جڑوںسے جڑے رہنا

دنیا میں صنعتی ا نقلاب کے بعد دیہات اور پنڈوں سے لوگ شہروں کی طرف ہجرت مکانی کر گئے ۔ یوں شہر پہ شہر آباد ہوتے چلے گئے ‘ اور پھر ایک وقت آیا کہ دیہاتی اورپینڈو لوگ شہری بن گئے ۔ شہر کے اپنے تقاضے اور وارے نیارے تھے ۔ صنعتی ا نقلاب نے زندگی کے ہرشعبے کو متاثر کیا ‘ ایک طرف زندگی کو بعض سہولیات فراہم کیں ‘ لیکن دوسری طرف بعض شدید اور خطرناک مشکلات بھی پیدا ہوئیں۔ یہی وجہ تھی کہ لندن جب ترقی کی راہ پر گامزن ہونے لگا اور وہاں کارخانوں پر کارخانے وجود میں آنے لگے اور ان کارخانوں کی مصنوعات کو مختلف شہروں اور ملکوں تک پہنچانے کے لئے لندن میں ریلوے کی پہلی پٹڑی بچھائی گئی تو تھامس ہارڈی نے اس انقلاب پر اپنی شاعری میں آنسو بہا کر لندن کی دیہاتی خاموشی اور فطری حسن کے ختم ہونے پر ماتم کیا۔ آج امریکہ اور مغرب وچین کی وجہ سے دنیا کوکاربن کے بے تحاشا اخراج اور فضائی آلودگی کے سبب شدید اور المناک خطرہ درپیش ہے ‘ یہاں تک کہ ماحولیات کے ماہرین 2030ء تک ( اگراس کا تدارک نہ کیا گیا) تو انسانی ہاتھوں برپا ہونے والی قیامت کی اصل سے پہلے آنے کی پیشنگوئی کر رہے ہیں۔ لیکن چھوڑیئے۔ یہ لمبی کہانی ہے اور ہم میں سے بہت سوں کو اس کا علم اور احساس ہے لیکن اس سلسلے میں ا پنا کردار ادا کرنے سے پہلو تہی بھی کرتے ہیں۔ یہ تمہیدی جملے مجھے اس لئے لکھنے پڑے کہ چند دن قبل میں تقریباً ایک برس بعد اپنے آبائی گائوں (میٹھا خیل(کرک) کی زیارت کرنے پہنچا تو کئی حوالوں سے میری حیرت کی انتہا نہ رہی۔
ایک طرف بڑی خوشی ہوئی کہ میرے اس گائوں کے ہر گھرمیں آج سوئی گیس جل رہی تھی جہاں ہماری مائیں ‘ دادیاں اوربہنیں بیٹیاں لکڑی اوپلے اور ٹانٹے جلا جلا کر دمے اور ٹی بی کی شکار ہو کر اس دنیا سے رخصت ہوچکی ہیں ‘ اور اس کے ساتھ ہی کرک شہر سے صابرآباد تک وسیع وعریض سڑک پرگاڑیوں ‘ موٹر کارں اورموٹرسائیکلوں کا رش دیکھ کرخوش بھی ہوا اور پریشان بھی ‘ کہ ایک طرف لوگ غربت اورمہنگائی کارونا رو رہے ہیں اور دوسری طرف تقریباً ہر گھر میں کم ازایک موٹر سائیکل دستیاب ہے ۔ ہمارے گائوں کا وہ اڈہ جہاں سے پشاور کے لئے دو پرائیویٹ بسیں اور ایک جی ٹی ایس(گورنمنٹ ٹرانسپورٹ سروس)اور بنوں کے لئے دوتین بسیں(جنہیں ٹیم گاڈی یعنی مقررہ وقت پرچلنے والی بسیں کہا جاتا تھا) نکلنے کے بعد آمدورفت کے لئے کوئی ٹرانسپورٹ دستیاب نہ تھی ‘ آج سڑک پار کرنا مشکل ہو رہا ہے ۔ ہر شخص کو روزی کمانے کے وسائل و ذرائع دستیاب ہیں اور واللہ میرے ضلع میں کسی کو بھوک سے نڈھال ہونے کا خطرہ لاحق نہیں ہے ۔ جب کرک جیسے پسماندہ علاقے کا اب یہ حال ہے تو باقی پختونخوا کا اندازہ بھی اس سے لگایا جا سکتا ہے یہ سب وطن عزیز پاکستان کی برکات ہیں ‘ یہ الگ بات ہے کہ ہم میں سے بہت کم اللہ تعالیٰ کی ان نعمتوں کا شکرادا کرتے ہیں۔
