عالمی ساہو کاروں کی گیم

پاکستان نے جولائی2019ء میں عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) سے مجموعی طور پر چھ ارب ڈالر کا مالیاتی پیکج حاصل کیا ، جسے مختلف اقساط میں مرحلہ وار مہیا کیا جانا تھا مگر اقساط کو اس قدر پیچیدہ بنا دیا گیا کہ جب بھی قسط جاری کرنے کا وقت آتا ہے تو آئی ایم ایف حکام جائزہ رپورٹ میں کہہ دیتے ہیں کہ پاکستان کو جو اہداف دیئے گئے تھے وہ پورے نہیں ہو سکے ہیں، یوں قسط کی ادائیگی کئی ماہ کی تاخیر کا شکار ہو جاتی ہے جس سے پاکستان کو معاشی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ مارچ2021ء میں تحریک انصاف کی حکومت کے آئی ایم ایف کے ساتھ تعلقات میں اس بنا پر انقطاع آیا تھا کہ حکومت آئی ایم ایف کی شرائط پر عمل نہیں کر رہی ہے، اس دوران حکومت نے آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات کی بہت کوشش کی مگر کامیابی حاصل نہ ہو سکی، تاہم اب آٹھ ماہ کے تعطل کے بعد حکومت کے آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات کامیاب ہو گئے ہیں، اس کامیابی کے بعد حکومت کو تقریباً ایک ارب ڈالر کی رقم مل سکے گی، جس کی حتمی منظوری ایگزیکٹو بورڈ جنوری2022ء میں دے گا، مگر اس کے ساتھ ہی نئی کڑی شرائط بھی عائد کی گئی ہیں، حکومت اگر ان شرائط کو پورا کرتی ہے تو عوام کی مشکلات بڑھ جائیں گی لیکن حکومت کے پاس آئی ایم ایف کی شرائط پوری کرنے کے سوا کوئی دوسرا راستہ بھی نہیں ہے، کیونکہ اہداف پورے نہ ہوئے تو آئندہ قسط پھر روک لی جائے گی۔ آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات میں پانچ نئی شرائط عائد کی گئی ہیں۔
٭جی ایس ٹی پر استثنیٰ کا خاتمہ کرنا ہو گا
٭پیٹرولیم لیوی کی مد میں ہر ماہ چار روپے اضافہ کرنا ہو گا
٭اسٹیٹ بینک قانون میں ترمیم کرنا ہو گی
٭ کورونا کے حوالے سے آڈیٹر جنرل کی رپورٹ پیش کرنا ہو گی
٭ کورونا اخراجات کی بینی فشل اونر شپ ظاہر کرنی ہو گی
حکومت عندیہ دے چکی ہے کہ وہ آئی ایم ایف کی شرائط پوری کرے گی، اگر ان شرائط کے مطابق پیٹرولیم لیوی میں ماہانہ چار روپے کا اضافہ کیا گیا تو اسی شرح سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہو جائے گا، یہ اضافہ ایک سال تک اسی شرح سے اضافہ ہوتا رہا تو فی لیٹر پیٹرول کی قیمت 200 روپے سے تجاوز کر جائے گی۔ اسی طرح آئی ایم ایف کی نئی شرائط میں یہ بھی شامل ہے کہ مختلف مدات میںدیا جانے والا جنرل سیلز ٹیکس استثنیٰ ختم ہو جائے گا جس سے 350 ارب روپے کا بوجھ عوام پر آن پڑے گا۔ وزیر خزانہ اعتراف کرتے ہیں کہ آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کے بعد جو اصلاحا ت متعارف کرائیں گے ان سے کم آمدن افراد کی مشکلات میں تھوڑا اضافہ ہو سکتا ہے۔ مشیر امور خزا نہ کے مطابق اسٹیٹ بینک بل کو حقیقت پسندانہ کیا گیا ہے اور گورنر ، ڈپٹی گورنرزا سٹیٹ بینک کی تعیناتی کا اختیار حکومت کے پاس ہوگا اور گورنر اسٹیٹ بینک اور وزیر خزانہ کی مشاورت سے فیصلے ہوںگے ، مانیٹری پالیسی اور ایکسچینج ریٹ پالیسی آزاد ہوگی۔ آئی ایم ایف نے نئی شرائط میں کورونا سے نمٹنے کیلئے دیئے جانے والے فنڈز کے آڈٹ کا کہا ہے اس سے حکومت کی مشکلات بڑھ سکتی ہیں کیونکہ اطلاعات ہیں کہ تحریک انصاف کی حکومت نے کورونا کے خلاف فنڈز کو مالی تعاون سمجھ کر استعمال کیا تھا، فنڈز استعمال کرتے وقت اس بات کا خیال نہیں رکھا گیا تھا کہ آئی ایم ایف اس کے آڈت بارے استفسار کرے گا۔ یوں دیکھا جائے تو عالمی ساہو کاروں نے پاکستان کے ارد گرد ایسا شکنجہ کس دیا ہے جس سے نکلنا آسان نہیں ہے کیونکہ حالیہ مذاکرات میں آئی ایم ایف حکام کی طرف سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ جب تک پاکستان آئی ایم ایف کی شرائط پر پورا نہیں اترتا تو ایشیاء بینک اور خطے میں موجود دوسرے ذرائع کو بھی اجازت نہیں ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ لین دین کا معاملہ کریں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس وقت آئی ایم ایف اپنی مرضی کے مطابق پاکستان کی معاشی سمت کا تعین کر رہا ہے جس میں پاکستان کے عوام کے مسائل کو مد نظر رکھ کر پالیسی بنانے کی بجائے اس بات کو ترجیح دی گئی ہے کہ اس نے پاکستان کو جو رقم بطور قرض دی ہے اسے سود سمیت کیسے وصول کرنا ہے، اسی بنا پر ناقدین کہتے ہیں کہ حکومت آئی ایم ایف کے نرغے میں ہے جس سے چھٹکارا آسان نہیں ہے، کیونکہ جس طرح مصر نے آئی ایم ایف سے پروگرام حاصل کیا تھا تو اس کی کرنسی گراوٹ کا شکار ہو گئی اور وہاں پر ایسا وقت بھی آیا کہ مصر کی معیشت آئی ایم ایف کے سہارے کھڑی تھی، آئی ایم ایف نے اپنی مرضی کی کڑی شرائط عائد کر کے مصر کی معیشت کا بیڑا غرق کر دیا لیکن اسے اپنے فنڈز کی ریکوری میں کوئی پریشانی نہیں ہوئی کیونکہ سارا کنٹرول آئی ایم ایف کے پاس تھا، بالکل ویسے ہی حالات پاکستان میں بھی پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، حکومت کو اس طرف توجہ دینی چاہئے، اپوزیشن کو نظر انداز کرنے کی روش ترک کر کے باہمی مشاورت سے ایسی دیرپا معاشی پالیسی تشکیل دینی ہو گی جو ملک و قوم کے لئے ترقی کا ذریعہ ثابت ہو سکے۔ عالمی ساہو کاروں کی گیم سے نکلنے کا یہی واحد راستہ ہے اگر حکومت نے بروقت اقدام نہ اٹھایا تو پھر خاکم بدہن کہیں ایسا نہ ہو کہ جب تحریک انصاف کی حکومت ختم ہو تو ہم مسائل کے گرداب تلے اس قدر دھنس چکے ہوں کہ جس سے نکلنے کے لئے ہمیں برسوں کی جد و جہد کرنی پڑے۔