الیکٹرانک ووٹنگ مشین کا استعمال

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے آخر کارپارلیمنٹ سے آئندہ عام انتخابات میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے استعمال کا قانون منظور کروا لیا۔ مسلم لیگ (ن) کے ترجمان کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف نے اپوزیشن میں ہوتے ہوئے انتخابات میں مشین کے استعمال پر بھر پور مخالفت کی تھی۔ لیکن اب مسلم لیگ (ن) اور دیگر سیاسی جماعتیںاُسی مشین پہ اعتراض کر رہی ہیں ۔ اس حوالہ سے پھر یہ امر لائق ِ توجہ ہے کہ انتخابی عمل میں مشین کے استعمال پر موجودہ حکومت اچانک اس قدر سنجیدہ کیوں ہوئی کہ اپوزیشن اور خاص کر الیکشن کمیشن کے تحفظات پہ بھی دھیان نہ دیا اور قانون سازی کر لی۔انجینئرنگ اور آئی ٹی کے شعبہ سے تعلق رکھنے والے ماہرین تو اس مشین کو شفاف انتخاب کے لیے موزوں سمجھتے ہیں مگر وہ عام ووٹر کے اس سوال پر خاموش ہو جاتے ہیں کہ کیا یہ مشین کسی چھیڑ چھاڑ کرنے والے کی گواہی بھی دے سکے گی؟ اگرچہ یہ مشین کسی انتخابی ڈبے کی طرح اغوا تونہیں ہو سکتی مگرخرابی کرنے والے خطا کار کا نام نہیں بتا سکتی۔ اسی باعث الیکٹرانک مشین کے استعمال میں کئی مشکلات در پیش ہیں۔
تحریک انصاف نے ا لیکشن مہم میں وعدہ کیا تھا کہ شفاف الیکشن کا انعقاد حکومت کی اہم ترجیح ہو گی اور بیرونی ممالک میں مقیم پاکستانی کوبھی ووٹ کا حق دیا جائے گا۔ وزارت سائنس و ٹیکنالوجی نے ایک مشین تیار کی اور بتایا کہ اس مشین کے ذریعے ہم دھاندلی کا راستہ روک کر شفاف الیکشن کے انعقاد کا وعدہ پورا کر سکتے ہیں۔اسی لیے الیکٹرانک ووٹنگ کے ساتھ ساتھ حکومت نے بیرون ِ مُلک پاکستانیوں کو بھی ووٹ کا قانونی حقدار بنا دیا ۔ پابندی تو پہلے بھی نہ تھی کہ وہ پاکستان آکر ووٹ کا استعمال کر سکتے ہیں۔ اب اگر وہ بیرون مُلک گھر بیٹھے ووٹ کااستعمال کریں تو ایسی سہولت پاکستان میں رہنے والوں کو بھی حاصل نہیں ۔ تاہم اِس حوالے سے الیکشن کمیشن نے کچھ تحفظات کا اظہار کیا ہے کہ مشین کے حوالے سے تمام متعلقین کا اعتماد میں لیا جانا ضروری ہے ۔مشین کے فنی پہلو پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں اور انٹرنیٹ کی سروس کے ساتھ اس کو جوڑنے میں مزید وضاحت پر زور دیا ہے ۔ الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے استعمال کی صورت میں حکومت کو ایک خطیر رقم خرچ کرنی پڑے گی۔ اس سلسلہ میں اربوںروپے کی رقم کا تخمینہ لگایا گیا ہے جو ہارڈوئیر، اسٹاف ٹریننگ، ٹی اے، ڈی اے اور اسٹوریج وغیرہ کی مد میں خرچ پر مبنی ہے ۔ حکومت چاہتی ہے کہ انتخابی بے ضابطگیوں پر قابو پانے کے لئے جدید ٹیکنالوجی کا سہارا لینا بہت ضروری ہے ، اسی لیے وہ یہ خطیر رقم ادا کرنے کو تیار دکھائی دیتی ہے۔ اس سلسلے میں حکومت مسلسل ان کوششوں میں بھی مصروف ہے کہ لوگوں کو اس حوالے سے اعتماد میں لیا جائے کہ ہم ملک کے انتخابی عمل کو شفاف بنانا چاہتے ہیں تا کہ پارلیمنٹ میں عوامی نمائندوں پر دھاندلی کا الزام نہ ہو اور وہ حقیقی نمائندہ بن کر آئے۔
پارلیمنٹ سے کوئی بھی انتخابی قانون منظور ہو، اس پر عمل درآمد کرانا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ اس لیے کمیشن ووٹنگ مشین کے حوالے سے مشکلات اور اُن اقدامات کا مسلسل اظہار کر رہا ہے جو انتخابی عمل میں اُٹھانے ہوں گے۔ الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ مشین کے استعمال کے لیے درکار مہارت اور فنی تربیت یافتہ عملہ بہت ضروری ہے۔ اگر ان پر توجہ نہ دی گئی یا ناکامی ہوئی تو عام انتخابات مشکل میں پڑ سکتے ہیں۔
اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ پاکستان کے طول و عرض میں اس نئی ٹیکنالوجی کے ساتھ الیکشن میں جانا کوئی آسان کام نہیں جبکہ٢٠١٨ء کے الیکشن میں تقریباً٨٥ ہزارپولنگ سٹیشن قائم کئے گئے تھے جو نئی مردم شماری کے بعد یقیناً مزید بڑھیں گے۔ ادھر ابھی تک یہ معلوم نہیں کہ ایک پولنگ سٹیشن پر کتنی مشینوں کی ضرورت ہو گی۔ یہ امر انتہائی افسوسناک ہے کہ حکومت کے ان اصلاحات پر اپوزیشن کو شکوک و شبہات ہیں اورکسی طور پہ بھی افہام و تفہیم نہیں ہو رہا۔ اب تو اس مشین کے قانونی استعمال پر شدید تناؤ پایا جاتا ہے۔ یہ بات تو اب کھلے عام کی جا رہی ہے کہ اس مشین کے ذریعے دھاندلی مقصود ہے تا کہ کسی پہ کوئی الزام نہ آسکے۔ بعض جہاندیدہ اسے شیطانی مشین کا نام دے رہے ہیں جو کسی لمحے بھی کچھ کر سکتی ہے۔ اپوزیشن جماعتیں کہہ چکیں کہ وہ مذکورہ قانون سازی کوعدالت میں چیلنج کریں گی۔ الیکشن کمیشن بھی اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں اور تحفظات دُور کرنے کو اپنی آئینی ذمہ داری سمجھتا ہے۔یہ معاملہ سپریم کورٹ میں جا سکتا ہے جہاں مشین کے بارے ہر موقف کی شنوائی ہو گی ۔حزبِ اقتدار اور حزبِ اختلاف کو چاہیے کہ وہ اس معاملہ میں ٹکراؤ سے گریز کریں ، مُلک کے وسیع تر قومی مفاد اور بہتر اصلاحات کے لئے مل جل کر کام کرنا چاہیے تاکہ انتخابی عمل میں شفافیت پیدا ہو۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ جن تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے اور مشین کے استعمال میں ابھی بہت سا کام کرنے کی ضرورت ہے ،لیکن یہ بات طے ہے کہ پاکستان میں انتخابی عمل میں جدت اور انقلابی تبدیلیاں ہی ایک صاف، شفاف اور نمائندہ حکومت کی ضامن ہیں۔