مشرقیات

مقامی حکومتوں کے نظام کے لئے ہمارے ہاں بلدیاتی انتخابات کا ایک با ر پھرمیدان کارزار گر م کیا جا رہاہے،کوئی انوکھی صورتحال پیدا نہ ہوئی تو امکان غالب ہے کہ یہ انتخابات انیس دسمبر کو ہی ہو ںگے،ان میں حصہ لینے والوں کی اب تو حتمی فہرستیں بھی مرتب ہوچکی ہے، اس لئے ہماری خواہش ہے کہ جیسے تیسے سہی یہ انتخابات اب ہو جانے چاہئیں ،تاہم ساتھ ہی ہم اس خیال کے بھی حامی ہیں کہ تمام تر اصلاحات اور قوانین کے پلندے کے اب بھی اس طریقہ کار میںخامیاں ہی خامیاں ہے جس کے ذریعے کوئی بھی چند ہزار روپے فیس دے کر مقامی سطح پر قسمت آزمائی اور اپنی برادری کے بل بوتے پر میدان میںاتر جاتا ہے۔مان لیا کہ انتخاب لڑنا ہر شہری کا حق ہے ،تاہم جب شہریوں میں شامل بہت سوں کو اپنے ہم نفسوں کے مسائل کا ادراک ہو، نہ انہیںحل کرنے کے قانونی ،سماجی اورمعاشرتی ومعاشی طریقہ کار سے آگاہی تو اگلے دوچار سال پھر ایسے کامیاب امیدواروںکی تربیت کی نذر ہی ہوجاتے ہیں ۔ہم یہ نہیںکہہ رہے کہ تمام ہی امیدوار عقل سے پیدل ہوتے ہیں لیکن اکثریت کو نظام کو سمجھنے یا بہتر بنانے کی لگن نہیں ہوتی بلکہ اپنے جی میں آئی کونسلر یا ناظم کہلانے کی خواہش انہیںبے چین رکھتی ہے اور اپنے دوست احباب کے ساتھ ساتھ عزیز رشتہ داروں اور جان پہچان کے لوگوںکی منت سماجت کے ذریعے اپنا الو سیدھا کرنے چل پڑتے ہیں۔ان امیدواروں کے لئے کسی تعلیم وتربیت کی کوئی شرط نہیںہوتی اور آگے جا کر معلوم ہوتا ہے کہ بغیر ضروری تربیت کے ان کے ذریعے کام چلایا ہی نہیںجا سکتا۔اس لئے کوئی برا نہ منائے تو عرض ہے کہ بلدیاتی اداروں کے ذریعے سیاست میں آنے کے ان شوقین حضرات سے کم ازکم ایک سال پہلے درخواست طلب کی جائے اور اس ایک سال کے دوران ان کی تعلیم وتربیت کا مرحلہ ان ہی کے جمع خرچ پر شروع کرکے بلدیاتی انتخابات سے قبل ان کا ضروری امتحان لے کر امیدواری پر پورا اترنے والے امیدواروںکو چھان لیا جائے،ان تربیت یافتہ امیدواروںمیںسے پھر جو بھی کامیاب ہو، اسے بلدیات کے نظام اور طریقہ کار کے بارے میں دوبارہ سے تربیت دینے کی ضرورت نہیں ہوگی بلکہ تربیت یافتہ امیدوار اپنے کام او ر ذمہ داریوں کی ادائیگی کے لئے اہل بھی ہوں گے۔اس سے ان امیدواروں کی حوصلہ شکنی بھی ہوگی جو صر ف اپنے شوق کی بھینٹ مقامی آبادی کو چڑھانے کے لئے لنگوٹ کس کر میدان میں اتر جاتے ہیں۔