تعلیم اور ترقی

پوری دنیا میں57اسلامی ممالک آباد ہیں ان میں سے اکثر ممالک بد امنی ‘ غربت ‘مصائب اور جنگ وجدال میں مبتلا ہیں ان اسلامی ممالک میں سے ایک ملک بھی ترقی یافتہ اور سپر پاور ممالک کی لسٹ میں شامل نہیں ترقی یافتہ اور سپر پاورز ممالک سب غیر مسلم ہیں۔انہی ممالک نے کمزور ممالک کو اپنا غلام بنایا ہوا ہے ان کی شرارتوں سے کمزور ممالک محفوظ اور آزاد نہیں ہیں وہ جو کچھ کہتے ہیں کمزور ممالک من وعن اسے تسلیم کرتے ہیں یہ اس لئے کہ وہ طاقتور ممالک کا مقابلہ نہیں کرسکتے ۔سپر پاور ممالک نے جو ترقیاں کی ہیں ان کے لئے انہیں خوب محنت ‘جدوجہد ‘منصوبہ بندی اور تعلیمی ترقی سے گزرنا پڑا ہے وہ اعلیٰ مصنوعات تیار کرتے ہیںپھر یہ مصنوعات دنیا کے گوشے گوشے تک پہنچتی ہیں اس سے وہ کثیر مال و دولت حاصل کرتے ہیں اسی طرح وہ پوری دنیا میں اپنی سائنسی ایجادات بھیجتی ہیں اور اپنی معیشت مضبوط کر تی ہیں ان کی معیشت مضبوط ہونے کی وجہ سے وہ ترقی یافتہ ممالک کی صفوں میں شامل ہوئے ہیں مادی اشیا کی کثرت کی وجہ سے دنیا میں ترقی ہوتی ہے جن کے پاس مال و اسباب ‘زراعت ‘ سونا ‘ چاندی ‘ معدنیات اور کارخانے وافر مقدار میں موجود ہو ں تو وہ ممالک ترقی کے راستے پر گامزان ہوتے ہیں اور جن ممالک کے ساتھ یہ وسائل اور سامان نہ ہو ں تو وہ ممالک کمزور اور غریب ہوتے ہیں مسلم ممالک اس وجہ سے کمزور ہیں کہ وہ اپنی معیشت مضبوط کرنے کے لئے نہ کوئی قدم اٹھاتے ہیں اور نہ کوئی منصوبے تیار کرتے ہیں وہ سائنسی،فنی، اقتصادی اور مذہبی علوم کی طرف بھی کوئی دھیان نہیں دیتے۔ دنیا میں جتنے ترقی یافتہ ممالک ہیں ان سب ممالک کی ترقی کے اسباب مختلف ہیںلیکن ایک سبب سب ممالک میں مشترک ہے وہ بہترین نظام تعلیم ہے تعلیم کے ذریعے سے قومیں بنتی ہیں۔ اور جو قومیں پیچھے ہوتی ہیں دراصل وہ تعلیم پر توجہ نہیں دیتیں ۔ لیکن صحیح تعلیم کے لئے محنت ،لگن،امن اور اچھا ماحول ہونا ضروری ہے ۔ترقی یافتہ ممالک ہر قسم کی تعلیم کو اہمیت دیتے ہیں ان کی تعلیم میں یکساں نصاب ‘
تعلیم مادری زبان میں ‘ قابل اساتذہ ‘ بہترین ادارے اور سب سے اہم وجہ حکومت کی طرف سے زیادہ بجٹ مختص کرنا ہوتا ہے سائنسی ایجادات اور سائنسی نظریے علم اور عقل سے معرض وجود میں آتے ہیں اس کے لئے مسلمان اور کافر کی کوئی تخصیص نہیں ان دونوں میں جس نے بھی اس میں زیادہ کوشش کی تو اللہ تعالیٰ ٰاس کو عطا کرتے ہیں اس وجہ سے سائنسی علوم میں آج کل مسلمانوں کے مقابلے میں غیر مسلم زیادہ محنت اور جدوجہد کر رہے ہیں اسی لئے دنیا میں ان کی ایجادات زیادہ ہیں اور ان ایجادات کی وجہ سے وہ کافی مال و دولت کماتے ہیں ۔ حالانکہ تاریخ گواہ ہے کہ اکثر سائنسی علوم کے موجدین اول مسلمان سائنسدان گزرے ہیں ۔