آئی ایم ایف معاہدہ اور شرائط

مشیر خزانہ شوکت ترین نے عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) سے معاہدہ طے پانے کااعلان کرتے ہوئے بتایا ہے کہ معاہدے کے تحت ایک ارب ڈالر ملیں گے جبکہ پاکستان کو پیٹرولیم لیوی میں ماہانہ4روپے اضافہ سمیت5اہم اقدامات کرناہوں گے۔آئی ایم ایف سے معاہدے کے تحت جی ایس ٹی پر استثنیٰ ختم کرناہوگا،پیٹرولیم لیوی ہر مہینے چارروپے بڑھانا ہوں گے اسٹیٹ بینک قانون میں ترمیم کرنا ہوگی ‘کووڈ کے حوالے سے آڈیٹر جنرل کی رپورٹ پیش کرناہوگی اور کووڈ اخراجات کی بینیفشل اونرشپ بتانی ہے۔ شوکت ترین نے بجلی کے نرخ میں ایڈجسٹمنٹ’ ٹیکس کے نظام میں بہتری’ اخراجات میں احتیاط اور مالیاتی نظم و ضبط وہ چند اہم اقدامات ہیں جن سے ملک کوٹھوس معاشی بنیادوں پر استوار کرنے میں مدد ملے گی۔انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف نے درمیانی سے طویل مدت کی پالیسی اصلاحات پر زور دیا ہے کہ جو خرابیاں ہیں وہ دور ہونی چاہئے آئی ایم ایف معاہدہ پاکستان کے لئے اس صورت میں بھی معاون ثابت ہو گا کہ اس کے بعد پاکستان کو دوسرے بین الاقوامی اداروں سے بھی فنڈنگ آ سکے گی۔آئی ایم ایف کے مطابق نیپرا ایکٹ میں ترامیم’توانائی شعبے میں اصلاحات اور اس شعبے میں کام کرنے والی کمپنیوں کو رقوم کی ادائیگیوں کے معاملے اینٹی منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کیلئے فنانسنگ کے خلاف بھی پیش رفت کی ہے تاہم اس شعبے میں مزید موثر کارکردگی کی ضرورت ہے۔آئی ایم ایف کی جانب سے جاری کھاتوں کے خسارے اور روپے کی قدر میں کمی کی نشاندہی کی گئی۔ ان اقدامات سے لامحالہ مہنگائی بڑھے گی اور عوام پر مزید بوجھ پڑے گا اور اس بوجھ میں مسلسل اضافہ ہوتا رہے گا جن شرائط پر قرضہ لیا گیا ہے ان پرعملدرآمد کاسارا بوجھ عوام پرپڑے گا اس طرح کی سخت شرائط پر قرضے کا حصول کوئی کامیابی نہیں آئی ایم ایف نے بہرحال قرضہ دینا ہی ہوتا ہے لگتا ہے کہ ان سے بہترمذاکرات اور ڈیل میں کوتاہی کی گئی ہے اس کے باوجود ابھی آئی ایم ایف کے معاشی شرائط کے علاوہ دیگر معاملات میں ابھی مزید اقدامات بھی کرنا ہوں گے جن میں بعض بہرحال ملکی ضرورت کے زمرے میںبھی آتے ہیں جس سے بہتری اور بدعنوانی کی حوصلہ شکنی ممکن ہوسکے گی۔ ماہرین کے مطابق ایگزیکٹیو بورڈ کے اجلاس سے پہلے پاکستان کو پیشگی اقدامات اٹھانے پڑیں گے تاکہ وہاں سے منظوری اور قسط جاری ہو سکے۔ان اقدامات میں منی بجٹ اور سٹیٹ بینک آف پاکستان کا ترمیمی بل بھی شامل ہو سکتا ہے ۔ اقدامات میں تقریباً چار سو ارب کے لگ بھگ اضافی ٹیکس اور ملک کے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام میں دو سو ارب روپے کٹوتی شامل ہیں۔آئی ایم ایف جب اضافی ٹیکس اکھٹے کرنے کا مطالبہ کرتا ہے تو اس کا مقصد یہ ہے کہ ملک میں سیلز ٹیکس پر دی گئی چھوٹ کو ختم کیا ہے۔