اس کالم کا سبب نزول دراصل میرے گائوں کا دورہ تھا ‘اور میں اپنے ان تمام دوستوں سے جو شہروں میں آباد ہیں یہ کہنا چاہوں گا کہ جب بھی موقع ملے ‘ اپنے آبائی گائوں ‘ پنڈ کی زیارت کے لئے نکلا کریں اس سے ایک تو بچپن کی یادیں تازہ ہوجاتی ہیں دوسرا بہت سارے یار دوستوں سے ملاقاتیں روحانی سکون اورطمانیت کا سبب بنتی ہیں۔
اس دورے کی حاصل دو چیزیں یادگار رہیں گی ‘ ایک اپنے بہت سے محترم ‘ قابل ‘ صاحب کردار اور لائق فائق استاد مکرم جن کی خاکسار پر بہت احسانات ہیں اور آٹھویں سے میٹرک تک خصوصی رہنمائی اور شفقت کے سبب آج ہم بھی پشاور کے باسی بنے ہی۔ ا ن کی عمر اس وقت 84برس ہے لیکن خوبصورت کردار کے سبب آج بھی تروتازہ تھے ۔ ان سے گلے ملا تو چارپانچ منٹ تک چمٹا رہا اور اللہ گواہ ہے کہ ان کے جسم سے خارج ہونے والی روحانی فریکونسی سے دل وجان کو ایک عجیب طمانیت و سرورحاصل ہو رہا تھا اس ملاقات کے موقع پر علامہ اقبال کا یہ مصرعہ کئی بار گنگنایا”دل چاہتا تھا ہدیہ دل پیش کیجئے”۔
دوسری چیز یہ کہ گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج کرک کے اسلامیات کے اسسٹنٹ پروفیسر سبحان اللہ ‘ جو یاروں کے یار ‘ مہمان دوست اور علم دوست ہونے کے علاوہ ہمارے شاگردوں میں شمار ہیں کی منعقد کردہ وہ تقریب ہے جس میں خاکسار کو مہمان خصوصی کی حیثیت سے شرکت کرنے کا موقع فراہم کیا گیا۔ اس تقریب میں پرل کالج اور میٹھا خیل و ترخہ کہوئی کے اساتذہ اور دانشوروں نے شرکت کی اور اس مجلس کی روح رواں گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج کے پرنسپل حافظ محمد اجمل خان تھے ۔ اس مجلس کے حاضرین میں عرتاب خٹک جیسے شاعر بھی رونق افروز ہوے آپ کٹر قوم پرست شاعر ہونے کے علاوہ ایک خوبصورت انسان ہیں مجھے اپنے کلام پر مشتمل مجموعہ بھی پیش کیا جس میں بہت گہرے معانی کا حامل کلام منظوم موزوں کیا گیا ہے اتنے اچھے لوگوں سے ملاقات کے بعد یہ خواہش گہری ہوتی چلی گئی کہ ”جڑوں سے جڑے رہتے ہیں” زندگی ہے ۔ اپنے رشتہ داروں ‘ اساتذہ اور دوستوں سے ملاقات کے ذریعے اس دنیا سے رخصت شدہ بہت سے لوگ یاد آجاتے ہیں گائوں میں میرا دو دن کا قیام مجھے بہت کچھ عطا کر گیا۔ لہٰذا ان سارے لوگوں کے لئے صلائے عام ہے جودیہاتوں سے آکر شہروں میں آباد ہوئے ہیں کہ کبھی کبھار اپنے جنم بھومی کی خبر لیتے رہا کریں ۔ بقول ا قبال
میری آنکھوں کا نور ہے تو
میرے دل کا سرور ہے تو
اپنی وادی سے دور ہوں میں
میرے لئے نخل طور ہے تو