میں ہوں بلا کا بدحساب اس کوحساب چاہئے

اندھا بانٹے ریوڑیاں ‘ مڑ مڑکر اپنوں کو’ یہ ضرب المثل اور کہیں فٹ بیٹھی ہو یا نہیں مگرسیاست پر اس کے بڑے ”دور” رس نتائج مرتب ہوتے ہیں ‘ بلکہ تواتر سے مرتب ہو رہے ہیں ‘ اوپر ہم نے دور کے لفظ کو واوین میں اس لئے”قید” کیا کہ سیاسی رہنمائوں کی نگاہوں پردوربینی کی اصطلاح بھی آسانی سے منطبق کی جا سکتی ہے ‘ یعنی وہ اتنے دور بین بلکہ ژرف بین نگاہ ہوتے ہیں کہ جس طرف آنکھ اٹھائوں تری تصویراں ہیں کی جادوگری کام کرتی دکھائی دیتی ہے ‘ اس حوالے سے ایک اور پرانی کہانی بھی یاد آگئی ہے اور وہ کچھ یوں ہے کہ ایک مالدار شخص نے اپنی کالی کلوٹی ملازمہ سے کہا کہ شہر میں سب سے خوبصورت بچہ تلاش کرکے لائے تاکہ اسے انعام دیا جا سکے ‘ اگلے روزخادمہ اپنے ہی سیاہ فام ‘ کالے بھجنگ اور بدصورت بچے کو اٹھا لائی ‘ مالک نے پوچھا اس سے زیادہ کوئی خوبصورت بچہ پورے شہر میں نہیں تھا ‘ خادمہ نے نہایت سادگی سے جواب دیا ‘ آقا ‘ مجھے تو اس سے خوبصورت بچہ اور کوئی نہیں نظر آیا ‘ میں اس کی ماں ہوں اور ماں کی نظرمیں اس سے خوبصورت اور کون ہوسکتا تھا ‘ ہماری سیاست بھی انہی حالات سے دو چار ہے ‘ یعنی ہر جماعت میں جس طرف آنکھ اٹھائوں تری تصویراں ہیں اور ہر جماعت کی کلیدی عہدوں خصوصاً سربراہی پر تو ”خاندانی” تصرف پہلے ہی قائم ہے ‘ جبکہ بلدیاتی اداروں سے لیکر پارلیمنٹ کے تینوں ایوانوں (سینٹ ‘ قومی اور صوبائی اسمبلیوں) میں نامزدگیوں کے حوالے سے بھی اولیت انتہائی قریبی رشتہ داروں اور اگر بچ جائیں تو ان نشستوں پر دوستیوں کو ترجیح دی جاتی ہے ،اب آپ خود ہی غور فرمائیں کہ اوپر کی سطور میں جس ضرب ا لمثل اور پھر ایک پرانی کہانی کا حوالہ ہم نے دیا ‘ کیا وہ غلط تھا؟ آج سیاست کے حوالے سے جو اعتراضات کئے جاتے ہیں ان کی حقیقت اس بات سے عیاں ہے کہ سیاسی جماعتوں کو موروثیت کا” شاخسانہ ” اس حد تک بھگتنا پڑتا ہے کہ اب تو یار لوگوں نے اپنے خاندانی ناموں کوبھی پارٹی پرگرفت کے لئے تبدیل کرنا وتیرہ بنا لیا ہے بلکہ نوبت بہ ایں جارسید کہ یہ سلسلہ مزید دراز کرتے ہوئے پنجاب سے بھی نومولودوں کے نام میں بھی”خصوصی ناموں” کوشامل کرکے حدیں پھلانگ دی ہیں ‘ اور جہاں تک اسمبلیوں کے ٹکٹوں کا تعلق ہے تو کراچی سے لیکر خیبر پختونخوا کے کونوں کھدروں پر نگاہ دوڑائیں تو اولاد ‘ ان کی اولاد اور قریبی رشتہ داروں تک کو نوازنے کے قابل تردید ثبوت سامنے آجائیں گے ‘ جہاں کچھ اور لوگ اس”سہولت” سے مطمع دکھائی دیتے ہیں تو وہ ان سیاسی خانوادوں کی مجبوریاں ہوتی ہیں کہ وہاں رشتہ دار نہیں ملتے ‘ ورنہ تو ضرورت ایجاد کی ماں کے طفیل خصوصی نشستوں پر بیٹیوں ‘ بھتیجوں ‘ بہوئوں وغیرہ تک کو لا کر ایوانوں کا حصہ بنا دیا گیا ۔ مگر کسی نے اس حوالے سے سوال اٹھایا یاحساب مانگا تو جون ایلیاء کے ا لفاظ میں کہ دیا
اس سے نبھے گا رشتہ سودو زیاں بھی کیا بھلا
میں ہوں بلا کا بدحساب ‘ اس کو حساب چاہئے
بات حساب کتاب کی چلی ہے تو خبروں کے مطابق حکومت کے منع کرنے کے باوجود وفاقی ادارہ شماریات نے مہنگائی میں اضافے کے حوالے سے اپنے تازہ اعلامیہ میں کہا ہے کہ مہنگائی کی شرح 18فیصد سے بھی تجاوز کر گئی ہے ‘ سو اب دیکھتے ہیں کہ سرکاری بھونپو اس قدرمہنگائی کی کا جواز ڈھونڈتے ہوئے کیسے کیسے جواز تراشتے ہیں ‘ پٹرول کی مہنگائی کے حوالے سے تو انہوں نے بیرون ملک مقیم اپنے ٹرولز کو بھی ”فعال” کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر ان ممالک کے ساتھ پٹرول قیمتوں کا موازانہ کرکے پاکستانیوں کو یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ یہاں پٹرول باہر کے مقابلے اتنامہنگا نہیں ‘ تاہم صرف پٹرول کے نرخوں کا تقابلی جائزہ پیش کرتے ہوئے وہ یہ بتانا بھول گئے تھے کہ ان مغربی ممالک میں فی کس آمدنی یہاں پاکستان میں فی کس آمدنی کے مقابلے میں کتنی زیادہ ہے ‘ خیرجانے دیں ‘ بس اب یہ دیکھنا ہے کہ یہ جو گزشتہ روزسٹیٹ بینک نے شرح منافع اچانک 8.75فیصد کردی ہے ‘ اس کے کیا نتائج برآمد ہوں گے ؟پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں جس طرح اپوزیشن کو بلڈوز کرتے ہوئے آئی ایم ایف کی ڈکٹیشن پر سٹیٹ بینک پر ”سٹیٹ” کی گرفت ختم کیاگیا ‘ اس کے صرف ایک روز بعد خود مختار گورنر سٹیٹ بینک کا یہ وہ پہلا حکم ہے ( غالباً) جس نے ایسٹ انڈیا کمپنی کے دور کے ہندوستان کے انگریز گورنر جنرل کی طاقت کی یاد دلادی ہے ‘ اب ان سے پوچھنے کا حوصلہ کس میں ہے؟ اور وہ جو اپوزیشن کے حلقے شور مچاتے رہے کہ اس گورنر سٹیٹ بینک نے مصر کی معیشت کا جوکباڑہ کرکے اسے تباہی سے دو چار کیا تو کیا انہی حالات کی ابتداء ہو چکی ہے ؟ بقول بہادر شاہ ظفر
چشم قاتل مری دشمن تھی ہمیشہ لیکن
جیسی اب ہوگئی قاتل کبھی ایسی تو نہ تھی