بابا جی مسجد

122 سالہ قدیم تیمرگرہ بابا جی مسجد اب بھی اصلی حالت میں موجود

ویب ڈیسک(تیمرگرہ ) تیمرگرہ( بابا جی )مسجد تاریخی اور قدیم طرز تعمیر کا شا ہکار جوکہ 122سال قبل تعمیر ہونے کے باوجود اب بھی اپنی اصلی حالت میںقائم اور موجود ہے

جو کہ قدیم فن تعمیر کا شا ہکار ، ذہانت اور مہارت کی تصویر ہے بابا جی مسجد تیمرگرہ کو لکڑیوں اورمٹی سے خوبصورت انداز سے تعمیر کیا گیا عوام روحانی سکون حاصل کرنے اسے دیکھنے اوراس میں عبادت کے لئے دور دور سے آتے ہیں ویسے توتمام مساجد اللہ تعالیٰ کے گھر ہیں لیکن بعض مساجداپنی فن تعمیر اور تاریخی حیثیت رکھنے کی وجہ سے شہرت پاتے ہیں ان مسا جد میں تیمرگرہ بابا جی مسجد بھی شامل ہے۔

یہ مسجد روحانی پیشوامیاں گل محی الدین المعروف تیمرگرہ صاحب نے 1899میں تعمیر کی تھی ان کے پوتے میاںگل نقیب الابرار نے مشرق کو بتایا کہ تیمرگرہ بابا جی صاحب نے مسجد کو اپنی مد دآپ کے تحت تعمیر کیا تھا اس کے لئے زمین بھی اپنے پیسوں سے خریدی تھی مسجد میں زیادہ کام لکڑی سے ہوا ہے جس کے لئے اس وقت پشاور تہکال سے ماہر کا ریگروں کو لایا گیا تھا اور تقریبا 12سال کی مدت میں بابا جی مسجد تعمیر ہوئی اس مسجد کے دروازے ، کھڑکیاں، ستون ، شہتیر ، چھت میں خوبصورت اور قیمتی لکڑیاں ہی استعمال کی گئی ہیں

اور لکڑی کی چھت کو مغلیہ دور کے اسلامی طرز تعمیر سے سجایا گیا ہے ستون ، دروازوں ، اور برآمدے میںلگی لکڑیوں پر کندہ کاری بھی قابل دید ہے اور اس پرخوبصورت نقش نگاری دیکھ کر لوگ دنگ رہ جاتے ہیں اس مسجد کی دیواریں پتھر وںسے بنائی گئی ہیں ان دیواروں میں تقریبا دو فٹ کے فاصلے پر لکڑی کی ڈی پی سی دی گئی ہے جس سے تعمیر کی گئی دیواریں انتہائی مضبوط اور خوبصورت ہیں مسجدمیںبھاری شہتیر لگا ئے گئے مسجد کی دیوا روں کو مٹی سے لیپ دیا گیا ہے مسجد بنانے میں موسم کا بھی خیال رکھا گیا ہے جوکہ سردی کے موسم میں گرم جبکہ گرمی کے موسم میں سر دہوتی ہے ۔

میاں گل نقیب الابرارنے بتا یا کہ چونکہ اس وقت ٹرانسپورٹ کی سہو لت نہیں تھی اس وجہ سے شہتیر، ستون اور دیگر بھاری لکڑیاں کو دریائے پنجکوڑہ میں بہاکرلایا گیا تھا انھوں نے بتا یا کہ مسجد تعمیر ہونے کے بعد بابا جی علیہ الرحمت نے اس مسجد میں تقریبا 12سال تک نماز پڑھی تھی اور پھر وہ 23ذوالحجہ 1329ہجری کو وفات پاگئے بابا جی مسجد تیمرگرہ ضلع دیر کی واحد تاریخی مسجد تھی

جس میں لو ئر دیر کے مختلف علاقوں رباط، میدان ، جندول ، بلامبٹ ، کوھیرے ملاکنڈ سے ختم القران ، نماز جمعہ ،عیدین ، اور قضاء عمری کی ادائیگی کے لئے لوگ آتے تھے اب بھی نماز جمعہ پڑھنے کے لئے دور دراز علاقوں سے لوگ آتے ہیں اور ایک صدی سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود درست حالت میں اس کی ساخت برقرار ہے اور اس تاریخی مسجد کا کا ذکر بین الا اقوامی میڈیا پر بھی مختلف اوقات میں ہوا ہے ۔