ہر سیاسی معتوب کو بھٹو بنانے کی روش

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزاراحمد نے لاہور میں عاصمہ جہانگیر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں قانون کی حکمرانی ہے انسانوں کی نہیں۔آئین وقانون اور جمہوریت کی حمایت کرتے رہیں گے۔ ملک میں کسی غیر جمہوری سیٹ اپ کو قبول نہیں کریں گے ۔ہم عہدہ چھوڑ دیں گے پہلے بھی چھوڑا ہے۔عاصمہ جہانگیر کانفرنس میں چیف جسٹس کے اس خطاب سے پہلے معروف وکیل علی احمد کرد نے ایک جذباتی خطاب کرکے سماں باندھا جس کے نتیجے میں تقریب میں نعرے بازی بھی ہوئی ۔علی احمد کرد نے عدلیہ کو ملفوف اندازمیں تنقید کا نشانہ بنایا اور”ایک جرنیل ایک جرنیل”کی گردان کرکے نوجوان وکلاء کو جذباتی بھی کیا ۔جس کے جواب میں چیف جسٹس نے بھی جذباتی انداز اختیار کرکے علی احمد کرد کے اُٹھائے گئے اعتراضات کا جواب دیا ۔اگر تو چیف جسٹس کے یہ خیالات محض مخصوص مقاصد کے تحت بنائے اور گرمائے گئے ماحول کا نتیجہ تھے تو اس میں پریشانی کا کوئی عنصر نہیں اگر واقعی انہوںنے دور اُفق کے پار کسی غیر جمہوری سیٹ اپ کی آمد اور آثار دیکھے ہیں تو پھر معاملہ خاصا گھمبیر اور سنجیدہ ہے۔ملک میں موجودہ پارلیمانی نظام کی ناکامی کا تاثر بہت پرانا ہے ۔یہ نظام ڈلیور کرنے کی صلاحیت سے محروم اور عاری ہے۔اس لئے عرصہ دراز سے یہاں صدارتی نظام کی صدائے بازگشت وقفے وقفے سے سنائی دیتی رہی ہے ۔عمران خان کی موجودہ حکومت کو پارلیمانی اور صدارتی نظام کی باتوں کے درمیان حد ِفاصل اور بفر زون سمجھا گیا۔عمران خان کی حکومت اگر ڈلیورنس کے
ذریعے اپنا مضبوط نقش قائم کرنے میں کامیاب ہوتی تو صدارتی نظام کی آوازیں دھیمی ہو سکتی تھیں مگر یہ تجربہ تاحال اپنا رنگ نہیں جما سکا ۔اس کا متبادل کیا ہے ؟ یہ سوال بہت اہمیت کا حامل ہے۔اس وقت ملکی اور عالمی اسٹیبلشمنٹ کے درمیان ایک آنکھ مچولی جاری ہے ۔عالمی اسٹیبشلمنٹ پاکستان کو چین کے مدار میں کلی طور پر جانے سے روکنے کے لئے زور لگا رہی ہے ۔اس لئے وہ اپنے تمام کارڈز کھیل رہی ہے ۔انہی میں ایک کارڈ ایسا سیٹ اپ بھی ہے جو اپنے فیصلوں سے اگر پوری طرح ملکی اسٹیبلشمنٹ کی سوچ کا مخالف نہ بھی ہو مگر وہ اس سے پوری طرح ہم آہنگ بھی نہ ہو۔یوں ماضی کی سول ملٹری کھچ کھچ دوبارہ لوٹ آئے ۔جس کے بعد بڑے فیصلے کرانا آسان ہو سکتا ہے ۔ ابھی کل ہی کی بات ہے کہ مہاتیر محمد مغربی نظام کو للکارنے والے ملائیشین مدبر اور صدر تھے ۔وہ ایک نئے ورلڈ آرڈر کے اعلانیہ حامی تھے اور اپنے ملک کو پاکستان اور ترکی کے ساتھ ملا کر چین کے متبادل ورلڈ آرڈر کو تقویت پہنچا رہے تھے مگر ان کی حکومت اتحادی بیساکھیوں پر کھڑی تھی اور ایک مرحلے پر یہ بیساکھی کھنچ گئی اور مہاتیر محمد دنیا کے منظر سے غائب ہوگئے ۔اب کسی کو کوئی پتا نہیں کہ ملائیشیا کس حال میں ہے ،مہاتیر کا جانشین کون ہے اور کس حال میں ہے ۔اس جانشین کے خیالات اور نظریات کیا ہیں؟۔ مہاتیر ایک بنی بنائی عالمی شخصیت ہیں ان کا بیان آج بھی دنیا کے لئے
ایک خبر ہے۔اپوزیشن کی جماعتیں اس وقت ایک ہی دُھن میں غلطاں ہے کہ کسی طرح منظر مائنس عمران خان ہو کر رہ جائے ۔کئی ایک کو تو اس سے بھی دلچسپی نہیں کہ یہ کام کس قیمت پر ہو۔ اس کے نتیجے میں جمہوریت کی بساط لپٹے یا رہے ان کی بلاسے۔کچھ لوگ اپنی باری کے انتظار میں عمران حکومت کے وقفے کے ختم ہونے کے منتظر ہیں۔ اپوزیشن کا یہ رویہ ملک میں جمہوریت کو مزید کمزور کر رہا ہے اور یہ وہی رویہ ہے جو نوے کی دہائی میں اپنایا گیا تھا۔ملک میں سیاسی نظام پر بری طرح سیاسی تعصب کے سائے چھا گئے ہیں۔ہرمعتوب سیاست دان کو ذوالفقار علی بھٹو کی طرح مظلوم اور ہر سیاسی مقدمے کے فیصلے کو نواب احمد خان کیس بنا کر گلیمرائز کرنا اور ہر جج کو مولوی مشتاق حسین ولن نما بناکر کسی کو ہیرو بنانا آج کے سیاسی اور صحافتی کلچر کا حصہ ہے ۔ذوالفقار علی بھٹو نے تو بندوق اُٹھا کر نواب احمد خان کو قتل نہیں کیا تھا اور عدلیہ کے پاس کوئی ٹھوس شہادت نہیں تھی مگر آج کے پاکستانی سیاست دانوں کی دولت اور محلات دنیا میں نگر نگر کوچہ کوچہ بول رہے ہیں۔اس وقت غیر جمہوری سیٹ اپ کے قیام کی باتیں اگر کہیں ہو رہی ہیں تویہ صدارتی نظام سے بھی الگ کوئی منصوبہ ہے۔صدارتی نظام کو تو غیر جمہوری قرار نہیں دیا جا سکتا۔اگر صدارتی نظام غیر جمہوری ہوتا تو امریکہ جمہوری ملک نہ کہلاتا۔یہ مکمل فوجی حکومت بھی ہو سکتی ہے مگر فوجی حکومتوں نے بھی ملک کو کچھ نہیں دیا ۔ہر دس سالہ دور کے بعد بھی عوام تہی دست وتہی دامن ہی رہے۔اس لئے ملک میں جمہوریت کو مضبوط ہونا چاہئے ۔موجود ہ حکومت کو اپنی مدت پوری کرنے کا موقع ملنا چاہئے اور اس کے بعد انتخابات کا انعقاد کرکے عوام کو اپنے نمائندے چننے کا موقع دیا جاناچاہئے۔