سرزمین پاکستان

سرزمین پاکستان پر پہلے دن سے ہی دشمنوں نے اپنے ناپاک عزائم کے پنجے گاڑنے کی ہر ممکن کوشش کی ہے جسکا منہ بولتا ثبوت پاکستان کا دولخت ہونا ہے بات یہاں پہنچ کر بھی بس نہیں ہوجاتی یہ سلسلہ چلتا ہی چلا جا رہا ہے اور پاکستان کے وجود کو زخموں سے چور کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے۔دہشت گردی کی آڑ میں پاکستان نے جانی و مالی اور ہرطرح کے نقصان کا سامنا کیا ہے۔ پاکستان کی خوش قسمتی ہے کہ ہماری ماوں نے ایک سے بڑھ کر ایک محب وطن پیدا کیا ہے جو اپنی دانست میں ملک و قوم کا سرفخر سے بلند کرنے کیلئے کوشاں رہتا ہے اور کوئی ایسا موقع نہیں جانے دیتا کہ جہاں اسکی کارگردگی پاکستان کا سبز ہلالی پرچم سب سے بلند لہرائے۔ بد قسمتی سے ہم وہ قوم ہیں جس سے ساری دنیا گھبراتی ہے اور ہم ساری دنیا سے گھبراتے ہیں ۔ یوں تو پاکستان کے لئے قربانیاں دینے والوں کی ایک طویل فہرست ہے لیکن اس فہرست میں ایک نام ایسا بھی ہے کہ جس کی مرہون منت آج پاکستان ساری دنیا کے ممالک میں ساتویں نمبر پر ہے جو ایٹمی طاقت کے حامل ہیں، جن کی بدولت ہمیں اپنی بقا کیلئے کسی سے بھیک نہیں مانگنی پڑتی ، جن کی وجہ سے ہمارے دشمن ہم سے شدید نفرت کے باوجود ہم سے مسکراتے ہوئے ہاتھ ملاتے ہیں ، یہ وہ فرد ہیں کہ جنہوں نے ملک کا نا صرف دفاع کو مضبوط ترین بنایا بلکہ بوقت ضرورت اپنی خود مختاری کو بھی پاکستان پر نچھاور کردیا، ڈاکٹر عبدالقدیر خان مرحوم کی پہچان ایٹم بم نہیں بلکہ محسن پاکستان کے طورسے ہوئی ۔ آپ نے قوم پر ایسے احسان کئے ہیں جو ہم عوام تو کیا ادارے بھی اسکا بدلہ نہیں چکا سکیں گے۔محترم افتخار عارف صاحب کا یہ شعر جو شائد ڈاکٹر عبدالقدیر خان صاحب کی خدمات کے اعتراف میں ہی لکھا گیا
مٹی کی محبت میں ہم آشفتہ سروں نے
وہ قرض اتارے ہیں کہ واجب بھی نہیں تھے
کچھ عرصہ قبل تک بہت ساری ایسی باتیں ہواکرتی تھیں جو ملکی سا لمیت کی خاطر منظر ِ عام پر نہیں لائی جاتیں تھیں(اور یقینا جن کی بقا کی خاطر کیسی کیسی قربانیاں دی گئی ہونگیں )اورجن میں سے اکثر ایسے راز ہیں کہ جوپیوند خاک ہونے والوں کیساتھ ہی دفن ہوچکے ہونگے اور ہوتے چلے جائینگے ۔ کسی خوب کہہ رکھا ہے کہ آنکھ اوجھل پہاڑ اوجھل، آپکے ہاتھ میں موجود موبائل فون جس نے آج اپنی نوعیت کے تمام آلات سے نجات دلادی ہے آپ کی ایک انگلی سے آپ کو لمحوں میں کیا کچھ فراہم کردیتا ہے جو کبھی سوچوں سے مبرا تھیں ۔ ایسی بدلتی ہوئی دنیا میں بھی ایسے سچے اور کھرے لوگوں کا ہونا اللہ رب العزت کا انسانوں پر احسان عظیم ہے۔پاکستان کی تاریخ کا ایک سیاہ باب1971 کے سانحے کے بعد 1974 میں جب ہمارے ہمسائے نے ایٹمی دھماکے کئے تو ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو وطن کی محبت نے پکارا اور انہوں نے اپنے دل سے اٹھنے والی اس پکار پر لبیک کہا اور پر تعیش و پرکشش زندگی کو چھوڑ کر پاکستان پہنچ گئے یہاں قابل ذکر بات یہ ہے کہ انکی اہلیہ نے بھی ایس فیصلے میں انکا بھرپور ساتھ دیا ۔ 1976 میں بے سروسامانی کی فکر کئے بغیر نیوکلئیر لیبارٹری تعمیر کیلئے کوشاں ہوگئے انتھک محنت اور سچی لگن کی بدولت ایک عشرے سے بھی کم عرصے میں پاکستان کا نام عالمی ایٹمی نقشے پر نمایاں کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ڈاکٹر مرحوم کی محنت لگن اور وطن سے سچی محبت کو دیکھتے ہوئے اس لیبارٹری کا نام ہی قدیر خان لیبارٹریز رکھ دیا گیا جو بقول ڈاکٹر مرحوم کے یہ ان کیلئے بہت بڑا اعزاز ہے ۔ ڈاکٹر صاحب بولنے میں دیکھنے میں انتہائی سادہ انسان تھے انکی یہ سادگی انکی تحریروں میں بھی واضح تھی ۔ ہم پاکستانیوں کیلئے ڈاکٹرصاحب کی خدمات کا کوئی بدل نہیں ہوسکتا لیکن صدر پاکستان نے ڈاکٹر صاحب کی گرانقدر خدمات کا کچھ حق ادا کرنے کی کوشش کی اور انہیں1990 میں تمغہ ہلال امتیاز سے نوازا گیا، سچ پوچھیں تو ڈاکٹر صاحب کو ملنے کے بعد اس تمغے کی عزت و توقیر میں اور اضافہ ہوگیا ہوگاوہ اسطرح کے جن قابل قدر شخصیات کو یہ تمغہ ملے گا وہ اپنے آپ سے یہ کہہ سکتے ہیں یہی تمغہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان صاحب کو بھی مل چکا ہے ۔ ڈاکٹر صاحب 10اکتوبر2021کوپوری قوم کو بلکہ دنیا میں جہاں جہاں پاکستانی بستے ہیں ان سب کو سوگوار چھوڑ کر اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔ ڈاکٹر صاحب کی صورت میں پاکستان کو عطا کی گئی ایک لازوال نعمت نے پاکستان کو تاقیامت تک کیلئے نا قابل تسخیر بنا دیا ہے۔ڈاکٹر صاحب کی زندگی کا آخری دوران کے شایہ شان نہیں گزر سکا، انہیں ویسی پذیرائی نہیں دی جاسکی جسکے وہ حقدار تھے، اسے ہم بطور پاکستانی اپنی بدقسمتی تصور کرینگے کے اللہ کی ایسی نعمت تھے ڈاکٹر عبدالقدیر خان صاحب کے جس سے ہم نے خوب فائدہ اٹھایا لیکن اسکے اس نعمت کی خوب بے قدری کی،یقینا وہ اس امر سے بھی بخوبی واقف تھے کہ یہ بھی پاکستان کی سالمیت کیلئے ضروری تھا ۔ دکھی دل کیساتھ کہ آنے والا وقت انشا اللہ ایسا نہیں ہوگا کہ ہ میں کسی کے کہنے پر اپنے ہیروز کو زیرو بناکر رکھنا پڑے ۔