جب یہ چھوٹ ختم ہوگی تو ان ڈائریکٹ ٹیکس زیادہ اکٹھا کیا جائے گا جس کا مطلب ہے کہ مصنوعات کی قیمتیں بڑھیں گی جس کا اضافی بوجھ عام صارفین پر پڑے گا۔آئی ایم ایف کی شرائط پوری کرنے کے لئے مشیر خزانہ نے جن نئے اقدامات کا عندیہ دیا ہے اس کا واضح مطلب یہی ہے کہ سب کچھ آئی ایم ایف کی شرائط کی نذر کرنے کے بعد رہی سہی کسر بھی پوری کر دی جائے مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ یہ بھی وقتی نذرانہ ہو گاجس کے پیش کرنے کے بعد قرضہ تو حاصل ہونے جارہا ہے اور کچھ رقم مل بھی چکی ہے مگر اس کے باوجود ہماری ضروریات پوری نہیں ہوں گی صرف معیشت کووقتی سہارا ہی ملے گا البتہ ملک مزید قرضوں کے بوجھ میں دب جائے گا اور سود سمیت قرضوں کے قسط کی واپسی کے لئے اور تگ و دو کرنی پڑے گی اور مزید سخت شرائط قبول کرنا مزید مجبوری بن جائے گی آئی ایم ایف سے ان کی سخت شرائط پر قرضے لیکر ملک چلانے کی مجبوری نے ان کی شرائط پرعملدرآمد کرتے کرتے اب یہ وقت بھی آگیا ہے کہ آئی ایم ایف کی شرائط پوری کرنے کے لئے سب کچھ نچوڑ کر آخری قطرہ بھی آئی ایم ایف کے منہ میں ٹپکایا جائے مشکل امر یہ ہے کہ سمجھوتے کے تحت مزید کڑی شرائط تسلیم کرنا ہوں گی جیسا کہ بتایا گیا ہے کہ پاکستان کی جانب سے بجلی ٹیرف ‘پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اضافہ کرنے کے باوجود آئی ایم ایف اسٹاف اب بھی میکرو اکنامک فریم ورک سے مطمئن نہیں۔اس طرح کی سخت شرائط تسلیم کرنے سے قومی معیشت اور عام آدمی کی بدحالی کہاں تک پہنچنے گی اس کا اندازہ ہی لگانا مشکل ہے۔جن شرائط کو نافذ کیا جاچکا ہے ان ہی کے نتائج عام آدمی کو زندہ درگور کرنے کے لئے کافی ہیں ۔آئی ایم ایف کی محتاجی فی الواقع ایسی مشکل ہے جس سے جلد از جلد نجات حاصل کرنے کی ہر ممکن کوشش قومی مفاد کا ناگزیر تقاضا ہے۔ اس کے لئے غیرروایتی معاشی حکمت عملی کا اختیار کیا جانا ضروری ہے۔ قوم کی اجتماعی دانش سے استفادہ کیا جائے تو صورت حال کا قابل عمل حل تلاش کرلیا جاناناممکن نہیں پٹرول کی قیمتوں کا اپنی بلند ترین سطح سے بھی آگے جانے کے رجحانات اور بجلی کی قیمتوں میں مزید اضافے کا مطالبہ آخر اس کا اختتام کیا ہو گا اس کا کچھ اندازہ نہیں جوں جوں آئی ایم ایف سے لئے جانے والے قرضوں کی مالیت بڑھ رہی ہے اس کی شرائط بھی اس کے ساتھ بڑھ رہی ہیں اور سخت سے سخت اور کڑی سے کڑی ہوتی جارہی ہیں ۔ قرضے لینا موجودہ عالمی معاشی نظام کا ایک جزو ہے ان کا اصراف تعمیری اور سرمایہ کاری کی حد تک ہونا تو ٹھیک ہے مزید برآں بعض ترقی یافتہ ممالک بھی ایک دوسرے کے مقروض ہیں تاہم پاکستان اپنے ذمہ واجب الادا قرضے واپس نہ کرنے کی وجہ سے ایک ایسی دلدل میں پھنسا ہوا ہے کہ اس سے نکلنے کی کوئی تدبیر نہ کی گئی تو خدانخواستہ خراب معاشی حالات کے باعث ملکی سلامتی خطرے میں پڑنے کا خدشہ ہے ۔ اس مشکل سے نجات صرف حکومت اور سیاستدانوں کی نہیں پوری قوم کو عزم کرکے سختیاں جھیلنے کے لئے خود کو تیار کرنا پڑے گا۔