ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کا اہم اقدام

ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) نے صارفین کی سہولت کے پیشِ نظر دوا ساز کمپنیوں پرڈاکٹروں کو اپنی ادویات تجویز کرنے کے عوض تحائف دینے پر مکمل پابندی لگا دی ہے، اس حوالے سے ملک بھر میں فارما سوٹیکل انڈسٹری کیلئے ادویات کی مارکیٹنگ کے طریقوں کو ریگولیٹ کرنے کے نئے منظور شدہ قوانین جاری کر دیئے ہیں۔
امر واقعہ یہ ہے کہ ادویہ ساز کمپنیاں اپنی ادویات کی فروخت بڑھانے کیلئے ڈاکٹروں کو قیمتی تحائف دے کر مجبور کرتی ہیں کہ ڈاکٹر مریضوں کو انہی کی کمپنی کی ادویات تجویز کریں۔ یہ دھندہ چند سالوں سے عروج پر پہنچ گیا، جس کا نقصان صارفین کو مہنگی ادویات کی صورت اٹھانا پڑ رہا ہے کیونکہ کمپنیاں جو پیسہ ڈاکٹرز کی فرمائشیں پوری کرنے پر لگاتی ہیں اس سے کئی گنا زائد صارفین سے کماتی ہیں، یہ جملے زبان زدِعام ہیں کہ ادویہ ساز کمپنیاں ڈاکٹروں کو باقاعدہ ہدف دیتی ہیں کہ انہوں نے ایک ماہ کے اندر ہدف پورا کر لیا تو انہیں اس کے عوض بھاری مراعات دی جائیں گی۔ ہدف کے تعاقب میں ڈاکٹر حضرات ان مریضوں کو بھی متعلقہ کمپنی کی دوا تجویز کرتے ہیں جنہیں سرے سے ان کی ضرورت ہی نہیں ہوتی۔ ایسی صورت حال میں حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ شہریوںکو مافیا کے رحم و کرم پر نہ چھوڑے، سو ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی حرکت میں آئی اور اس نے ڈاکٹروں کے تحائف لینے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے، مگر سوال یہ ہے کہ اس پابندی پر عمل کیسے ہو گا، ہمارے خیال میں ڈاکٹروں کا ادویہ ساز کمپنیوں کی جانب سے تحائف وصول کرنے پر روک تھام آسان کام نہیں ہو گا کیونکہ کمپنیوں اور ڈاکٹروں کے درمیان غیر قانونی لین دین کا معاملہ خفیہ ہوتا ہے، اس مکروہ دھندے سے بچاؤ کی ایک ہی صورت ہے کہ ڈاکٹر دیانتداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اور انسانی جانوں و صارفین کی قوت خریدکو سامنے رکھ کر فارمولا تجویز کریں، مریض کی مرضی جس کمپنی کی دوائی خریدے۔ سرکاری ہسپتالوں کے ڈاکٹروں پر دہری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کیونکہ وہ حکومت سے تنخواہ اور مراعات حاصل کر رہے ہوتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ اگر سرکاری ڈاکٹرز ادویہ ساز کمپنیوں کے ساتھ خفیہ معاہدے کر کے مراعات حاصل کرنا شروع کر دیں تو خیانت ہو گی، ایسے ڈاکٹر اپنے ضمیر کے مجرم ہونے کے علاوہ ملک و قوم کے بھی مجرم ہوں گے۔
سابق امام کعبہ اپنے منصب کا خیال رکھیں
سعودی عرب میں منعقد ہونے والے تفریحی میلے کی پروموشن کے لیے بننے والی اشتہاری فلم میں سابق امام کعبہ شیخ عادل الکلبانی کی شرکت نے مسلمانوں میں سنسنی پھیلا دی ہے، سوشل میڈیا پر اس ویڈیو کا مختصر کلپ وائرل ہو رہا ہے ، جس پر مسلمان تنقید کر رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ امام کعبہ کا منصب مسلمانوں کے ہاں قابل احترام تصور کیا جاتا ہے، جو شخص اس منصب پر فائز ہوتا ہے مسلمان اس کے احترام کو لازم سمجھتے ہیں، مگر جب صاحب منصب ہی اپنے مقام کو گرا دے تو سب کو تنقید کا موقع مل جاتا ہے، شیخ عادل الکلبانی جدید خیالات کے حامل ہیں ، جس کا اظہار وہ وقتاً فوقتاً کرتے رہتے ہیں ، دو سال قبل انہوں نے ایسے ہی خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ موسیقی کے آلات اور گانا حرام نہیں ہے، حالانکہ اسلام کے نامور علماء موسیقی کو ناجائز اور حرام قرار دیتے آئے ہیں ، اس سے قبل 2010ء میں وہ موسیقی کے حق میں ایک فتویٰ بھی جاری کر چکے ہیں ، تاہم بعد ازاں وہ اپنے اس مؤقف سے پیچھے ہٹ گئے تھے۔
امر واقعہ یہ ہے کہ سعودی فرمانروا شاہ عبداللہ نے شیخ عادل الکلبانی کو جدید خیالات کی بنیاد پر امام کعبہ مقرر کیا تھا، اس تقرری کے پیشِ نظر یہ تھا کہ سعودی عرب کے قدامت پسند معاشرے میں آزادی فکر کی راہ نکالنے میں شیخ عادل الکلبانی کردار ادا کر سکتے ہیں، مگر مخصوص نظریات کے حامل ہونے کی وجہ سے انہیں کچھ عرصہ بعد امام کعبہ کے منصب سے ہٹا دیا گیا۔ تاہم وہ کھل کر اپنے خیالات کا اظہار کرتے رہے، سعودی عرب میں علماء کی بڑی تعدادا شیخ عادل الکلبانی کے خیالات سے اتفاق نہیںکرتی، جب شہزاد محمد بن سلمان ولی عہد مقرر ہوئے اور انہوں نے جدت کے نام پر سعودی عرب میں اصلاحات کا آغازکیا تو شیخ عادل الکلبانی اپنے مخصوص خیالات کی وجہ سے ایک بار پھر نمایاں ہو گئے، کیونکہ محمد بن سلمان بھی ایسے ہی خیالات کے حامل ہیں، وہ سعودی عرب میںسینما اور دیگر تفریحی سرگرمیوںکو ریاستی سرپرستی میں کروا رہے ہیں۔ یہ درست ہے کہ سعودی عرب میں لوگوں کی بڑی تعداد محمد بن سلمان کے ترقی پسند اقدامات سے متفق نہیں ہے مگر وہ کھل کر مخالفت نہیںکر سکتے ہیں۔ اب سابق امام کعبہ شیخ عادل الکلبانی کی شوبز میں انٹری دیکھ کر مسلمانوں کے دل دکھی ہوئے ہیں۔ سوشل میڈیا پر انہی جذبات کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ سابق امام کعبہ کو اپنے منصب کا احترام کرنا چاہیے تھا ، معروف شاعر الطاف حسین حالی نے شاید ایسے ہی مواقع کے لیے کہا کہ
پستی کا کوئی حد سے گزرنا دیکھے