پانی اور ہوا سے چلنے والی چکیاں

پشتو میں کہتے ہیں” ارمان دے مشہ ” ترجمہ اس کا یوں سمجھ لیں کہ فکر نہ کرو ‘ یہ پشتو کہاوت ایک خبر کے حوالے سے یاد آئی ہے اور خبر یہ ہے کہ پن چکیوں کاعہد تمام ہوا ‘ بجلی سے چلنے والی آٹا مشینوں نے جگہ لے لی ہے ‘ یہ خبر اگرچہ دیر ڈیٹ لائن سے آئی ہے کہ لوئردیر میں صدیوں سے قائم پانی سے چلنے والی چکیوں کا دور تمام ہوا ‘ پانی سے چلنے والی چکیوں کی جگہ بجلی سے چلنے والے آٹا مشینوں نے لے لی ہے ‘ ایک صدی پہلے ضلع دیر میں پانی سے چلنے والی چکیوں کا رواج تھا ‘ مشین کا تصور بھی نہیں تھا ‘گندم ‘مکئی کے دانے پیسنے کے لئے ضلع دیر کے مختلف مقامات پرسینکڑوں کی تعداد میں پن چکیاں تھیں ‘جوکہ دی نالیوں کے پانی کو واٹرچینل کے ذریعے اونچے مقام سے چھوٹ کر تیز بہائو کی صورت چکیوں کوچلانے کے لئے استعمال کیا جاتا تھا ‘ تاہم وقت گزرنے اور بارشوں میں کمی کی وجہ سے یہ ندیاں بھی کمزور پڑتی چلی گئیں ‘ جبکہ آبادی بڑھ جانے کی وجہ سے بھی ماحول پر اثرات پڑے ‘ یہاں ایک بات کی وضاحت ضروری ہے کہ خبر میں جہاں بھی پن چکی کا ذکر آیا ہے’ خبر نگار نے اسے ”پانی سے چلنے والی پن چکی” لکھا ہے حالانکہ یا تو صرف پانی سے چلنے والی چکی لکھنا چاہئے یاپھر پن چکی ‘ کہ پن کا لفظ پانی ہی کے لئے استعمال ہوتا ہے یہ بالکل وہی صورتحال ہے جیسا کہ اکثرلوگ استفادہ کے ساتھ حاصل کا لاحقہ ضروری سمجھتے ہوئے استفادہ حاصل کرنا لکھتے ہیں ‘ حالانکہ استفادہ کرنا درست املا ہے ‘ خیر بات ہو رہی تھی پن چکی کی تو یہ صرف لوئردیر ہی میں نہیں خیبر پختونخوا کے کئی اضلاع میں عام ہوا کرتے تھے ‘ زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں ہے ‘ خود ہمارے پشاور کے قریب خزانہ کے علاقے میں آج سے بیس پچیس برس پہلے اسی طرح کی چکی ہوتی تھی جوسردارکی جندر(پن چکی کو پشتو جرندہ اور اردو ‘ ہندکو میں جندر کہتے ہیں) ایسے جندر ضلع ہزارہ کے مختلف علاقوں ‘ سوات ‘ چترال وغیرہ میں بھی عام تھے ‘ ہم نے اپنی ریڈیو پاکستان کی ملازمت کے دوران چترال میں نہ صرف ایسی پن چکیاں دیکھی ہیں بلکہ وہاں تو بعض مقامات پرپانی کے تیز بہائو سے استفادہ کرتے ہوئے مقامی سطح پر چھوٹے چھوٹے جنریٹرز لگا کر پورے پورے گائوں کو رات کے وقت دو دوبلب جلا کر گھروں میں روشنی کرنے کا اہتمام کیا تھا جس کے لئے انتہائی معقول پیسے(90ء کی دہائی میں صرف دوسو روپے فی گھر) وصول کئے جاتے تھے ‘ بات ہو رہی تھی پشاور کے قریب سردار کے جندر کی جواس علاقے کے ایک شخص سردار خان کے نام سے موسوم تھی ‘ اس جندر کے ذریعے نہ صرف گندم ‘ مکئی وغیرہ کے علاوہ پشاور کے دکاندار مسالہ جات اور مہندی کے پتے بھی پیس کر تجارتی مقاصد کے لئے استعمال کرتے تھے ‘ سردار کی جندر کب ختم ہوئی معلوم نہیں ‘ ممکن ہے کہ فلور ملوں میں اضافے اور بجلی سے چلنے والی پسائی کی مشینوں کی آمد کے بعد ایسا ہوا ہو ‘ بہرحال خبر نگار نے پن چکیوں