زیادہ ٹیکس اکٹھا چیف کمشنر

اہداف سے زیادہ ٹیکس اکٹھا کر رہے ہیں، چیف کمشنر انکم ٹیکس

ویب ڈیسک : خیبر پختونخوا میں ٹیکس اکٹھاکرنے کیلئے ایف بی آر نے ریونیو اتھارٹی کے ساتھ مل کر مشترکہ ڈیٹا بیس تیار کرنے کا فیصلہ کرلیا صوبائی ٹیکس دہندہ گان کی فہرست ایف بی آر جبکہ ایف بی آر کی فہرست ریونیو اتھارٹی کو میسر ہوگی جس سے ٹیکس محاصل میں اضافے کی امید ظاہر کی جا رہی ہے۔

چیف کمشنر انکم ٹیکس پشاور خورشید مروت نے مشرق کو بتایا کہ ایف بی آر ٹیکس بیس اورنیٹ بڑھانے کیلئے کئی نئے اقدامات اٹھا رہا ہے انہی میں صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر مشترکہ طور پر کام کرنا بھی شامل ہے ایف بی آر اور خیبر پختونخوا ریونیو اتھارٹی کی طرز پر تمام صوبوں میں کام کرنے والے ادارے مشترکہ ڈیٹا بیس تیار کررہے ہیں جس سے دونوں کو ایک دوسرے کے ٹیکس دہندگان کی فہرست میسر ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے ٹیکس وصولی میں اضافہ کیاجائیگا اس وقت ایف بی آر پشاور اپنے اہداف سے زائد ٹیکس اکٹھا کررہا ہے جس کے باعث ٹیکس دہندہ گان کو واپسی بھی کی جا رہی ہے ۔

خورشید مروت نے ملاکنڈ میں ٹیکس وصولی کے دفتر قائم ہونے کاتاثر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے ملاکنڈ میں موجود کارخانوں کو سہولت کی فراہمی کا دفتر یا ہیلپ ڈیسک قائم کیا گیا ہے 2023جون تک ملاکنڈ سے کسی بھی قسم کا ٹیکس وصول نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی وصول کیا جائیگا۔ خورشید مروقت نے بتایا کہ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران ٹیکس کی ادائیگی میں فرق پڑاہے شہری اب ٹیکس ادا کرتے ہیں اور اگر جائزہ لیا جائے تو ایف بی آر 300ارب روپے اکٹھا کرتا تھا رواں برس یہ ادارہ 6ہزارروپے اکٹھے کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں ٹیکس ادا کرنے والوں کی تعداد 4لاکھ سے تجاوز کرگئی ہے جن میں متحرک شہری ایک لاکھ کے قریب ہیں یہ تعداد ایک برس کے دوران تین گنا بڑھی ہے جو ایف بی آر کی جانب سے بہتر پالیسیوں کی بدولت ہی ممکن ہوسکا ہے۔ خورشید مروت نے بتایا کہ صوبوں کے پاس اب سروسز پر ٹیکس کی وصولی کی ذمہ داری ہے اور کئی صوے بہتر کام کررہے ہیں ۔