عام آدمی

ایک برقی پیغام عام آدمی کی طرف سے ملا ہے ان کا کہنا ہے کہ وہ ایک عام آدمی ہے جس کی کوئی شناخت نہیں ان کا کہنا ہے کہ معاشرہ عام آدمی ہی کے کندھوں پرکھڑا ہے جو معمولی سے معمولی اجرت پر ایسے ایسے کام کرتا ہے جو نامور اور خاص لوگوں کے بس کی بات نہیں عام آدمی کا کہنا ہے کہ وہ ہر کسی کی عزت کرتا ہے اور بدلے میں اسے کوئی صلہ نہیں ملتا دھتکارا نہ جائے تو بھی غنیمت کم ہی اعلیٰ ظرف ہوتے ہیں جوعام آدمی کو برابری کا درجہ دیتے ہیں عام آدمی کو ملک میں جمہوریت ‘ عدلیہ کی بالادستی ‘ اداروں کی سیاست میں مداخلت ‘ پارلیمان اورحکومت کسی سے بھی کوئی سروکار نہیں عام آدمی کا کہنا ہے کہ یہ ان کا مسئلہ نہیں ان کا مسئلہ مہنگائی اور گرانی ہے جس کے باعث اب عام آدمی کا گزارہ مشکل نہیں ناممکن ہو گیا ہے روز بھائومیں اضافہ اور روپے کی بے قدری نے جس قدر عام آدمی کو بے مول اور ہلکا کر دیا ہے اس کا رونا وہ کس سے روئے عام آدمی کی توکوئی سنتا ہی نہیں اور یہ کام عام آدمی اتنا بدقسمت اور سادہ ہے کہ وہ بلدیاتی انتخابات اور عام انتخابات میں باآسانی دھوکہ کھا جاتا ہے جب دو چار دن کے لئے اس کی بھی اہمیت ہونے لگتی ہے تو عام آدمی سوچتا ہے کہ میرے پاس کاغذ کی اس پرچی کے سوا ہے ہی کیا وہ اتنا سخی ہوتا ہے کہ سب سے چالاک و عیار مانگنے والے کو اپنا سمجھ کر یہ پرچی اس کے حق میں دے دیتا ہے اسے برا لگتا ہے کہ شہر کا معزز اور متممول آدمی اس سے کچھ مانگے اور وہ ایک بے مول ووٹ کی پرچی بھی اسے دینے کا روادار نہ ہو ایسا اس طبقے میں نہیں ہوا کرتا اس طبقے کا مرد بھی عورت کی خو والا ہوتا ہے جو ذرا سی توجہ اور بات پر خوش ہو جاتا ہے عام آدمی کی حالت کم ہی بدلتی ہے اس لئے کہ عام آدمی اس کے لئے جدوجہد کے لئے فارغ ہی نہیں وہ صبح نکلتا ہے کہ شام کو بچوں کے لئے آٹے کا ایک تھیلا اور سبزی کندھے پر رکھ کے لا سکے دیہاڑی ملتی ہے تو وہ سودا سلف لئے خوشی خوشی گھرآتا ہے نہیں ملتی تو سر جھکائے نظریں ملائے بغیر گھر کے کسی کونے میں آکر لیٹ جاتا ہے اور سوچنے لگتا ہے کہ بندہ مزدور کے اوقات کس قدر تلخ ہیں قدرت نے رزق کی جو تقسیم کی ہے اس پر عام آدمی سوچتا ضرور ہے مگر پھر اوپر والے کی مرضی پر راضی اور کبھی کبھار حرف شکایت بھی زباں پرلاتا ہے کبھی دل ہی دل میں کائنات کے مالک سے بقدر اشک بلبل ہی عنایت کی دعا مانگتا ہے ان کی زندگی کے شب ور وز بس اس طرح سے گزر رہے ہوتے ہیں جب ملا کھا لیا نہ ملا تو صبر کر لیا اس کے سوا چارہ ہی کیا ہے اس عام آدمی کی حالت کبھی کبھی بدل بھی جاتی ہے وہ عام آدمی یااس کا بیٹا بیٹی جب حالت بدل جانے پر دوسروں کے ہمسر ہوجاتے ہیں تو ان کو یاد بھی نہیں رہتا کہ غربت کیا چیز ہوتی ہے مجبوریاں کس چیز کا نام ہوا کرتا تھا اسی طرح سرکاری ملازمین اگر بڑے عہدوں کے ملازمین رزق حلال پر اکتفا کرنے والے ہوں تو کم و بیش سبھی کی حالت زیادہ اچھی نہیں ہوتی ان کو سفید پوشی کا بھرم رکھنے کے لئے کتنے جتن کرنا پڑتے ہیں اس طبقے کو چونکہ آگے بڑھنا ہوتا ہے اس لئے ایک جانب خود داری اور دوسری جانب سفید پوشی کا بھرم زندگی بھر ان دونوں کے بیچ معلق اور پستا رہتا ہے اوسط درجے کی زندگی اوسط سے کم آمدنی اور آگے بڑھنے کے جتن میں کبھی سر پر چھت کا انتظام کرنے کا موقع ملتا ہے کبھی اس کی آس لئے پنشن سے گزارا ا کثر کا یہی حال ہے ۔ جولوگ پرائیویٹ اداروں میں کام کرتے ہیں اگر ادارہ اچھا ہے آجر اجیروں کی مشکلات کوسمجھتا اور ہمدردی کے جذبات رکھتا ہے پھر تو بہتر وگر نہ یہ طبقہ نہ دیہاڑی داروں میں اور نہ تنخواہ داروں میں بیچ میں کہیں گم مسائل کی بھٹی میں رگوں میں دوڑتا خون پھونکتا دم گھٹ گھٹ کے جینے پر مجبور ہے شکایت کرے تو کس سے کرے حکومت کم سے کم اجرت مقرر کرکے سو چکی ہوتی ہے اسے کون جگائے بھلا اور جگانے کا کوئی خاص فائدہ بھی نہیں کیا حکومت کو معلوم نہیں کہ یہاں کس قدر حق تلفیاں ہوتی ہیں حکومت کے قوانین کا کتنا کھلے عام مذاق اڑایا جاتا ہے رہ گیا وہ طبقہ جسے بالائی طبقہ کہا جاتا ہے جو ساری بالائی کھا جاتا ہے اس کا تذکرہ برسبیل تذکرہ ہی آیا ورنہ عام آدمی کے تذکرے میں اس کا کیا ذکر ۔ صبح ہوتی ہے شام ہوتی ہے زندگی یونہی تمام ہوتی ہے مگر سوائے محنت کش ملازمین سرکار وغیر سرکاری حکمران و مقتدرات جملہ اہل ارض دنیا کی یہ مختصر زندگی جیسے تیسے راحت و آرام تنگی و ترشی میں گزر ہی جائے گی وقت ہمیشہ ایک سا نہیں رہتا اور وقت آخر کا سبھی کو یقین ہے جب وہ وقت آتا ہے تو پھر مساوات و انصاف کی عدالت لگتی ہے لاچار اور چارہ دست دونوں کو مٹی کے سپرد ہونا ہوتا ہے وہاں کوئی عام و خاص آدمی نہیں بس آدمی ہوتا ہے اور اعمال کا حساب مانگا جاتا ہے کچھ اس کی فکر اور خیال ہو تو دنیا میں اس طرح کے مسائل نہ ہوں ‘ ذرا سوچئے۔
قارئین اپنے مسائل و مشکلات 03379750639 پر واٹس ایپ میسج ‘ وائس میسج اور ٹیکسٹ میسج کر سکتے ہیں