مشرقیات

اس رحجان کے سامنے بند باندھیں جناب عالی!
اور بند باندھنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ قانون اپنی آنکھیں ،کان کھلی رکھے ورنہ آپ کو ہر بجٹ میں شہدا پیکج کے تحت فنڈز بڑھانے پڑیں گے ہمارے ہاں کے لوگوںکی بھی عجیب نفسیات ہے ،مرنے والے کو روپیٹ کر صبر کے سوا سمجھتے ہیںکوئی چارہ نہیں اور جو زندہ رہ گئے ان کی فکر میں جو ہاتھ آئے سرکار سے اس پر نظر رکھ لیتے ہیںاور یوں انصاف بھی لمبی تان کر سو جاتاہے،اب فرق یہ پڑا ہے کہ لوگوں نے اپنے مقتولوں کی نعشیں پیچ سڑک کے رکھ کر دھرنے دینے شروع کر دئیے ہیں قانون کے لمبے ہاتھ اگرقاتلوں تک پہنچنے میںکامیاب ہوتے تو اس کی نوبت ہی کیوں آتی۔یہ رحجان اب رکے گا نہیں ،اور یہ بھی ذہن میں رہے کہ ہم لوگ سب کچھ چھوڑ سکتے ہیں قتل مقاتلے کی عادت نہیں۔
آپ نے دیکھا ہی ہوگا ہمارے ہاں اسلحے سے کتنی محبت کی جاتی ہے بچے کی پیدائش پر بے دریغ فائرنگ کر کے یہی پیغام عام کیا جاتا ہے کہ پیداہونے سے لے کر کفن دفن تک یہ آواز ہمارا پیچھا نہیں چھوڑے گی اور چھوڑتی بھی نہیں۔ذاتی دشمنیوں،زمین جائیداد کے جھگڑوں وغیرہ میں ہم لوگ جس طرح اپنوں کا خون بہاتے ہیں اتنی دریا دلی کے عشر عشیر بھی ہم جان بچانے کے کاموں میں آگے ہوں تو ہم سے شاید ہی انسان دوستی میں کوئی آگے ہو،تاہم ایسا نہیں بجائے اس کے ہر گزرتے دن کے ساتھ ہماری وحشت میں اضافہ ہوتا جارہاہے۔
ریاست کو فکر ہونی چاہئے کہ ہر گھر میں اسلحہ موجود ہے وہ بھی بغیر کسی قاعدے قانون کے ،اور اسے کسی نے الماری یا دیوار پر سجانے کے لئے نہیں خریدا،طاقت کی نمائش کا بھو ت ہم میں سے بہت سوں پرسوار ہے اور اسی نمود ونمائش میں ہم شکار ڈھونڈنے لگتے ہیں۔بہت ساری دشمنیاں تو صرف گائوںمحلے میں خود کو نمبر ون بنانے کے چکر میں شروع ہو جاتی ہیں اپنا آپ منوانے کے اس چکر میں پھر خون بہایا جاتاہے اور نعشیں سڑکوں چوراہوں پر رکھ کر قاتلوں کی گرفتاری کے مطالبات شروع ہو جاتے ہیں ،یہ قاتل گرفتار بھی ہوجائیں مسلہ وہیں کاوہیں رہتاہے۔مسلے کو جڑ سے اکھاڑنے کی سبیل کوئی نہیں کر رہا۔اس کے لئے ریاست کی سرپرستی میں ہم سب کو اپناکردار اداکرنا ہے کیسے یہ بھی ہم آپ کو ان صفحات میں بتائیں گے فی الحال تو یاد رکھیںکہ اسلحہ نہیںیہ تعلیم ہے جو انسان کے ماتھے کا جھومر بنی ہوئی ہے۔