ہر سال دنیا کے بیس مالدار ترین افراد کی لسٹ شائع ہو تی ہے افسوس کی بات یہ ہے کہ اس میں ایک بھی مسلمان شامل نہیں ان میں اکثر افراد علم کی وجہ سے مالدار ہیں جیسے بل گیٹس کئی دفعہ دنیا کے امیر ترین شخص قرار پائے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے مائیکرو سافٹ نام سے کمپنی بنائی ہے جس میں کمپیوٹرز کے لئے مختلف قسم کے سافٹ وئیر بنتے ہیں اس فنی علم کی وجہ سے وہ بہت زیادہ مال و دولت کما رہے ہیں ۔ان کے کل اثاثے131ارب ڈالرز کے ہیںاس طرح فیس بک کا مالک چیف مارک ذکر برگ دنیا میں چوتھا مالدار ترین شخص ہے ان کے کل اثاثے 129ارب ڈالرز ہیں یعنی پاکستان پر جتنا قرض بیرونی ممالک کا ہے اس سے زیادہ مالیت وہ رکھتے ہیں گوگل کا مالک بھی انہی بیس افراد میں شامل ہے فن لینڈ، ہنگری اور تھائی لینڈ موبائل کے صنعت سے اربوں ڈالرز سالانہ بنیاد پر کماتے ہیںان ممالک نے موبائل کے پیدوار میں بہت ترقی کی ہے وہ مارکیٹ میں نئے نئے ورژن موبائل متعارف کرتے ہیں۔امریکہ ساری دنیا پر اپنی
حکمرانی کررہا ہے ان کے ساتھ سائنس وٹیکنالوجی کے علم موجود ہیں وہ سب سے زیادہ اور اعلیٰ قسم کا اسلحہ بنانے والا ملک ہے وہ اسی ذریعے سے اربوں ڈالرز کما رہا ہے اسی طرح وہ دیگر مصنوعات جیسے اعلیٰ قسم کا موبائل’ کمپوٹرز اور بہترین قیمتی گاڑیاں بناکر عالمی دنیا پر فروخت کر رہا ہے امریکہ نے اعلیٰ قسم کی مصنوعات میںساری دنیا کو پیچھے چھوڑ دیا ہے امریکہ اور دیگر یورپی ممالک فنی علوم رکھنے والے لوگوں کو بہت پسند کرتے ہیں پاکستان ‘انڈیا اور دیگر ممالک سے گئے ہوئے لوگ وہاں پر جو کام کاج ‘ ٹیکنیکل کام اور تجارت کرتے ہیں وہاں کی حکومتیں ان کی حوصلہ افزائی کرکے ان کو سہولیات مہیا کرتی ہیں یعنی کام کاج کرنے والے افراد کو اس لئے وہ عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں کہ یہ افراد حکومت کو ٹیکس ادا کرتے ہیں اور ملک کی ترقی کے لئے فائدہ مند ہوتے ہیں پاکستان میں ہر نئی حکومت تعلیم کے بارے میں اچھے اچھے اعلانات کرتی ہے۔ اس کے لئے بڑے بڑے بجٹ مختص کرتی ہے ۔لیکن وہ برائے نام قسم کے بجٹ ہوتے ہیں۔ اس پر عمل درآمد نہیں ہوتا ۔ اکثر تعلیمی ادارے مالی بحران کے شکار ہو رہے ہیں ۔ہمارے ملک میں تعلیمی پالیساں عارضی بنیادوں پر بنائی جاتی ہیں مستقل اور پائیدار منصوبے کسی بھی حکومت نے نہیں بنائے۔اب اگر مسلم ممالک اس دنیا میں اپنی ترقی چاہتے ہیں تو ان کو چاہیے کہ سائنسی علوم میں اپنے آپ کو آگے بڑھنے کی کوشش کریں ۔ انہیں سائنسی ایجادات ‘ تحقیق’معیشت اور تجارت کے لئے ٹھوس منصوبہ بندی کرنی چاہئے۔سائنس وٹیکنالوجی کے لئے علیحدہ یونیورسٹیاں تعمیر کر نی چاہئیں ۔ تعلیمی اداروں میں سائنس مضامین کے اساتذہ کی تقرریاں کرتے وقت مقابلے کا سخت امتحان لیا جائے تاکہ قابل اساتذہ کی تقرریاں ہوں سکول’ کالجز اور یونیورسٹیوں میں سائنس ٹیچرز کے لئے خصوصی الائونسز ہونے چاہئیں۔سائنسدانوں کے لئے اچھے سکیلز’ زیادہ تنخواہیں اور پر کشش مراعات ہونی چاہئے تاکہ وہ محنت اور جدوجہد کرکے اپنے ملک کو ترقی یافتہ ممالک کی صفوں میں شامل کرسکیںیہ وہ باتیں ہیں جن پر حکومت وقت عمل پیرا ہو تو وطن عزیز ترقی کر سکے گا ۔