بحث کومنطقی انجام تک پہنچانے کی ضرورت

وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے ٹویٹرپر اپنے بیان میں امید ظاہر کی ہے کہ عدالتیں توہین آمیز مہم کو منطقی انجام تک پہنچائیں گی،لگتا ہے ججز کیخلاف مہم کی تیاری ذرا جلدی میں کی گئی، مذموم مہم کے پیچھے سارے کردار سامنے ہیں۔ وزیر اطلاعات نے عدالتوں سے جس توقع کا اظہار کیا ہے پوری قوم اس میں شامل ہے جو ہر اس منفی کردار کے حوالے سے جاننا چاہتی ہے اور ان معاملات کوطشت ازبام دیکھنا چاہتی ہے۔ جس کے باعث عدلیہ کا وقار دائو پرلگا ہواہے ۔ عدلیہ کے تقدس و احترام کا تقاضا بھی یہ ہے کہ ان عناصر کوجواس کے درپے ہیںکٹہرے میں لاکھڑا کیا جائے اور ان پر مقدمہ چلایا جائے ان کے الزامات کی تحقیقات ہر سطح پر ہونی چاہئے چونکہ یہ خود عدلیہ کے وقار کا سوال ہے اس لئے زیادہ مناسب امر تو یہی نظر آتا ہے کہ معزز عدلیہ خود ہی معاملات کا نوٹس لے اور معاملات کی تحقیقات کرکے دودھ کا دودھ پانی کا پانی کردیا جائے تاکہ معاملہ واضح اور صاف ہوجائے۔ اس ضمن میں جتنی تاخیر ہوتی جائے گی سوالات میں شدت آتی جائے گی اور بالآخر یہ تاثرقائم ہونے کا خطرہ ہے کہ خاموشی کا دوسرا مطلب اقرار لیا جائے ۔یہ کوئی مشکل امر نہیں کہ تحقیقات ہوں اور قصور واروں کو کٹہرے میں کھڑا کرکے سزا دی جائے اس بحث کا طول پکڑنا ملکی اداروں اور عدلیہ کے وقار کے منافی ہے اس لئے اس بحث کو جتنا جلد ہو سکے منطقی انجام تک پہنچا دیا جائے ۔
میاں افتخار حسین کی استقامت
اے این پی کے رہنما اور سابق وزیراطلاعات میاں افتخار حسین کی سیاست اور ان کے سیاسی نظریات سے اختلاف کیا جا سکتا ہے لیکن صوبے میں دہشت گردی کی لہر کے دوران انہوں نے ان عناصر کا جس طرح ڈٹ کر مقابلہ کیا اس حوالے سے دورائے نہیں ان کی جانب سے ہر خود کش حملے اور بم دھماکے کے جائے وقوعہ پر پہنچنے میں پہل کا بھی ہر کسی کو علم ہے۔دہشت گردی کے دوران صوبے میں پیش آنے والے واقعات کا سوچ کرآج بھی رونگٹھے کھڑے ہو جاتے ہیں صوبہ جس دور سے گزرا وہ سخت دور تھا جب عوام اور خاص کر حکمرانوں کوسخت خطرات کا سامنا تھا جس کا مقابلہ اوربقاء کی جنگ لڑ کرہی کامیابی ملی انہی حالات میں میاں افتخارحسین کا اکلوتا بیٹا بھی دہشت گردی کا شکار ہوا مگر اکلوتے بیٹے کی قربانی کے باوجود بھی ان کے پایہ استقلال میں لغزش نہ آئی جوبڑے دل گردے کی بات ہے۔تمام تر خطرات کے باوجود ان کا اپنے معمولات میں تبدیلی نہ لاناان کی بہادری کا ثبوت ہے ان کے حوالے سے حال ہی میں نادانستہ طور پر جس مواد کی اشاعت ہوئی ہے وہ محولہ بالا حقائق کے برعکس ہے جس کا اعتراف کرنے میں ہمیں کوئی باک نہیں ہمیں بجا طور پر توقع ہے کہ وقت آنے پر آئندہ بھی وہ عزم و استقامت کے کردارکا اعادہ کریں گے۔
پولیس اہلکاروں کی ٹارگٹ کلنگ کے بڑھتے واقعات
تھانہ خزانہ کی حدود چارسدہ روڈ پر موٹر سائیکل سوار ٹارگٹ کلرز نے چلتی کار پر فائرنگ کرکے اسسٹنٹ سب انسپکٹر کو قتل کر دیا۔تقریباً اسی علاقے میں حال ہی میں اس طرح کی ایک اور واردات میں ایک تفتیشی پولیس افسر کو نشانہ بنایا گیا تھا ان وارداتوں میں دو چیزیں قدر مشترک ہیں اولاً یہ کہ یہ بعض اہم مقدمات کی تفتیش کر رہے تھے اور دوم ان کونشانہ بنانے کا علاقہ تقریباًایک ہے علاقے میںدہشت گردوں کا کوئی گروہ اور ٹارگٹ کلرز موجود ہیں جو پولیس اہلکاروں کو تاک کرنشانہ بناتے ہیں یاپھر خاص نوعیت کے مقدمات سے وابستہ پولیس اہلکار ہی ان کا نشانہ ہوتے ہیں جو بھی ہو پولیس اہلکاروں کو تاک کر نشانہ بنانے کے بڑھتے واقعات تشویشناک امر ہیں جس سے ایک مرتبہ پھر شدت پسند عناصر کے متحرک ہونے کے خطرے کی بو آتی ہے جن کا بروقت قلع قمع ضروری ہے پولیس کیلئے اس کے اہلکاروں کی ٹارگٹ کلنگ بڑا چیلنج ہے یہ ضروری ہو گیا ہے کہ اس طرح کے سراٹھانے والے یا پھر مقدمات کی تفتیش سے وابستہ اور درون خانہ رازوں سے واقف افراد کو راستے سے ہٹا کر ثبوت ختم کرنے کی کوشش کرنے والوں کے خلاف آپریشن کلین اپ کی ضرورت ہے پولیس اپنے ہی ا ہلکاروں کا تحفظ میں ناکام ہو یا ان کے قاتلوں کوجلد سے جلد گرفتار نہ کیا جا سکے تو عوام میں احساس عدم تحفظ میں اضافہ فطری امر ہو گا۔