امر اللہ صالح

داعش کا نیا سربراہ امر اللہ صالح کا خصوصی گارڈ نکلا

ویب ڈیسک: امریکی حکومت نے داعش کے نئے سربراہ ثنا اللہ غفاری کی شناخت جاری کر دی ہے۔سابقہ افغان حکومت کے جاری کردہ ثنا اللہ غفاری کے شناختی کارڈکے مطابق وہ گزشتہ دور حکومت میں نائب صدر اول امراللہ صالح کے خصوصی گارڈ تھے۔ انہیں 2006 میں وزارت داخلہ نے ہتھیاروں کی منتقلی کا لائسنس بھی دیا تھا۔امریکی حکومت کے مطابق ثنا اللہ غفاری جسے شہاب المہاجر کے نام سے بھی جانا جاتا ہے 9 مئی سے داعش خراسان گروپ کی قیادت کر رہا ہے۔

امر اللہ صالح نے اپنی ملازمت کے بارے میں بات کیے بغیر اپنے ٹوئٹر اکانٹ پر خود لکھا کہ ثنا اللہ غفاری حقانی نیٹ ورک کا رکن تھا اور ان کا خاندان اب پاکستان میں مقیم ہے۔ کابل میں داعش کے حملوں میں اضافے کی ایک وجہ امر اللہ صالح کے خصوصی گارڈ کی داعش کے سربراہ کے طور پر تقرری اور خود امر اللہ صالح کو کابل کا سیکیورٹ سونپنا تھا۔ ثنا اللہ غفاری جون 2014 میں داعش کے سربراہ بنے اور امر اللہ صالح کو 9 اکتوبر کو کابل میں سیکیورٹی کی ذمہ داری سونپی گئی۔ 7 اکتوبر کوداعش نے کابل میں ایک تعلیمی مرکز پر حملہ کیا، 2 نومبر کو اس نے کابل یونیورسٹی پر حملہ کیااور 7 نومبر کو کابل پر کچھ راکٹ داغے۔ داعش نے ان حملوں کی ذمہ داری بھی قبول کی لیکن پہلے نائب صدر نے طالبان پر ا ن حملوں کاالزام عائد کیا تھا، خود طالبان نے ان حملوں کی مذمت کی تھی اور اس میں ملوث ہونے سے انکار کیا تھا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کابل میں سکیورٹی کی ذمہ داری صالح کو سونپنا اور داعش کی ذمہ داری اس کے خصوصی گارڈ کو سونپنا اور پھر کابل میں شہری اور تعلیمی تنصیبات پر حملوں میں شدت لانا پچھلی حکومت اور داعش کے درمیان مضبوط تعلق کو ظاہر کرتا ہے۔