خیبرپختونخوا ٹیکس دہندگان 4 لاکھ

خیبرپختونخوا میں ٹیکس دہندگان کی تعداد 4 لاکھ سے تجاوز کرگئی

ویب ڈیسک (پشاور) فیڈرل بورڈ آف ریونیو پشاور نے رواں برس ریکارڈ 134ارب روپے اکٹھے کرنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پہلے چار ماہ کے دورا ن مقررہ ہدف سے زائد کی وصولیاں کی گئی ہیں امید ہے سال کے اختتام تک ہدف حاصل کرلیا جائیگا۔

چیف کمشنر پشاور خورشید مروت نے مشرق کو بتایا کہ گزشتہ برس 72ارب کا ٹارگٹ دیاگیا تھا اور پشاور ریجن نے 79ارب روپے اکٹھے کئے پشاور ریجن میں تمام جنوبی اضلاع او ر وسطی اضلاع شامل ہیں جبکہ قبائلی علاقے اور پاٹا میں ٹیکس وصولی نہیں کی جا رہی ہزارہ ڈویژن میں علیحدہ ریجنل دفتر کام کر رہا ہے خورشید مروت نے بتایا کہ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران ٹیکس کی ادائیگی میں فرق پڑا ہے شہری اب ٹیکس ادا کرتے ہیں اور اگر جائزہ لیاجائے تو ایف بی آر 300ارب روپے اکٹھا کرتا تھا رواں برس یہ ادارہ 6ہزارارب روپے اکٹھے کریگا،خیبر پختونخوا میں ٹیکس ادا کرنے والوں کی تعداد 4لاکھ سے تجاوز کرگئی ہے جن میں متحرک شہری ایک لاکھ کے قریب ہیں یہ تعداد ایک برس کے دوران تین گنا بڑھی ہے جو ایف بی آر کی جانب سے بہتر پالیسیوں کی بدولت ہی ممکن ہوسکا ہے۔

خورشید مروت نے کہا کہ ملاکنڈ میں کوئی ٹیکس وصولی کا دفتر نہیں کھلا بلکہ ملاکنڈ میں موجود کارخانوں کو سہولت کی فراہمی کا دفتر یا ہیلپ ڈیسک قائم کیا گیا ہے 2023جون تک ملاکنڈ سے کسی بھی قسم کا ٹیکس وصول نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی وصول کیا جائیگا ۔ خورشید مروت نے بتایا کہ صوبوں کے پاس اب سروسز پر ٹیکس کی وصولی کی ذمہ داری ہے اور کئی صوے بہتر کام کررہے ہیں اس وقت یہ منصوبہ بندی کی جا رہی ہے کہ صوبوں کے ڈیٹا بیس کو ایف بی آر کے ساتھ شریک کیا جائے اور ایک مشترکہ ڈیٹا بیس بنایا جائے تاکہ دونوں اداروں کو فائدہ ہوسکے اور ملک چلانے کیلئے ٹیکس وصول کیا جائے۔