آئی ایم ایف کا سیاسی ایجنڈا

ڈاکٹر فرخ سلیم ملک کے معروف اور معتدل ماہر معیشت ہیں ۔موجودہ حکومت سے زیادہ خوش نہیں کیونکہ حکومت انہیں معیشت کے حوالے سے ذمہ دے کر پراسرار انداز میں واپس لے چکی ہے ۔ملک کی معاشی صورت حال پر خالص پروفیشنل اور ٹیکنو کریٹ کے انداز میں غیر جذباتی تبصرہ کرتے ہیں۔ڈاکٹر فرخ سلیم نے ایک ٹی وی انٹرویو میں بہت معنی خیز بات کی ہے کہ آئی ایم ایف صرف ایک معاشی ہی نہیں سیاسی ادارہ بھی ہے ۔امریکہ اس ادارے کا سب سے بالادست ستون ہے جب آپ” ابسلیوٹلی ناٹ ”کہیں گے تو اس کا خمیازہ بھی بھگتنا ہوگا۔ڈاکٹر فرخ سلیم کا تجزیہ تھا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات کامیابی کی طرف جاتے ہوئے دکھائی نہیں دیتے۔ایک پروفیشنل ماہر معیشت کا یہ تبصرہ اپنے اندر بہت سی کہانیاں اور جہتیں لئے ہوئے ہے ۔آئی ایم ایف کے ساتھ تعلقات کا اثر ورلڈ بینک ۔ایشین ڈویلپمنٹ بینک اور دوسرے کمرشل بینکوں کے ساتھ لین دین اور قرض کے معاملات پر بھی پڑتا ہے ۔گویا کہ آئی ایم ایف کسی بھی ملک کو معیشت کی شہ رگ پر پائوں رکھ کر سانس روکنے کی قدرت رکھتا ہے اور ایسے ملک جن کی معیشت کا کلی انحصار قرض کے آکسیجن ٹینٹ پر ہو جو اپنی سوئی بھی تیار کرکے بیرونی دنیا میں بیچنے اور بھیجنے کی صلاحیت سے عاری ہو چکا ہو آئی ایم ایف کا دبائو برداشت کرنے کے متحمل نہیں ہوسکتے ۔آئی ایم ایف کی طرح فیٹف بھی سیاسی ادارہ ہے ۔عالمی عدالت انصاف بھی ایساہی سیاسی ادارہ ہے۔آئی ایم ایف کسی ملک کی معیشت کا پہیہ جام کر سکتا ہے تو فیٹف کے ذریعے کسی بھی ملک کی بین الاقوامی ساکھ تباہ کرکے اسے دنیا کے لئے بدنام اور خطرناک ملک بنا کر پیش کیا جا سکتا ہے ۔دہشت گردی سے بریکٹ کئے جانے والے کسی بھی ملک کی سیاحت اور کاروباری معاملات بری طرح متاثر ہوتے ہیں ۔پاکستان اس وقت یہ سب کچھ بھگت رہا ہے۔آئی ایم ایف اس وقت پاکستان کے ساتھ جو سلوک روا رکھے ہوئے ہے یہ کوئی ڈھکا چھپا معاملہ نہیں امریکہ نے پہلے ہی بتادیا تھا کہ افغانستان میں عدم تعاون کرنے کی صورت میں ان کے پاس پاکستان کا بازو مروڑنے کے لئے سب سے بہترین آپشن معاشی ہے اور اب امریکہ آئی ایم ایف کے ذریعے اس آپشن کا بھرپور استعمال کر رہا ہے ۔پاکستان پر اس عتاب کی وجہ گزشتہ دہائی میں پاکستان کی ملٹری اسٹیبلشمنٹ کا وہ فیصلہ ہے جس کے تحت پاکستان کو مغربی بلاک کے ساتھ اپنے سٹریٹجک معاملات کو سمیٹ کر چین اور روس کی قیادت میں اُبھرنے والے ایشین بلاک کا حصہ بننا ہے ۔پاکستان کے علاوہ اس فیصلے میں ترکی ،ایران اور ملائیشیا جیسے ممالک تھے ۔مصر بھی اس صف میں شامل ہونے کی تیاری کر رہا تھا کہ محمد مرسی کی حکومت کا تختہ اُلٹ دیا گیا ۔پاکستان نے اس حوالے سے اپنا سفر شروع کیا تو مغرب کے زیر اثر اداروں نے اس عمل میں رکاوٹیں ڈالنا شروع کیں اور یوں ایک کشمکش سی اُبھرتی چلی گئی ۔عمران خان کی سیاست میں اُبھار اور اُبال کا محرک یہی فیصلہ تھا کیونکہ وہ ذہنی طور پر یہ سمجھتے تھے کہ مغرب کے بالادست اداروں سے جان چھڑانے کا وقت آگیا ہے۔اس لئے مغربی اداروں نے اس تبدیلی کو ٹھنڈے پیٹوں قبول نہیں کیا ۔مغربی نظام اور دوہرے میعارپر کڑی تنقید کرکے انہوں نے ناراضی کو غیض وغضب میں بدل دیا ہے ۔امریکی صدر جوبائیڈن تقریباََعمران خان حکومت کے ساتھ کسی قسم کا تعلق برقرار رکھنے سے کھلا انکار کر چکے ہیں ۔امریکہ کے زیر اثر عرب بلاک کے ساتھ پاکستان کے تعلقات پنڈولم کی طرح جھول رہے ہیں ۔پاکستان نے ”ہرگزنہیں” کے جس راستے پر چلنے کا فیصلہ کیا تھا تو اس کے نتائج اور عواقب کا جائزہ نہیں لیا گیا تھا۔امریکہ نے اس قدر آسانی سے پاکستان کو کیمپ نہیں بدلنے دینا تھا۔پاکستان کے اندر امریکہ کی لابی اسٹیبشلمنٹ سے سیاست تک سب سے بااثر سمجھی جا تی ہے۔مغربی ملکوں میں اعلیٰ ملازمتیں ،آف شور کمپنیاں ،محلات اور پلازے اسی دن کے لئے جمع اکھٹے کرنے کی اجازت دی گئی تھی کہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کی سخت گیر لابی کے فیصلے کے نتیجے میں اس سفر کو روکنے میں اپنا کردار ادا کریں۔اس لمحے پاکستان کو حالات کا شکار ہونے سے بچانے کے لئے چین کا کوئی بھی ٹھوس پلان بی نظر نہیں آتا ۔موجودہ لڑکھڑاتی اور ڈولتی معیشت کے ساتھ پاکستان”ہرگز نہیں ” کے فیصلے اور راستے پر تادیر قائم نہیں رہ سکتا۔اگر پاکستان ہر قسم کے دبائو کو نظر انداز کرکے اس راستے پر گامزن رہتا ہے تو اسے ایک معجزہ ہی کہا جا سکتا ہے۔اس کی قیمت بہرحال ادا کرنا ہے اور عام پاکستانی بھی پوری طرح یہ قیمت ادا کر رہا ہے ۔ حکومت کی صلاحیت کا کمال یہ تھا کہ وہ عام آدمی پر اس عتاب کا کم ازکم بوجھ ڈالتی ۔اس سے حکومت عدم مقبولیت کا یہ عالم نہ ہوتا ۔معیشت کی اس چاق دامانی کی وجوہات سے اسٹیبلشمنٹ غافل نہیں ۔اس لئے ایک صفحہ پھٹنے کا کوئی جواز بظاہر نظر نہیں آتا۔