سچ کڑوا تو ہوگا

پاکستان میں انتہا پسندی کی تاریخ کے حوالے سے تین آرا ہیں اولا یہ کہ چونکہ برصغیر کی تقسیم مذہبی نفرت کی بنیاد پر ہوئی اس لئے تقسیم کے بعد اس نے نیا رنگ اختیار کیا اس نئے رنگ کا قصہ سمجھنے کے لئے بہت زیادہ سر کھپانے کی بجائے زاہد چودہری اور حسن جعفر زیدی کی تصنیف کردہ کتاب ”پاکستان کی تاریخ”کو پڑھ لیا جائے تو یہ بات دوچند ہوجاتی ہے ۔ ہماری دانست میں بات سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ زمینی حقائق کی روشنی میں اس کا تجزیہ کیا جائے کہ انتہا پسندی پھلی پھولی کیسے ؟ دودن قبل وفاقی وزیر اطلاعات فواد حسین چودھری نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کچھ یوں کہا ”ریاست کی رٹ قائم کئے بغیر انتہا پسندی سے چھٹکارا ممکن نہیں جو ریاست قانون کی عملداری قائم نہ رکھ سکے اسے سمجھوتوں کی کڑوی گولی نگلنا پڑتی ہے "۔ وزیر اطلاعات کا یہ بھی کہنا تھاکہ”انتہا پسندی کے بڑھاوے میں صرف مدارس کو مورد الزام ٹھہرانا درست نہیں ہوگا اس میں ایک بڑا حصہ سکولوں اور کالجز میں 1980 اور 1991کی دہائیوں میں بھرتی کئے گئے اساتذہ کا بھی ہے جن کے زیراثر آئے بہت سارے طلبا زندگی کے حقیقی سفر سے کٹ کر انتہا پسندی کی طرف راغب ہوئے۔ فواد چودھری کی اس بات سے بھی اختلاف ممکن نہیں کہ ہمیں امریکہ یورپ یا ہندوستان سے نہیں خود اپنے آپ سے خطرہ ہے۔ یہاں ”آپ سے”ان کی مراد یقینا وہ انتہا پسندانہ رجحانات ہیں جو پچھلی چار دہائیوں کے دوران منظم منصوبے کے تحت پروان چڑھائے گئے اور بدقسمتی سے اکثر اوقات ریاست نے شدت پسندوں کی سرگرمیوں اور دوسرے معاملات کی جانب سے آنکھیں بند کئے رکھیں۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ ایک وقت کے مجاہدین کو جب دوسرے دور میں دہشت گرد قرار دیا گیا تو عوام کے سامنے بنیادی حقائق رکھنے کی بجائے محض نئی پالیسی کا ہی دم بھرا جاتا رہا جس سے بگاڑ پیدا ہوا کیونکہ ماضی میں جب ریاست افغان انقلاب ثور کے بعد شروع کی گئی جہادی سرگرمیوں کی سرپرستی کررہی تھی تو ملک کے طول و عرض میں جہادیوں کی بھرتی کے دفاتر کھلنے لگے اور جہاد میں شرکت کی ترغیب کے لئے اجتماعات کا کھلے عام انعقاد ہوا۔ اصولی طور پر جہاد اسلامی ریاست کی ذمہ داری تھی اور ہے لیکن افغان جہاد کے زمانہ میں جس طرح نجی جہادی لشکر تیار ہوئے اس نے پاکستانی سماج میں شدت پسندی کی ایک نئی لہر دوڑادی۔ ستم بالائے ستم یہ کہ1980کی دہائی کے عالمی حالات اور خطے میں در آئی تبدیلیوں نے پاکستان میں فرقہ وارانہ انتہا پسندی کا بھی دروازہ کھول دیا۔ اول اول تو یہ انتہا پسندی افغان جہاد کے بلندبانگ نعروں میں دبی رہی مگر جنیوا معاہدہ کے بعد جب مختلف الخیال جہادیوں کی واپسی ہوئی تو انہوں نے اپنی اپنی مذہبی فہم کی بالادستی اور اس کی بنیاد پر نظام اسلام کے نفاذ کی جدوجہد کو جہاد کے طور پر سرانجام دینے کا راستہ اپنایا، مختلف مسالک کے فہمی و نظری اختلافات سے ہوئی ذہن سازی نے شدت پسندی کا ایسا طوفان برپا کیا جس نے پاکستانی سماج کے روشن خیال چہرے کو مسخ کرنے کے ساتھ سماجی وحدت کو پارہ پارہ کرکے رکھ دیا۔یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ شدت پسندی اور اس کی کوکھ سے جنم لینے والی عسکریت پسندی کے ہاتھوں شہریوں اور ریاست کے بے پناہ نقصان کے باوجود کبھی کسی سطح پر اصلاح احوال کے لئے سنجیدہ کوششیں ہوئیں نہ اس پر غوروفکر کی زحمت کی گئی کہ ان خرابیوں کے بنیادی اسباب کیا ہیں۔ بہت ہوا تو ہمارے پالیسی سازوں اور عصری حالات سے نابلد رہنمائوں نے اس افسوسناک صورتحال کو پراکسی وار کا حصہ قرار دے کر مزید گمراہی پیدا کی۔ وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے انتہا پسندی کے آغاز، اس کے پروان چڑھنے، نقصانات اور ریاست و قانون ہر دو کا اپنی ذمہ داریوں سے پہلو تہی برتنے کے ضمن میں گزشتہ روز جو تجزیہ کیا وہ حرف بحرف درست ہے۔ ٹی ایل پی سے معاہدہ کا معاملہ یقینا ایک مثال ہے ورنہ ماضی میں کئی بار پسپائی اختیار کی گئی اور ان انتہا پسندوں کو بھی مرکزی دھارے میں لانے کے لئے عام معافی کا اعلان کیا گیا جو حساس اداروں اور تنصیبات پر ہی حملوں کے مرتکب ہی نہیں ہوئے تھے بلکہ بینک ڈکیتیوں’ اغوا برائے تاوان اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں بھی ملوث تھے۔ ان کی یہ بات بھی درست ہے کہ انتہا پسندی کے فروغ میں صرف دینی مدارس کو ذمہ دار ٹھہرانا درست نہیں۔ دینی مدارس کا نصاب اور مختلف مسالک کی تفہیم سے پیدا ہوئی شدت پسندی اپنی جگہ حقیقت ضرور ہے لیکن بدقسمتی سے ہم نے اجتماعی طور پر تصویر کا یہی ایک رخ سامنے رکھ کر پورا سچ بولنے سے گریز کیا حالانکہ یہ حقیقت ہے کہ گزشتہ40برسوں کے دوران پاکستان میں دہشت گردی کے جتنے بڑے واقعات ہوئے ان میں سے 60 فیصد میں جدید تعلیمی اداروں سے فارغ التحصیل نوجوان ملوث تھے۔ سوال یہ ہے کہ اگر واقعتا ایسا ہی تھا تو پھر بیروزگاری اور ان دوسرے مسائل کو ختم کرنے کے لئے حکمت عملی وضع کیوں نہ کی گئی جو فساد کی جڑ تھے؟ آج کے حالات یہ عرض کرنا ضروری ہے کہ انتہا پسندی کے خاتمے کے لئے ملک گیر سطح پر بھل صفائی کی طرز پر پروگرام شروع کرنے کی ضرورت ہے اس کے لئے لازمی ہے کہ پسندوناپسند کے مرض سے نجات حاصل کی جائے۔ ہر اس شخص، ادارے اور تنظیم کی حوصلہ شکنی کی جائے جس کی سوچ اجتماعیت سے متصادم ہو اور اس امر کو یقینی بنایا جائے کہ ریاست دستور میں دیئے گئے سماجی، معاشی، سیاسی اور مذہبی حقوق کی نہ صرف پاسبانی کرے گی بلکہ کسی کو اس کی اجازت نہ دے کہ وہ دوسرے کی زبان یا کسی اور طریقے سے تکفیر کرے۔ یہی واحد طریقہ ہے پاکستانی سماج کو انتہا پسندی سے نجات دلانے کا، یہاں یہ سوال اہم ہے کہ کیا ریاست اپنی موجودہ حیثیت میں ایسی حکمت وضع کرنے اور شدت پسندی کے خاتمے کے لئے وہ اقدامات کرسکتی ہے جس سے شدت پسندی کے ماخذوں کا دائمی بندوبست ہوسکے ؟ بظاہر یہ ناممکن لگتا ہے لیکن اس کے بغیر چارہ بھی تو کوئی نہیں آخری بات یہ ہے کہ ریت میں منہ چھپا لینے سے مسائل ختم ہوتے ہیں نا ہی سنگینی کم ہوتی ہے ہم نیک و بد حضور کو سمجھائے دیتے ہیں