تھالی پھوٹی نہ پھوٹی جھنکار توسنی

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلا س میں ای وی ایم ،سمندر پار پاکستانیوں کو ووٹ کا حق اور بھارتی جا سوس کلبھوشن یا دیو کو اپیل کا حق زیادتی کے مجر مو ں کو نا مرد بنا نے سمیت تینتیس بل منظور کرلیے گئے ، ایک ہی دن میں اتنی بھاری تعداد میں بلو ں کی منظوری پارلیمنٹ کی تاریخ کا حصہ بن گئی ، جب مشترکا اجلاس ملتوی کیا گیا تھا تو جغادری نا قدین طرح طر ح کے قیلو لے ملا رہے تھے ، رمل و نجو م کے ما ہر بنے ہوئے تھے ایک پیچ پھٹ جا نے کی لو ریا ں سنا رہے تھے لیکن مشترکہ اجلا س نے سب پول کھول دئیے اور ثابت کر دیا کہ پیچ تو کوئی پھٹا ہی نہ تھا نہ کوئی پیچ لڑا تھا اورنہ پڑا تھا ، ا ب وہ ہی نا قدین ذائقہ بدلنے کی غرض سے نئی داستانیں لے کر آگئے ہیں ، بہر حال ملکی امو ر پر سنجیدگی کی ضرورت ہو تی ہے نہ کہ رکا کت کی فضاء ، سوال ہو رہا ہے کہ ایک ہفتہ قبل جو روٹھے ہوئے تھے وہ ایک رات میں کیسے ما ن گئے ، کیو ں کہ روٹھے کی وجہ تو بلو ں پر تحفظات ہی کہے جا سکتے ہیں مگر بل تو جو ں کے تو ں منظور کر لیے گئے ، اس بارے میں راولپنڈی اور آبپارہ کے نا موں سے ایک با ر پھر نیا کھیل شر وع کر دیا گیا ہے ، پی ڈی ایم کے سربراہ نے ایک مو لا نا فضل الرّحما ن نے اس بارے میں کچھ بھڑا س نکالی اب اسی چلن پر دیگر لگے ہوئے ہیں مگر سب سے زیا دہ اشارہ فیض حمید کی جانب کیا جا رہا ہے ، اس کے ساتھ ساتھ 19نومبر کی گتھی بھی سلجھا ئی جا رہی ہے یہ ہی لوگ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلا س سے پہلے اس تاریخ کو کسی اور عینک سے دیکھ رہے تھے اب یکا یک شیشے بدل لیے کہ مقصود تاریخ سے دو روز پہلے ہی معاملا ت نمٹا دئیے گئے اب الو داعی چہل قدمی ہو رہی ہے ، اشارہ غالباًفیض حمید کی صدر مملکت سے ملا قات کی طرف تھا ، ادھر حکومتی انس کے عنا صر یہ بینڈ باجا بجا رہے رہے ہیں کہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلا س میں حکومتی کا میا بی سے عمر ان سرخرو ہوئے ہیں ،عجب منظق ہے عمر ان خان تو دھر نا دینے کے روز سے سرخرو چلے آرہے ہیں اور خبر پھیلانے والے اب باخبر ہوئے ، عمر ان خان کیسے سرخرو ہوئے ہیں اس بارے میں سب سے دانشمندانہ تبصرہ پی پی کے قائد آصف زرداری کا ہے ان کا فرما نا ہے کہ ای وی ایم سے مستفید عمر ان خان نہیں ہو ں ہو گے بلکہ کوئی اور ہی ہو گا ، بات تو ٹھیک ہے کیو ں کہ آر ٹی سی کے تجر بہ سے ثابت ہو ا کہ اب ای وی ایم کی زیادہ زیادہ ضرورت ہے ، لہٰذا اس ضرورت کو عمر ان خان نے میسر کر دیا ، جہا ں تک ایک رات میں رضا مندی کی بات ہے تو اس ابہا م کو دور کرنے کی وضا حت پی ٹی آئی کے ہر دلعزیز رکن قومی اسمبلی عامر لیاقت نے میڈیا کے نما ئندو ں کے سوالو ں پر مسکر اہٹ کے بول بول کر کردی ، ان سے استفسار کیاگیا تھا کہ ان کے تو بہت سارے تحفظات تھے وہ پھر کیو ں کر اجلا س میں چلے آئے تو انھو ں بے جھجھک بول دیا کہ وہ خود سے نہیں آئے بلکہ لانے والے لائے ہیں جب استفسار ہو ا کہ کو ن لانے والے تو جواب تھا کہ جو لایا کرتے ہیں اور بڑے اہتما م سے لائے ہیں ، بھا رتی فضائیہ کے