپی ملکوں کے ساتھ مل کر سازشوں کو ہندوستان کے مسلمانوں نے ناکام بنانے کے لئے دامے ‘ درمے ‘ سخنے قربانیاں دیں ‘ جس کی وجہ سے برصغیر کے مسلمانوں کے لئے ترکی کے عوام کے دلوںآج بھی احترام موجود ہے ‘ خیر بات ہو رہی تھی انڈونیشیاء کی جس کے جری اور بہادر صدر احمد سوئیکارنو کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے پشاور کے خیبر بازارمیں کنٹومنٹ پلازہ کو سوئیکارنو چوک کے نام سے منسوب کیا ‘ آج کی نسل نہیں جانتی کہ یہ جوپشاور میں سوئیکارنو چوک ہے اس کے نام کی وجہ تسمیہ کیا ہے ‘ بہرحال اس خاتون زہرہ فوما کی آمد کی مقصد کیا تھا یہ تو آج تک واضح نہ ہوسکا ‘ اگرچہ بعض لوگ اسے امریکن سی آئی اے کی ایجنٹ قرار دیتے تھے ‘ اس نے پورے پاکستان کی ضعیف الاعتقاد خواتین میں بہت شہرت حاصل کی اور وہ یوں کہ اس کا دعویٰ تھا کہ اس کے پیٹ میں جو بچہ پل رہا ہے وہ تلاوت کرتا ہے ‘ کراچی سے اس کا سفر شروع ہوا اور لاہور ‘ راولپنڈی سے ہوتے ہوئے پشاور میں اپنے ”منطقی انجام” تک پہنچا’ انٹرکانٹی نینٹل ہوٹل میں وہ خواتین کی موجودگی میں اس شعبدہ بازی کا مظاہرہ کرنے سے پہلے ہر بار وہ غسل خانے جاتی اور واپسی پر بیڈ میں لیٹ جاتی تو کچھ دیر بعد بچے کی آواز میں تلاوت شروع ہو جاتی۔ لوگ اسے ایک”معجزہ” سمجھتے رہے ‘ مگر پشاور پولیس کی خواتین اہلکاروں نے شک گزرنے پر اس کا یہ سارا ڈرامہ طشت ازبام کرتے ہوئے اس کے زیر جامے میں چھپے چھوٹے سے کیسٹ ریکارڈر کو قبضے میں لے لیا اور زہرہ فوما کوحراست میں لے لیا ‘ مگر پھر انڈونیشیاء کی سفارتکاری کی وجہ سے اسے پاکستان بدر کرکے اس ڈرامے کا اختتام کر دیا گیا۔ بقول افتخار عارف
یہ سب کٹھ پتلیاں رقصاں رہیں گی رات کی رات
سحر سے پہلے پہلے سب تماشا ختم ہوگا
یہ تو خیر بہت پرانا واقعہ ہے جسے گزرے ہوئے لگ بھگ پچاس برس ہوچکے ہیں ‘ یعنی نصف صدی کا قصہ ہے ‘ دوچار برس کی بات نہیں ‘ البتہ دوسرا جو واقعہ یا واقعات ہم بتانا چاہتے ہیں ان کو زیادہ مدت نہیں ہوئی بلکہ تقریباً آٹھ دس برس ہی گزرے ہوں گے اور اکثر لوگوں کے ذہنوں میں یہ واقعات اب بھی تازہ ہوں گے ‘ اور وہ یہ کہ اچانک خبریں پھیلنا شروع ہوئیں کہ کسی نوجوان پر جنات آجاتے ہیں اور وہ مختلف بیماریوں میں مبتلا مریضوں کا روحانی علاج شروع کر دیتا ہے ‘ خصوصاً ا کثر دل کے مریضوں کا بائی پاس آپریشن تک کیا جاتا ہے ‘ مریض کوکسی چارپائی یا بینچ پر لٹایا جاتا ‘ اس پر سفید چادر ڈال کرمحولہ خارق العادات شخص یعنی جس پر جنات حاضر ہوتے تھے ‘ وہ بھی قریب ہی لیٹ جاتا اور کچھ دیر بعد مریض ہوش میں آجاتا تو وہ صحت یاب ہوچکا ہوتاہے ‘ تاہم عجیب بات یہ تھی کہ یہ جنات باقاعدہ سفرمیں رہتے ‘ یعنی ایک شخص اور علاقے سے دوسرے شخص اور علاقے میں منتقل ہو جاتے ‘ اخبارات میں اس نوع کی خبریں شائع ہوتی رہتیں ‘ ایسے خارق العادات متاثرین کے قریب بھی مریضوں اور ان کے لواحقین کا تانتا بندھا رہتا ‘پھر اچانک یہ جنات(شاید) واپس پرستان یا کوہ قاف سفر کرکے غائب ہو گئے ‘ اس قسم کی خبریں بھی اب نہیں آتیں ‘ نہ ہی ایسے کسی مریض کو سامنے لایاگیا جو جنات کی ”مہربانی” سے صحت یاب ہو چکا ہو ‘ اور اب یہ شف والا سامنے آیا ہے جس کے بارے میں سوشل اور پرنٹ میڈیا پر خبریں چل رہی ہیں ‘ حالانکہ سوشل میڈیا نے اس کا”کچا چٹھا”بھی کھول کر رکھ دیا ہے’ بہرحال حقیقت کیا ہے اس کا بھی کچھ عرصے بعد ہی پتہ چل سکے گا ۔ مگر تب تک کتنے ضعیف الاعتقاد افراد”متاثر” ہو چکے ہوں گے معلوم نہیں ۔ کہ بقول داغ دہلوی
وہ قتل کرکے مجھے ہر کسی سے پوچھتے ہیں
یہ کام کس نے کیا ہے ‘ یہ کام کس کا تھا