بستی بسانا کھیل نہیں

خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے صوبے کے سب سے بڑے رہائشی منصوبے گندھارا ویلی سٹی پر عمل درآمد کے سلسلے میںپراجیکٹ مینجمنٹ یونٹ کے قیام کی باقاعدہ منظوری پیش رفت ہے بورڈ اجلاس میں مجوزہ گندھارا ویلی سٹی کا نام تبدیل کرکے نیو پشاور سٹی رکھنے کی منظوری دے دی گئی ۔اجلاس میں پی ڈی اے کی استعداد کار اور خدمات کی فراہمی کے عمل میں بہتری لانے کیلئے ایک سروس ڈیلیوری یونٹ کے قیام کی بھی منظوری دے دی گئی اجلاس میں پی ڈی اے کی حدود میں پرائیویٹ ہائوسنگ سکیموں کو ریگولیٹ کرنے کیلئے پرائیویٹ ہائوسنگ سکیم مینجمنٹ اینڈ ریگولیشنز رولز2021کے مسودے کی اُصولی منظوری دے دی گئی جو حتمی منظوری کے لئے صوبائی کابینہ کو پیش کیا جائے گا۔صوبے کے اس سے سب سے بڑے رہائشی منصوبے کے نام کی بار بار تبدیلی مناسب نہیں حکومت کو ا گر کسی نام پر اطمینان نہیں تو اس کے لئے اسمبلی یاپھرعوام سے رجوع اور موزوں نام دینے کے لئے رائے لی جا سکتی ہے نام میں کیا رکھا ہے کے مصداق اصل بات نام نہیں بلکہ کام ہے نیوپشاور سٹی ہو یا پشاول ماڈل ٹائون یاگندھارا سٹی کسی ایک نام پر اتفاق ہونا چاہئے جہاں تک اس کے لئے ماہرین تعمیرات کی خدمات کا حصول و تقرر کا معاملہ ہے اس میں شفافیت و قابلیت کے ساتھ ساتھ امیدواروں کے ماضی اور دیانتداری کابھی خیال رکھا جائے تو بہتر ہوگاپی ڈی اے کے استعداد کارکا سوال اس کے باوجود اٹھے گا کہ اب ادارے میں شاید اس طرح کے افراد موجود نہیں جو حیات آباد ٹائون شپ کے قیام کے وقت تھے ریگی للمہ ٹائون شپ کا برسوں بعد ویران اور نامکمل منظر اس امر کا متقاضی ہے کہ اس بڑے منصوبے کے آغاز سے قبل پی ڈی اے کی استعداد کا رکو جانچا جائے تاکہ ریگی للمہ ٹائون شپ کے ناکام تجربے کا اس بڑی رہائشی سکیم میں سامنانہ ہو۔ پی ڈی اے کی حدود میں نجی ہائوسنگ سوسائٹیوں کو ریگو لیٹ کرنے کے اقدامات احسن ہیں جس کی منظوری کے بعد ان پرعملدرآمد کے لئے موثر میکنزم پر بھی غور و حوض ہونا چاہئے تاکہ ریگولیشنز صرف کاغذوں تک محدد نہ ہوں بلکہ عملی طور پران پر عملدرآمد بھی ہو اس امرکوبھی مد نظر رکھنے کی ضرورت ہے کہ یہ قوانین اور قواعد و ضوابط ایک طاقتور مافیا کے لئے بنائے جارہے ہیں جو قانون کوجوتی کی نوک پر رکھنے کی شہرت کے حامل ہیں ریگولیشنز کی منظوری سے زیادہ اہم ان پر موثر عملدرآمد ہو گا جس پر ابھی سے غور اور ٹھوس فیصلے ہوں۔
بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے
خیبر پختونخوا کے نجی سکولوں میں کورونا ایمرجنسی کے پیش نظر یکم جولائی سے 30 ستمبر تک کی مدت کیلئے ماہانہ ٹیوشن فیس پر رعایت کی سہولت میں توسیع کار عبث اس لئے ہے کہ اس پرعملدرآمد کی کوئی صورت ہی نہیں بہرحال پرائیویٹ سکولز ریگولیٹری اتھارٹی کی جانب سے اعلامیہ کی روشنی میں مذکورہ تین ماہ کے دوران ٹیوشن فیس کی مد میں سکولز میں چارج کی گئی رقم آئندہ مہینوں میں طلبہ کی فیسوں میں ایڈجسٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے مگر بلی کے گلے میں گھنٹی باندھے کون؟ امر واقع یہ ہے کہ نجی سکولز اس طرح کی رعایت کو تسلیم کرنے پر تیار نہیں اور والدین سے پوری فیسوں کی وصولی ہو چکی ہے جس کی شکایتیں بھی سامنے آئیں میڈیا پرمطالبات اور احتجاج بھی ہوئے لیکن پرائیویٹ سکولز ریگولیٹری اتھارٹی کے حکام ملی بھگت یاپھراپنی کمزوری کے باعث ان کا نوٹس نہ لے سکے سراسر ناکامی کے بعد اس طرح کے اعلامیہ کے اجراء کی ضرورت ہی کیا تھی اوراگر اعلامیہ جاری کر دیا گیا ہے تو اس پرعملدرآمد کی بھی سعی کی جائے نجی سکولوں کے حسابات چیک کئے جائیں تو دودھ کا دودھ پانی کا پانی خود بخود ہوجائے گا مگر کرے کون؟۔
پولیس کا بے نقاب چہرہ
پشاور میںپولیس کے ہاتھوں قتل ہونے والے بنوں ڈومیل کے رہائشی طالبعلم کے قتل کی تحقیقات کے مطابق دونوں پولیس رائیڈرز مجرم قرار دیئے گئے نشے کی میں دھت پولیس اہلکارنے فائرنگ کی دستاویزات میں دونوں پولیس اہلکاروں کو مجرم ٹھہرایا گیا ہے اور تھانہ فقیر آباد پولیس انسپکٹر اور محرر کی سنگین کوتاہیوں کی نشاندہی کی گئی ہے کہ اپنے پیٹی بندبھائیوں کو بچانے کیلئے ہرممکن کوشش کی گئی ہے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کی سربراہی میں اٹھارہ صفحات پر مشتمل رپورٹ میں جن امور کی نشاندہی کی گئی ہے اس کی روشنی میں جن ملزموں کوقصور وار قرار دیا گیا ہے وہ اپنی جگہ لیکن جن پولیس اہلکاروں نے ان کو بچاے کی کوشش کی ہے ان کے خلاف بھی سخت اقدامات کی ضرورت ہے پولیس کے اعلیٰ حکام کوکالی بھیڑوں سے پولیس فورس کو پاک کرنے کے لئے ازخود اس طرح کے واقعات کی تحقیقات کا وتیرہ اختیارکرنا چاہئے تاکہ کوئی بھی کیس پر اثر انداز نہ ہواندرونی احتساب کامسلسل عمل ہی پولیس اہلکاروں کا قبلہ سیدھا کیا جا سکتا ہے ۔