پائلٹ ابھی نندن کو جو پاکستان پر حملہ کا مر تکب ہو ا تھا فوری طو رپر اس لیے رہائی مل گئی تھی کہ کلبھوشن یا دیو کی طرح اس کے لیے بھی مشترکہ پا رلیمنٹ سے بل کی منظوری لینا پڑ سکتی تھی ، تاہم پی ٹی آئی جس کا نظریہ تھا کہ نواز شریف کلبھوشن یادیو کا نا م نواز شریف اس لیے بھول گئے ہیں کہ وہ مو دی کے یا ر ہیں ، نو از شریف یا ری میں یو ں کچے ہی نظر آتے ہیں کیو ں کہ انھی کے دور میں کلبھوشن یادیو کو سز ا مو ت ہوئی تھی اور انھو ں نے اپنے یا ر مو دی کے اس یا ر کے لیے کچھ بھی تو نہیں کیا حتیٰ کہ ابھی نند ن کی طرح چائے شائے کی دعوت تک نہیں کی کچھ اپنے دوست کا خیال تک نہ کیا اس سے تو وہ لو گ بہتر ہیں کہ دشمن سے بھی حسن سلو ک بے دھڑک کر تے ہیں ،حالا نکہ دشمن کی کا میابی کے لیے کوئی دعا نہیں کر تا مگر عمر ان خان کھلے دل ودما غ کے مالک ہیں انھو ں نے نواز شریف کے یار کی انتخابات میں جیت کی دعا ما نگی وہ بھی اس امید سے کہ مو دی کشمیر کا قضیہ حل کر دیںگے اورپھر مو دی نے اپنے لیے اسے حل کر ڈالا ، اب پارلیمنٹ سے ان کے سپاہی بے بدل کلبھو شن کو اپیل کا حق بھی قانونی طو رپر دلو ا دیا ، نہ جا نے کیو ں حکومتی مئو قف کو تسلیم کر نے سے بعض عناصر کنی کتر ا تے ہیں چودھری فواد سمیت دیگر وزراء کہہ رہے ہیں کہ عالمی عدالت نے حکم دیا تھا کہ بھارتی جاسوس کلبھو شن کو اپیل کا حق دیاجائے چنا نچہ یہ بل اسی کڑی کا حصہ ہے، سراج الحق کا کہنا تھا کہ ایوان کی کارروائی جعلی ہے ، جو حکمران پارلیمنٹ میں چند سو کی گنتی کو یقینی نہیں بنا سکے وہ ملک بھر میں شفاف الیکشن کے دعوے دار ہیں وزیر اعظم وہی کا م کر رہے ہیں جن کے خلا ف وہ ما ضی میں شو ر مچا تے تھے، ادھر میڈیا سے گفتگو کر تے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے مر کزی صدر اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلا ف شہبا ز شریف نے کہا کہ الیکشن کمیشن آف پا کستان کے شدید اعتراضات کے باوجو د نا م نہاد الیکشن اصلاحات فرضی اور اور شخصی مفادات کو منظور کر نے کی کو شش ہے۔

جبکہ الیکشن کمیشن نے ووٹنگ مشین کو اس کی کا رکر دگی پر سوالیہ نشان اٹھاتے ہوئے مستر د کر دیا تھا ، ای وی ایم کے بارے میں شروع دن سے جو باتیں ہو رہی ہیں اس کی بناء پر عام آدمی سمجھنے سے قاصر ہے کہ بات کس کی درست ہے اورکس کے کیا مقاصد ہیں ، پی ٹی آئی کا دعویٰ ہے کہ اس مشین کے ذریعے ووٹنگ شفاف ہو گی اورکوئی ہیر پھیر نہ ہو سکے گا ، مگر اس کی مخالفت کے مقابلے میں پی ٹی آئی ڈٹی ہوئی وہ بھی بے لچک ، تو کیا اس سے یہ سمجھ لیا جائے کہ پی ٹی آئی وہ واحد جما عت ہے جو ہر حالت میں شفا ف انتخابات کا انعقاد چاہتی ہے ، یہ سوچ انتہا ئی قابل تحسین قرار پاتی ہے ، لیکن پاکستان کی انتخابی تا ریخ کچھ اورہی بیا ن کر تی ہے کہ ہر پارٹی اپنی استعدا دکے مطا بق انتخابات میں جیت کے لیے اپنا جھرلو پھیر نے کی کو شش کرتی ہے ۔ پی ٹی آئی کے دور حکومت میں جتنے بھی ضمنی انتخابات ہوئے اس کا حال سب کا جا نا پہچانا ہے حتیٰ کہ ڈسکہ کے ضمنی انتخاب کا تو الیکشن کمیشن کو مل نے والی رپورٹ نے ساری دنیا میں ڈھول پیٹ دیا ہے ۔