کورونا کروڑوں روپے کی خوردبرد

کورونا کے دوران کروڑوں روپے کی خوردبرد

ویب ڈیسک: کورونا کے دوران اخراجات سے متعلق آڈیٹرجنرل کی رپورٹ میں تہلکہ خیز انکشافات سامنے آ گئے ہیں ۔ کورونا کے دوران حکومت کی جانب سے 12 سو ارب روپے سے زائد کا مالیاتی پیکج دینے کے باوجود وینٹی لیٹرز کی خریداری خلاف ضابطہ کی گئی، وینٹی لیٹر کی خریداری میں 9 لاکھ 94 ہزار ڈالر کا نقصان ہوا، وینٹی لیٹرز 9 لاکھ 94 ہزار ڈالر مہنگے خریدے گئے ،احساس کیش پروگرام میں 13 لاکھ 20 ہزار لوگوں کو فنڈز سے محروم رکھا گیا جبکہ نیب کو تمام معاہدوں کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں ۔

آڈیٹر جنرل کی جانب سے جاری کر دہ آڈٹ رپورٹ کے مطابق اشیاء کی خریداری میں قوانین کی خلاف ورزی اور مالیاتی بدانتظامی پائی گئی، کورونا وبا سے نمٹنے کیلئے سرکاری محکموں میں تیاری کا فقدان رہا، وبا کے دوران خریدی گئی اشیا کی ترسیل میں اداروں نے تاخیر کی جو سامان خریدا گیا اداروں کی جانب سے آڈٹ کیلئے ریکارڈ نہیں رکھا گیا جبکہ ٹیکسز اور ڈیوٹیز میں رعایت کے باوجود ٹیکس کٹوتی ہوتی رہی۔

رپورٹ میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ حکومتی گارنٹیز کے بغیر سپلائرفرمز کو پیشگی ادائیگیاں کی گئیں، نقد کیش کی فراہمی کے دوران نادرا کے سسٹم میں بھی خرابیاں پائی گئیں، سرکاری ملازمین، بیمہ شدہ افراد اور ای او بی آئی کے پینشنرز میں پیسے تقسیم ہوئے، کیش کی فراہمی کے دوران مانیٹرنگ نظام میں کوتاہیاں دیکھی گئیں، یوٹیلٹی سٹورز کی جانب سے غیرمعیاری فلورملز سے آٹا خریدا گیا، یوٹیلٹی سٹورز کی جانب سے کمزور طبقے کو سبسڈی منتقلی کا طریقہ کار وضع نہیں ہوا، اشیا کی خریداری کے دوران رولز کی خلاف وزری اور معیار کو یقینی نہیں بنایا گیا۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ریسورس مینجمنٹ سسٹم کی خریداری میں 4 کروڑ 25 لاکھ روپے کی بے ضابطگی ہوئی، احساس کیش پروگرام میں 13 لاکھ 20 ہزار لوگوں کو فنڈز سے محروم رکھا گیا، یوٹیلٹی اسٹورزکے لیے 50 ارب کی سبسڈی مختص کی گئی، 80 فیصد فنڈز جاری نہیں ہوئے، یوٹیلٹی اسٹورز کے لیے مختص 50 ارب میں سے صرف 10 ارب روپے جاری کیے گئے، بجلی کے 100 ارب کے ریلیف پیکج میں سے صرف 15 ارب جاری کیے گئے ۔ زرعی شعبے کے لیے 50 ارب کی اعلان کردہ سبسڈی جاری ہی نہیں ہوئی جبکہ چین سے 40 لاکھ ڈالر کی امداد کی فراہمی میں تاخیر کی گئی۔