کو صرف لوئر دیر کے ساتھ مختص کیا جو جزوی طورپر تو درست ہے مگر خبر تخلیق کرتے ہوئے موصوف نے دوسرے علاقوں کو یا تو بھلا دیا یا پھراپنی معلومات میں کمی کی وجہ سے ایسا کیا ہو ‘ اور انہیں معلوم ہی نہ ہو کہ پورے خیبر پختونخوا میں جہاں جہاں بھی پانی کے منابع موجود ہیں اور ذرا سی اونچائی سے ترائی کی جانب آنے والے پانی کی ندیوں میں بہائو تیز ہو تو ضرورت کے مطابق وہاں لوگوں نے پن چکی یا جندر(پشتو میں جرندہ) قائم کرکے مختلف اشیاء کی پسائی کا کام آسان بنایا تھا ‘ یعنی بقول قتیل شفائی
کبھی سارے کبھی گاما کبھی پادھا کبھی نیسا
مسالہ جان کراس نے سدا ہرگیت کو پیسا
موسیقی کے ایک ابتدائی سبق سارے گاما پادھانی سا کو اس خوبصورتی سے شعر کا مصرعہ اولیٰ بنا کر قتیل شفائی نے مصرعہ ثانی میں پیسنے کو دراصل انکے آبائی ضلع ہزارہ میں بھی پن چکیوں کی موجودگی کا ثبوت بنا دیا ‘ تاہم ہمارے یعنی برصغیر کی بہ نسبت مغربی دنیا میں پسائی کا کام پن چکیوں کے ساتھ ساتھ ہوا سے چلنے والی کیوں سے بھی لیا جاتا تھا ‘ پرانی کائو بوائے ٹائپ فلموں میں(جو اب بھی یوٹیوب پرموجود ہیں) ہوا سے چلنے والی یہ چکیاں نظرآجاتی ہیں ‘ ان کے لئے متعلقہ چکی کی عمارتوں کے ساتھ نہایت اونچائی پر بڑے بڑے پنکھ(پروں کی صورت) نظر آتی ہیں ‘ اور ان سے کئی طرح کے کام لئے جاتے دیکھے جا سکتے ہیں ‘ یعنی چکیاں بھی چلائی جاتی ہیں اور زیرزمین کنوئوں سے پانی بھی نکال کرآبپاشی اور آبنوشی کے کام میں استعمال کیا جاتا ہے’ اس حوالے سے عدل وا نصاف کا ایک واقعہ بھی یاد آگیا جو اپنے قیام جرمنی کے دوران برلن کے مضافات میں پرشیا کے ایک بادشاہ ے بارے میں مشہور ہے اور اس بادشاہ کے محل کی سیر کے لئے جانے کے دوران ہماری گائیڈ نے وہاں کی تاریخ کی وضاحت کے دوران ہمیں بتایا تھا ‘ بادشاہ کے محل کی سیر کے دوران اسی قسم کی ایک باد چکی نظر آئی جس کی موجودگی کی وجہ سے محل کی خوبصورتی پراثرپڑتا دکھائی دیتا تھا ‘ گائیڈ نے اس کی جانب توجہ دلاتے ہوئے بتایا کہ جب پرشیا کے بادشاہ کے اس محل کے لئے یہ جگہ منتخب کی گئی توباد چکی کے مالک کو اپنی چکی وہاں سے کسی اور جگہ منتقل کرنے کا حکم دیاگیا مگراس نے انکار کرتے ہوئے برلن کی سپریم عدالت میں یہ موقف اختیار کیا کہ اس کی ہوا چکی پہلے سے موجود تھی اور بادشاہ نے محل کے لئے زمین بہت بعد میں حاصل کی ‘ سماعت کے دوران بادشاہ خود بھی عدالت میں حاضر رہتا تھا ‘ کئی ہفتے کی سماعت کے بعد عدالت نے ہوا چکی کے مالک کے موقف کو درست تسلیم کرتے ہوئے حکم دیا کہ یا تو بادشاہ اپنے محل کے لئے کہیں اور جگہ ڈھونڈے یا پھر چکی اسی طرح موجود رہے گی ‘ اور صدیاں گزرنے کے باوجود شاہی محل کی دیوارکے سنگ وہ ہوا چکی آج بھی وہیں ایستادہ نظام عدل کی عظمت کے گن گا رہی ہے۔”بہرحال خبر نگارکومعلوم ہوکہ اب جب بجلی بحران کا جادو سرچڑھ کر بولے گاتو قوم ایک بار پھر پن چکیوںکے دور میں پہنچ سکتی ہے ” ۔