350 ارب کے نئے ٹیکس

350 ارب کے نئے ٹیکس اور بجلی مہنگی کرنے کی تیاریاں

ویب ڈیسک: مشیر خزانہ شوکت ترین نے آئندہ ہفتے منی بجٹ لانے کا اعلان کر دیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے مشیر خزانہ شوکت ترین نے کہا کہ اگلے ہفتے تک منی بجٹ لائیں گے، چارج سنبھالنے کے بعد کہا تھا کہ پہلے سے ٹیکس دینے والوں پر مزید بوجھ ڈالنے کے بجائے ٹیکس نیٹ کو بڑھانے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے بتایا کہ منی بجٹ میں 350 ارب نیا ٹیکس نہیں ہے بلکہ یہ وہ ٹیکسز ہیں جس پر لوگوں نے کسی نہ کسی طریقے سے استثنیٰ لیا ہوا تھا، آئی ایم ایف نے ہمیں کہا کہ ٹیکس نظام میں مزید اصلاحات کریں۔ آئی ایم ایف سے ہونے والے معاہدے سے متعلق بات کرتے ہوئے مشیر خزانہ شوکت ترین نے بتایا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ تازہ معاہدہ پہلے سے مختلف ہے، گذشتہ معاہدہ میں ایسی شرائط پر دستخط کئے گئے تھے جو میرے خیال سے زیادہ سخت تھیں۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف نے 700 ارب روپے ٹیکسیشن کی بات کی تھی میں نے ساڑھے300 ارب پر منوایا۔ آئی ایم ایف نے ہمیں کہا کہ سیلز ٹیکس کے ریٹس کو یونیفارم کرکے 17 فیصد کردیں، ٹیکس نیٹ کو بڑھانے کے لیے اقدامات کررہے ہیں، جس سے ٹیکس کلیکشن میں اضافہ ہوگا۔

شوکت ترین نے کہا کہ ہمارا انکم ٹیکس 32 فیصد تک بڑھ گیا ہے، لوگ اراضی رکھ لیتے ہیں لیکن ٹیکس نہیں دیتے اسلئے اب لوگوں کیاثاثوں کاجائزہ لے کر ٹیکس عائد کریں گے۔ انہوں نے بتایا کہ آئی ایم ایف کاکہنا تھاکہ بجلی کی قیمت 4روپیبڑھادی جائے تاہم بجلی کی قیمت میں ایک روپے68 پیسے اضافہ کررہے ہیں۔ شوکت ترین کا مزید کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کوبتا دیا ہے کہ گورنرکی تعیناتی کابینہ کرے گی۔ پیٹرولیم مصنوعات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے مشیر خزانہ شوکت ترین نے کہا کہ عالمی منڈی میں قیمت کم ہونے پر پیٹرول لیوی بڑھائیں گے جبکہ لگژری آئٹم پراضافی ڈیوٹی عائد کرنے کا بھی سوچ رہے ہیں۔