مشرقیات

ہمارے ووٹ کے صحیح حقدار پھر پیدا ہوگئے ہیں ،ایک سے بڑھ کر ایک تابعدار اللہ نے بیٹھے بیٹھے بھیج دیئے ہیں،اب یہ بات بھی ہم اچھی طرح جان گئے ہیں کہ خدمت کے ان بخاری موسمی بخار کی طرح ہوتے ہیں الیکشن ہوتے ہی غائب ،بہرحال آپ چاہیںتو محدود مدت کے لئے ان کی خدمات سے استفادہ کر سکتے ہیں ،ہم نے تو تین بندوں سے ایک ووٹ کے بدلے سردیوںمیں مسلسل تین شامیں تین مختلف قسم کی مچھلیوں کے ذائقے سے زبان شناسی حاصل کی ہے اور ابھی 19دسمبر تک 27مزید شاموں کا لطف دوبالا کرنے کا منصوبہ بنائے بیٹھے ہیں۔خیر سے خدمت کے جذبے سے سرشاروں کی بھی کوئی کمی نہیں ہے آج کل کہ ہر یونین کونسل یا نیبرہڈ کونسل میںقسمت آزمائی کودرجنوں امیدواروں نے لنگوٹ کسا ہوا ہے ،اب آپ بھی فیصلہ کر لیں کہ سرد شاموں میں حرارت بخش کون سی غذ ا آپ کو مرغوب ہے۔
ہمارے ایک نہیں کئی دوست بھی مقامی کونسل کے انتخابات میں کامیابی کے لئے پرامید ہیں اور سچ پوچھیں تو ان کا پرامید ہونا ہماری ہی کاوشوںکا نتیجہ ہے ہم نے سب کو ایک ہی پٹی پڑھائی ہے کہ پیسہ پھینک پھر تماشا دیکھ،امید تو یہ بھی ہے کہ ان میں سے ایک آدھ ہی کامیاب ہوکر اپنی سرمایہ کاری کا کئی گنامنافع جیب میں تب تک ڈالتا رہے گا جب تک کونسلری کا دم چھلا اس کے نام کا حصہ رہے گا باقی جو ہیں وہ کنگال ہوکر ہماری خدمت شدمت سے تائب ہوجائیں گے۔
انتخابات کا بگل بجتے ہی تماشا یہ بھی ہوتاہے کہ تمام امیدوارخود کو نڈر ،بے باک،ہماری امنگوں کا حقیقی ترجمان ،تعلیم یافتہ اور نہ جانے کون کون سی پوشیدہ خوبیوں کا اظہار کرنے لگتے ہیں ان سب خوبیوں کا تو پتا نہیںتاہم ہماری امنگوں کے حقیقی ترجمانی بارے تمام امیدواروں کے دعوے بہرحال سچے ہوتے ہیں آپ خود سوچیںہماری امنگیں ہیں بھی کیا سوائے ”رام رام چپنا،پرایامال اپنا”اور ہمارے امیدوار بھی اس کام میں ہم سے دو قدم آگے ہوتے ہیں۔وہ ضرب المثل ہے جیسی روح ویسے فرشتے۔بس فرق یہ ہے کہ ہر بندہ یہاں اپنی حد دیکھ کر” ہاتھ” ہی نہیںپائوں بھی مار رہا ہے۔ہمارے جیسے عامی شامی صرف مچھلی کے ذائقے پر رام ہوجاتے ہیں اور ہمارے نمائندوں کی حد بہر حال اس سے آگے شروع ہوتی ہے اور ا ن کی حد بندی سے آگے جو اپنی حدود میں بیٹھے ہوتے ہیں وہ ایم پی اے ،ایم این اے کہلاتے ہیں۔سرکار کی تنخواہ پر گزربسر کرنے والے ہوں یا صنعت وتجارت اور دوسرے کسب معاش کے ذریعے مال بٹورنے کے امنگ خواں ہوںسب ہی ہماری امنگوں کے حقیقی ترجمان ہیں۔کون پرایا مال اپنا سے انکا رکرتا ہے۔