کوئی سنجیدہ کیوں نہیں ہوتا؟

ایک دن میں33بل منظور ‘ ایک تاریخی دن تھا ‘ کبھی کسی اسمبلی کو ایسی عجلت میں نہیں دیکھا گیا تھا ۔ بحث طلب بات یہ نہیں کہ کون کونسے بل منظور کئے گئے ‘ اور اس کے حوالے سے اپوزیشن کے کیا جذبات ہیں؟ موجودہ اپوزیشن کے علاوہ بھی جب بھی کوئی بھی کہیں بھی حزب اختلاف میں شامل ہوتا ہے تو اس کردارمیں ڈھل جاتا ہے ۔ اس کے سامنے صرف اختلاف کا لفظ ایک چمکدار نشان بن کر چمکتا رہتا ہے ‘ اور وہ کئی دفعہ اختلاف برائے اختلاف کے بھنور میں الجھ کر رہ جاتے ہیں۔ کسی اقدام کی بنیاد پر بحث ہونی چاہئے ۔ اس سب میں کوئی شک نہ ہوتو اس کی بہتری کے طریقے تلاش کرنے چاہئیں۔ اس کی کجی دور کرنے کی کوشش کرنی چاہئے ۔ اس کی کوتاہیوں کا ازالہ کرنے کے راستے تلاش کرنے چاہئیں محض اس لئے کہ حزب اختلاف کا سابقہ نام کے ساتھ لگا ہے ‘ اختلاف ہی کرنا کچھ ایسا قابل قدر عمل نہیں۔ اس ساری تمہیں کا یہ مطلب نہیں کہ میں کسی طور بھی یہ کہنا چاہتی ہوں کہ جو 33 بل اسمبلی میں پیش کئے گئے وہ سارے ہی نک سک سے بالکل درست تھے ‘ کمال تھے اور اس میں کسی قسم کی کوئی کمی یا کجی نہیں۔ یہ بحث تو اپنے اندر خود ایک نیا موضوع ہے ۔ ابھی تک تو اس تعداد کی حیرت ہی ذہن سے محو نہیں ہوئی ۔ اتنے ہی بل مشترکہ اجلاس میں ایک ہی دن منظور کئے جانے کا ایک مطلب تو بالکل واضح ہے کہ حکومت کو یہ اندازہ ہوچکا تھا کہ دوبارہ ان کے لئے اپنے لوگوں کو یوں مجتمع کرنا ممکن نہ ہوگا۔ گزشتہ دنوں میں وہ معاملات کا بگاڑ تو دیکھ ہی چکے تھے ‘ سو مناسب ہی سمجھا گیا کہ ایک ہی اجلاس میں جتنے کام ہوسکیں نکال لیے جائیں ۔
سیاست کی اپنی الگ مجبوریاں ہوتی ہیں۔ ان مجبوریوں میں نااہلی کی گنجائش ذرا کم ہوتی ہے ۔ بدعنوان سیاست دان کو لوگ پھر بھی جھیل لیتے ہیں لیکن نااہل سے تو ان کا غصہ ہی کم نہیں ہوتا۔ اس حکومت کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا ہے ۔ ان کے حکومت میں آنے سے پہلے ان کے حوالے سے غلط فہمیاں تھیں۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ یہ غلط فہمیاں صرف اوروں کو ہی نہیں خود ان کو بھی اپنے حوالے سے رہیں۔ اب معاملہ یہ ہے کہ اوروں کو تو ان کے بارے میں غلط فہمی دور ہوگئی لیکن یہ اب تک اپنی عظمت کے سراب میں الجھے ہوئے ہیں۔ یہ باربار مجھے شفیق الرحمان کے اس جملے کی یاد دلاتے ہیں”کہ اگر آپ کے بچے نالائق ہیں تو چنداں فکر نہ کیجئے ‘ بڑے ہو کر یا تو یہ عقلمند ہوجائیں گے یا یہ اپنے آپ کو عقلمند سمجھنے لگیں گے”۔ اس حکومت کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی رہا اپوزیشن میں تو یہ جو تھے سوتھے حکومت میں آکر یہ اپنے آپ کو عقلمند سمجھنے لگے ‘ اور پھر ایسا عقلمند سمجھا کہ ان کے اس ذاتی فریب نظر کے سامنے عقل بھی پانی بھرتی نظر آئی۔ اب وہ جو بل لے کر آئے ہیں ان کے حوالے سے ایوان میں بحث ہونی چاہئے تھی ‘ لوگ اس حوالے سے اپنے اپنے خیالات کا اظہار کرتے کچھ اچھی ‘ کچھ بری باتیں ہوتیں لیکن اس سے ان بلوں میں کچھ اور درستگی ‘ کچھ اور بہتری کا امکان پیدا ہوتا۔ ہر قسم کی آراء سامنے آتیں تویقیناً کچھ نہ کچھ مثبت تبدیلی ‘ خیالات میں پیدا ہوتی لیکن ہمارا المیہ یہ ہے کہ حزب اختلاف بھی بالیدگی فکرو روح سے اتنی ہی دور ہے جتنی کہ حکومت وقت ‘ سو کشمکش شوق میں عوام الناس کا ”ناس” ماردیاگیا ہے ‘ اور پھر یہ سوچ کر بھی دل جلتا ہے کہ عامر لیاقت حسین جیسے سیاستدان نے رازکھول کر یہ بتا دیا کہ ہم آئے نہیں بڑے اہتمام سے لائے گئے ہیں ‘ اور جب ان سے پوچھا گیا کہ انہیں کون لایا ہے تو انہوں نے حسب معمول زیر لب مسکرا کر کہا”جو ہمیشہ لاتے ہیں”۔ اب یہ ہمشگی والی باتیں بھی دل کو دکھ دیتی ہیں اور اس کے باعث پاکستان کے اکثر معاملات پرسے یقین اٹھ جاتا ہے ‘ اور ان معاملات پر سے یوں یقین کا اٹھ جانا بھی اس ملک اور اس کے عوام کے لئے اچھا نہیں ۔ مگر کیا کیجئے کہ ہمارے حالات بدلتے ہی نہیں اور ہمیں اپنے حالات کے بدلنے کا گر بھی نہیں آتا۔ یہ گر تو ہمیں تب آئے جب ہم خود اپنے ہی ساتھ ایمان دار ہوجائیں ‘ اور یہ کیونکر ہو کہ جو شئے فطرت میں شامل ہی نہیں وہ بھلا کسی کے کہنے یا سفارش سے خود میں پیدا کہاں کی جا سکتی ہے ۔
33 بل منظور ہوئے اور اپوزیشن نے اپنے ارادوں کا اظہار کرنا شروع کر دیا۔ بلاول بھٹونے عدالت میں چیلج کرنے کا عندیہ دے دیا۔ شہباز شریف نے اسے پارلیمانی تاریخ کا تاریک دن قرار دیا ‘اور تو اور مولانا فضل الرحمان نے بھی انتخابی اصلاحات کو جوتے کی نوک پر رکھنے کا اعلان کر دیا ۔ اب کوئی اور سے کیا کہے ‘ کیسے اس فہرست کی تفصیل پوچھے کہ وہ اور کون کونسی چیزوں کو جوتے کی نوک پر رکھتے ہیں’ اور دوسرا یہ کہ کس جوتے کی نوک پر اور کیا کیا رکھا گیا ہے ۔ یہ جوتے کی نوک بھی کمال نوک ہے کئی بار بندوق کی نال سے زیادہ خطرناک ثابت ہوتی ہے خاص طور پر اس وقت جب جوتے کی نوک اس کی ہو بندوق کی نال بھی جس کے اشارے کی محتاج ہو۔
جو بل منظور ہوئے ان کے پس پشت اس ملک سے کتنی محبت اور وفاداری کام کر رہی ہے اور کس قدر زور اس نااہلی کا ہے جس نے اس ملک کو جڑ سے ہی اکھاڑ کر رکھ دینے کا ارادہ کیا ‘ محسوس ہوتا ہے یہ ایک لمبی گریہ وزاری ہے ۔ ہم اپنے ہی ملک میں کئی طاقتوں کے غلام ہیں اور ماسوائے گریہ وزاری کے اور کچھ کر بھی نہیں سکتے ۔ مہنگائی اتنی ہو چکی ہے کہ ہم کسی اور بات کے متحمل نہیں ہوسکتے جانے کیوں آجکل دل بارباراس نقشے کی جانب لوٹ جاتا ہے جس میں 2025ء اور پاکستان کے حوالے سے اہم پیشن گوئیاں کی گئی تھیں۔ اگرچہ میں آج بھی اس سب پر یقین نہیں رکھتی لیکن پاکستان کے دشمن بے شمار ہیں اور خود پاکستانی بھی اپنی ہی حفاظت میں ناکام ‘ اب بھی اگر ہم اپنی ڈگر اور بے عملی پر گامزن رہے تو ہمارا مستقبل کیا ہو گا اس حکومت کا توکوئی مستقبل نہیں اور اس کے ساتھی چڑھتے سورج کے ساتھ ہیں ہر حکومت میں کسی نہ کسی روپ میں دکھائی دیتے ہیں لیکن اصل سوال تو یہ ہے کہ آخر اس ملک اور اس کے عوام کے حوالے سے کوئی بھی حکمران سنجیدہ کیوں نہیں ہوتا۔