18 سال سے پہلے شادی کی اجازت

حالات کے مطابق 18 سال سے پہلے بھی شادی کی اجازت دینے پرغور

ویب ڈیسک(پشاور) خیبر پختونخوا حکومت نے کم عمری کی شادی کی روک تھام کیلئے ایسا قانون مرتب کرنے کی کوشش کردی ہے جس سے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے بچیوں کی شادی ہو سکے تاہم عمر کی حد مقرر کرنے کے حوالے سے اب تک حکومت کی مشاورت جاری ہے صوبے میں خطرات سے دوچار 30ہزار بچوں کی نشاندہی بھی کرلی گئی ہے۔

پشاور یونیورسل چلڈرن ڈے

پشاور میں یونیورسل چلڈرن ڈے منایا گیا جس میں بچوں نے خصوصی ٹیبلوز اور ڈرامے پیش کئے اس موقع پر تقریب کے مہمان خصوصی صوبائی وزیر محنت شوکت یوسفزئی تھے شوکت یوسفزئی نے اپنے خطاب میں کہا کہ کم عمری کی شادی کی روک تھام کیلئے ایسا قانون تیار کررہے ہیں جو سب کیلئے قابل قبول ہوگا صرف عمر کی حد18سال مقرر کرنا کافی نہیں ہوگا ہمیں حالات اور واقعات کو بھی تناظر میں رکھناہوگا افغانستان میں جو حالات جاری ہیں اگر اسی قسم کی صورتحال ہو تو ایسے میں بچیوں کو سہارے کی ضرورت ہوتی ہے جس کیلئے 18سال کی عمر مقرر کرنا درست نہیں ہوگا کم عمر میں شادی کی اجازت حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے دی جائیگی تاہم کسی کو ایسے بھی آزاد نہیں چھوڑ سکتے کہ وہ 10سالہ بچی کی شادی کردے۔

تقریب سے خطاب میں سیکرٹری سماجی بہبود سید ذوالفقار علی شاہ نے کہا کہ بچے ہماری قومی اثاثہ ہے، ہمارا مستقبل اور آنے والے کل کی امید ہیں۔ ڈپٹی چیف چائلڈ پروٹیکشن کمیشن خیبر پختونخوا اعجاز محمد خان نے بتایا کہ پاکستان نے بچوں کے حقوق سے متعلق اقوام متحدہ کے کنونشن پر دستخط کیے اور اس کی توثیق کی، پاکستان میں بچوں کو ہر قسم کی زیادتی سے بچانے کا عہد کیا گیا ہے۔ خطرے سے دوچار بچوں کے 30ہزار474 بچوں کی نشاندہی کی گئی ہے جس میں 18ہزار808 لڑکے،11ہزار 655 لڑکیاں اور7خواجہ سراء شامل ہیں خصوصی فنڈ کی مدد سے کمیشن 13ہزار954 بچوں کی سماجی اور مالی مدد بھی کی ہے ایگزیکٹو ڈائریکٹر گروپ ڈویلپمنٹ پاکستان صائمہ قدیر نے کہا کہ پاکستان میں 13 میں سے 8 چائلڈ کورٹس خیبر پختونخوا میں قائم ہو چکی ہیں جو کہ بہترین نتائج دے رہی ہیں ۔