آئین کی پاسداری سب پر لازم

آئین میں تمام اداروں کی حدود کا تعین کر دیا گیا ہے، ان حدود کی پاسداری ہر ادارے پر لازم ہے، مگر بدقسمتی سے پاکستان کی تاریخ میں ایسے حالات پیدا ہوتے رہے ہیں جس کی وجہ سے آئین کو پامال کیا گیا، ماضی میں پیش آنے والے ناخوشگوار واقعات کو اگرچہ دہائیاں بیت چکی ہیں مگر آج بھی اس کے تذکرے ہوتے ہیں ، گزشتہ روز لاہور میں منعقدہ عاصمہ جہانگیر کانفرنس میں ججز نے ایسے ہی خیالات کا اظہار کیا، وکیل رہنماء اور سابق صدر سپریم کورٹ بار علی احمد کرد نے اظہار خیال کیا تو نئی بحث کا آغاز ہو گیا، اس حوالے سے چار شخصیات کی گفتگو بہت اہم ہے،چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ عدلیہ کے ادارے کا سربراہ ہونے کی حیثیت سے یہ مجھ پر لازم ہے کہ میں ان باتوں کا جواب دوں۔ چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ عدالتیں آزاد ہیں کسی میں ہمت نہیں ہمیں ڈکٹیشن دے، سپریم کورٹ فیصلے کرنے میں آزاد ہے اور کسی کی ہمت نہیں ہمیں روکے جبکہ آج تک کسی ادارے کی بات سنی اور نہ ہی دبائو لیا۔ ضمیر کے مطابق فیصلے کرتا ہوں، عدلیہ کے معاملات میں کوئی مداخلت نہیں ہو رہی، الزامات لگانے والے انتشار نہ پھیلائیں، میں اپنے ادارے کے بارے میں بات کرتا ہوں، لوگوں کو غلط باتیں نہ بتائیں،اداروں کے اوپر سے لوگوں کا بھروسہ نہ اٹھوائیں، یہ کام نہیں ہے، ملک کے اندر قانون کی،آئین کی اور ہر طرح سے جمہوریت کی حمایت کرتے رہیں گے اور اسی کا پرچار کرتے رہیں گے اور اسی کو نافذ کرتے رہیں گے۔چیف جسٹس کے یہ الفاظ بہت معنیٰ رکھتے ہیں کہ ہمیں ایسی کسی بھی بات سے گریز کرنا چاہئے کہ جو اداروں پر سے لوگوں کا اعتماد ختم کر دیں۔چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ اطہر من اللہ نے جو کہا کہہ وہ اس اعتبار سے اہم ہے کہ انہوں نے عدلیہ اور ججز سے ہونے والی غلطیوں کا کھلے دل سے اعتراف کر تے ہوئے کہا ہے کہ ہمیں اس سے سبق حاصل کر کے آگے بڑھنا ہوگا، انہوں نے کہاکہ کئی عدالتی فیصلے ماضی کا حصہ ہیں جنہیں مٹایا نہیں جا سکتا،ہم اپنا سر ریت میں نہیں چھپا سکتے، ہمیں اپنی غلطیاں تسلیم کرنا چاہئیں،ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم عوام میں اپنی ساکھ بحال کریں، ہمارے لیے بہت ضروری ہے کہ ہم جانیں عوام ہمارے متعلق کیا سوچ رہے ہیں ،کوئی جج دبائو میں آنے کی کوئی توجیہہ نہیں دے سکتا۔ہم اللہ کے نام سے حلف اٹھاتے ہیں یہ المیہ صرف عدلیہ کا نہیں بلکہ دیگر اداروں کا ہے جب 2000ء میں اخبارات میں چھپا کہ جج پی سی او کا حلف اٹھائیںگے تو میں نے ہاتھ سے لکھ کر اس کے خلاف درخواست دی، کیوں کہ پی سی او کا حلف آئین کے حلف کی خلاف ورزی ہے۔
سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ تمام جج اور افواج پاکستان آئین پاکستان کی پاسداری کا حلف لیتے ہیں، ہر پاکستانی آئین کی پاسداری کا پابند ہے، پریس کی آزادی ، آزادی اظہار اور خواتین کے حقوق کا تحفظ ہونا چاہیے۔دنیا میں پریس کی آزادی میں پاکستان انتہائی نچلے درجے پر ہے۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کچھ بنیادی حقوق کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ آزادی صحافت، آزادی اظہار رائے اور بچیوں کی تعلیم شامل ہے۔ جسٹس فائز عیسیٰ نے بانی پاکستان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ قائد اعظم کہتے تھے جمہوریت کیلئے آپ بھیک نہیں مانگتے یہ آپ کا حق ہے۔ انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جہاد اکبر جابر حکمران کے سامنے کلمہ حق کہنا ہے۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آئین کے آٹیکل اٹھاون ٹو بی کا اختیا ر سابق صدر پاکستان غلام اسحاق خاں نے استعمال کیا جب اس آرٹیکل کو آئین سے ختم کیا گیا تو کہا گیا کہ مارشل لاء کا راستہ بند کر دیا گیا ہے لیکن 12اکتوبر 1999ء کو آمر مشرف نے دوبارہ اقتدار پر قبضہ کر لیا۔ جنرل مشرف نے دوسری مرتبہ 2007ء میں آئین توڑا پہلے ججوں کو اپنا حلف دلوایا گیا پھر اپنے کسیز سننے کا کہا گیا۔ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ محمد امیر بھٹی نے کہا کہ عدلیہ پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے، آئین اور عوامی حقوق کی حفاظت بھی عدلیہ کی ذمہ داری ہے،عدلیہ ان اصولوں کی پاسداری کرتی ہے جن کی بنیاد پر پاکستان بنا۔ جسٹس امیر بھٹی نے کہا آئین کا آرٹیکل 25انتہائی اہم ہے جو کہ تمام شہریوں کو مساوی حقوق کی فراہمی کو یقینی بنانے کا کہتاہے اسی طرح آئین کا آرٹیکل 19اے رائٹ آف انفارمیشن کے بارے میں ہے جو ہر شخص کا بنیادی حق ہے۔ اس قانون کے تحت ہر ایک کو یہ حق حاصل ہے کہ ہر وہ چیز جان سکتا ہے جو عوام کے ٹیکس کے پیسے سے بنائی گئی ہے۔ یہ قانون شفافیت کیلئے انتہائی ضروری ہے۔ انصاف کی فراہمی صرف عدلیہ کا کام نہیں دیگر ادارے بھی اپنی حدود میں رہتے ہوئے مدد کرتے ہیں جبکہ قانون کی بالا دستی میں عدلیہ کا ایک اہم کردار ہے۔ مقامی حکومتوں کی بحالی سمیت دیگر کئی کیسز میں عدالتوں نے فیصلے دے کر یہ ثابت کیا ہے کہ وہ زندہ ہیں اور کسی بھی دوسرے ادارے سے بڑھ کر قانون کی بالادستی کیلئے کام کر رہی ہیں۔ صدر سپریم کورٹ احس بھون نے کہا کہ ہماری عدلیہ بہت اچھی اور جج قابلیت رکھتے ہیں مگر تاثر ٹھیک نہیں ، آمروں نے بھی اپنے اقدامات کو عدلیہ سے قانونی حیثیت دلوائی ، اب وقت آ گیا ہے کہ جمہوریت کیلئے کھڑا ہو جانا چاہیے۔ اس کانفرنس کی اہم بات یہ تھی کہ اداروں کا حدود میں رہ کر کام کرنا اور آئین کی بالادستی پر سبھی کا اتفاق تھا، ضرورت اس امر کی ہے کہ فاضل جج صاحبان نے آئین کی بالادستی کے عزم کا جو اظہار کانفرنس میں کیا ہے یہ آئین پر عمل درآمد میں بھی دکھائی دینا چاہئے، کیونکہ جب تک حقیقی معنوں میں آئین کو بالادستی حاصل نہیں ہو جاتی تب تک ہمارے مسائل جوں کے توں رہیں گے۔