افغان عوام کی مشکلات میں اضافہ

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ افغانستان میں انسانی المیہ سے بچنے کے لئے عالمی توجہ اور امداد کی ضرورت ہے پڑوسی ملک پاکستان کے حالات پر ملک کی سیاسی اور عسکری قیادت کی تشویش بجا اور بروقت ہے۔پاکستان کو افغانستان کے بحران پر اس لئے بھی زیادہ تشویش ہے کہ افغانستان کی خراب سماجی و اقتصادی صورتحال کے اثرات پاکستان پرپڑیں گے۔صورتحال یہ ہے کہ پاکستان پہلے ہی بیس لاکھ سے زائد افغان مہاجرین کی میزبانی کر رہا ہے ۔ افغانستان کے مسئلے کے حل میں پاکستان کی جانب سے ہمیشہ انفرادی اور اجتماعی طور پر مساعی ہوتی رہی ہیں ۔ فروری 22020کے دوحہ معاہدے میںپاکستان کی جانب سے سہولت کاری کا مقصد بھی یہی تھا کہ تمام امور مذاکرات کی میز پرطے ہوں اور ہمسایہ ملک میںدہائیوں سے جاری بے یقینی کا خاتمہ ہو۔افغانستان کو اس وقت جس قسم کے معاشی مسائل اور خاص طور پر غذائی بحران کا سامنا ہے اس سے پڑوسی ممالک بالخصوص اور دنیا کے دیگر ممالک بالعموم لاتعلق ہوکر نہیں بیٹھ سکتے اس وقت افغانستان جن حالات سے گزر رہا ہے ان کو اس مشکل سے نکالنے کے لئے عالمی سطح پراقدامات کی ضرورت ہے ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ امریکہ افغانستان کے منجمد اثاثے بحال کرے اور افغان حکومت کے ساتھ کسی نہ کسی سطح پرایسے تعلقات قائم کیا جائے جس کے نتیجے میںخطے میں پنپنے والے انسانی بحران کا تدارک کیا جاسکے ایسا کرکے ہی افغانستان کو غیر مستحکم ہونے اور نان اسٹیٹ ایکٹرز کا گڑھ بننے سے روکا جا سکے گا۔افغانستان کی تعمیر نو اصولی طور پر ان ممالک کی ذمہ داری بنتی ہے جن کی فوجیں بیس برسوں سے اس ملک میںکارروائیوں میں مصروف رہیں۔اس وقت متعدد عالمی ادارے مسلسل اس امر کی جانب توجہ مبذول کرا رہے ہیں کہ اگرافغانستان کے بحران کا بروقت تدارک نہ کیاگیا تو کوئی بڑا انسانی ا لمیہ جنم لے سکتا ہے ۔ورلڈ فوڈ پروگرام کے مطابق افغانستان میں حالات دنیا کے سب سے بڑے انسانی المیے میں تبدیل ہوتے جارہے ہیں اس ملک کی خوراک کی ضرورتیں دیگربدترین متاثرہ ملکوں کے مقابلے میںزیادہ تیزی سے بڑھتی اور ایک شدید بحران کی شکل اختیار کرتی جارہی ہیں ۔ ایک تخمینے کے مطابق افغانستان میں95فیصد عوام کو خوراک کی کمی جب کہ 2کروڑ تیس لاکھ افراد کو شدید بھوک کا سامنا ہے صورتحال اس امر کی متقاضی ہے کہ عالمی برادری فوری آگے بڑھ کر اقدمات شروع کرے۔عالمی برادری کو یہ دیکھے بغیر کہ افغانستان پر کس کی حکومت ہے انسانیت کے نام پر افغان عوام کی مدد کی جانی چاہئے۔ فوری طور پر خوراک اور ادویات کا بندوبست ضروری ہے جس میں تاخیر کی گنجائش نہیں۔
جامعات کی انحطاط پذیری کا سنگین مسئلہ
گورنر خیبر پختونخوا شاہ فرمان نے کہا ہے کہ صوبہ کے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں میرٹ کی خلاف ورزیاں اور جانبدارانہ فیصلے انتہائی افسوسناک ہیں ‘ ہم سب کی اولین ترجیح نوجوان نسل کے مستقبل کو بہتر بنانا ہے جس پر سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا ۔سرکاری جامعات کے چانسلر ہونے کے ناتے گورنر خیبر پختونخوا کو کسی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے صرف اس طرح کے اظہار خیال پر اکتفا نہیں کرناچاہئے بلکہ جامعات میں سیاسی مداخلت کے خاتمے سمیت بھرتیوں اور تقرریوں میں میرٹ کو یقینی بنانا بھی ان کے فرائض میں شامل ہے امر واقع یہ ہے کہ اس وقت صوبے کی جامعات شدید مالی بحران کا شکار ہیں جن کے حسابات کے تھرڈ پارٹی آڈٹ کے گورنر کی ہدایت پرعملدرآمد اور اس کے نتائج کو سامنے لانے میں اب تاخیر نہیں ہونی چاہئے ایڈہاک ازم کے باعث اب جواہر قابل جامعات میں تدریس کی بجائے سکولوں اور کالجوں میں مستقل ملازمتوں کو ترجیح دینے لگے ہیں خسارے کا شکار جامعات میں کام کی زیادتی اور سٹاف کی کمی کے باعث مختلف انتظامی معاملات ٹھپ پڑے ہیں جبکہ مستقل طور پر تدریسی عملہ نہ لئے جانے کے باعث جامعات میں تدریس کا معیار تجربات اور انحطاط کے بھنور میں ایسا پھنس چکا ہے کہ اس سے جامعات کا معیار بری طرح متاثر ہو رہا ہے جس کی طرف توجہ نہ دی گئی اور مستقل فیکلٹی مقرر کرنے کی پالیسی ا ختیار نہ کی گئی تو بعید نہیں کہ نجی سکولوں کی طرح طلبہ نجی جامعات کو اولیت دینے لگیں۔ جامعات میں تقرریوں کو سیاست کی نذر کرنے اور جامعات میں مداخلت کے باعث جس نہج پر لاکھڑا کیا گیا ہے اس کی ذمہ داری سے گورنر بری الذمہ نہیں ہو سکتے جامعات کو مالی خسارے سے نکالنے اور ایچ ای سی کی پالیسی اور سفارشات کی روشنی میں چلانے کا تقاضا ہے کہ رئیس الجامعات کی تقرری سیاسی اور سفارشی بنیادوں کی بجائے میرٹ پر کیا جائے اور تدریسی و انتظامی عملے کی کمی دور کرنے پر توجہ دی جائے ۔ زیرالتواء اسامیاں مشتہر کی جائیں اور جن اسامیوں کے لئے ضابطے کی کارروائیاں پوری کی گئی ہیں ان اسامیوں کے تقرر ناموں کے اجراء میں تاخیر نہ کی جائے ۔
بارش کے لئے اجتماعی دعا مانگنے کی ضرورت
آلودگی میں خطرناک حد تک اضافہ کے باعث بیماریوں میں اضافہ ہو رہا ہے آلودگی پر قابوپانے کے لئے حکومت کے اقدامات اور اس میں ناکامی سے قطع نظر ہوا کی کثافت کی صفائی کے قدرتی ذریعہ بارش کے لئے اجتماعی دعائوں اور توبہ کی ضرورت ہے ۔ علمائے کرام اور آئمہ مساجد بالخصوص اور تمام نمازی حضرات کو بالعموم بارشوں کے لئے دعا کرنی چاہئے قدرت مہربان ہوجائے اور بارشیں ہوں تو فضائی کثافت دھل کر صاف ہو سکتی ہے ۔