امریکی سرکار کا دوہرا معیار

دنیا بھر میں آزادی اظہار اور مذہبی آزادیوں کے حوالے سے خود کو حساس مملکت کے طور پر پیش کرتے امریکہ کی اپنی حالت یہ ہے کہ خود امریکہ میں دوسو سے زائد ایسی تنظیمیں سرگرم عمل ہیں جو امریکہ کو ایک خالص عیسائی ریاست بنانے کی آرزو مند ہیں ان میں سے بعض تنظیمیں ماضی میں ناپسندیدہ سرگرمیوں میں ملوث رہیں اسی طرح دولت اسلامیہ العراق والشام داعش کے قیام اور اس کے جنگجووں کی ابتدائی تربیت میں امریکہ اور اسرائیل کے کردار کے حوالے سے شواہد دنیا کے سامنے ہیں اس کے باوجود امریکی حکومت ہرسال دنیا بھر کے ممالک میں مذہبی آزادیوں کی رپورٹ جاری کرتے ہوئے اولا اپنے ہاں کی صورتحال کو نظر انداز کرتی ہے ثانیا اسرائیل اور بھارت کی حکومتوں اور دونوں ملکوں میں حکومتوں کی چھتر چھایہ میں جاری مذہبی انتہا پسندی سے بھی چشم پوشی برتی ہے اس تناظر میں دکھا جائے تو مذہبی عدم برداشت کے ضمن میں جاری رپورٹ میں امریکہ کی جانب سے مذہبی آزادیوں کے حوالے سے پاکستان کو تشویش والے ممالک میں شامل کئے جانے پر دفتر خارجہ کا ردعمل مناسب اور بروقت ہے۔ ماضی میں رونما ہونے والے چند افسوسناک واقعات میں ملوث افراد کے خلاف قوانین کے مطابق تادیبی کارروائی کر کے پاکستانی نے عملی طور پر ثابت کیا کہ انتہا پسندوں کو سرکاری سرپرستی حاصل نہیں ہے اور یہ کہ پاکستانی ریاست صنفی مساوات اور مذہبی آزادیوں کے حوالے سے خاصی حساس ہے۔ اس کے برعکس بھارت کا گھنائونا کردار اور غیرہندو مذہبی برادریوں کے خلاف مودی حکومت کا جانبدارانہ رویہ کسی سے پوشیدہ نہیں ، آر ایس ایس’ شیوسینا اور دوسری انتہا پسند تنظیموں کا مسلمانوں اور دیگر مذہبی برادریوں کے خلاف تشدد کو ہوا دینا بھی سبھی پر عیاں ہے۔ آر ایس ایس اکھنڈ بھارت کے قیام کے اپنے ایجنڈے میں غیر ہندو برادریوں کے لوگوں کو طاقت کے بل بوتے پر ہندو بنانے کو دھرم کا حصہ سمجھتی ہے اس کا موقف ہے کہ یہ سارے لوگ پہلے ہندو تھے پھر انہوں نے بیرونی حملہ آوروں کے دباو پر مذہب تبدیل کیا ، دنیا اور خصوصاً ایشیا کے لوگ بخوبی جانتے ہیں کہ جنوبی ایشیا میں اپنے مفادات کے تحفظ کے لئے امریکہ نے ہمیشہ بھارت کے غیرذمہ دارانہ طرزعمل سے چشم پوشی کی اس متعدد وجوہات ہیں ان میں سے اہم ترین وجہ امریکی ملٹی نیشنل کمپنیوں کی سرمایہ کاری اور بھارت کو چین اور پاکستان کے خلاف سیاسی کردار دینا ہے۔ مذہبی آزادیوں کے حوالے سے ناپسندیدہ ممالک کی حالیہ امریکی فہرست پر مبصرین یہ سوال بھی اٹھارہے ہیں کہ کیا امریکی حکومت کے علم میں نہیں کہ پچھلے 7سالوں کے دوران بھارت میں ایک ہزار سے زائد افراد ہندو انتہا پسندوں کے ہاتھوں ہلاک ہوئے ان میں پانچ سو سے زیادہ مسلمان ہیں87مسلمان صرف اس الزام میں جنونی گروہوں کے ہاتھوں قتل ہوئے کہ وہ گائے کا گوشت لے جارہے تھے یا فروخت کررہے تھے۔ مال برداری کے ٹرکوں میں گائیوں کے ساتھ دیگر جانوروں کا ہونا اس بات کا ثبوت کیسے ہوگیا کہ انہیں ذبح کرکے گوشت فروخت کرنا مقصود تھا؟ پچھلے ایک سال کے دوران بھارت میں7مساجد اور2گرجا گھروں کو مسمار کیا گیا۔ گزشتہ برس دہلی میں ہونے والے مسلم کش کے واقعات میں جہاں 14مسلمان قتل ہوئے وہیں خود بھارتی میڈیا کے مطابق مسلمانوں کی تین ارب روپے کی نجی جائیدادوں اور کاروباری مراکز کو تباہ کیا گیا۔ پولیس اور سکیورٹی فورسز کی نگرانی میں ہندو انتہا پسندوں نے دہلی کی تین مساجد پر آر ایس ایس کا مذہبی جھنڈا لہرایا۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ ان انتہا پسندوں کی حوصلہ افزائی ریاستی سطح پر کی گئی اور
امیت شاہ جیسے انتہا پسند وزرا یہ کہتے دکھائی دیئے کہ مسلمانوں کو ہندووں کا احترام کرنا ہوگا ورنہ وہ بھارت چھوڑ دیں افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ جنوبی ایشیا کے حوالے سے امریکہ کی کوئی بھی پالیسی غیرجانبدارانہ نہیں بلکہ اس کی ہمیشہ یہ کوشش رہی کہ بھارت کو امن و انسانیت کے محافظ کے طور پر پیش کرے حالانکہ امن و انسانیت کے ساتھ بھارت میں مودی سرکار کی سرپرستی میں جو سلوک ہورہا ہے وہ ہر کس و ناکس پر عیاں ہے سوائے بھارت نواز امریکی پالیسی سازوں کے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ امریکی حکام کو گزشتہ پندرہ دنوں کے دوران بھارت کے زیرقبضہ مقبوضہ کشمیر میں سکیورٹی فورسز کی سرپرستی میں5مسلمانوں کا قتل دکھائی دیا نہ کشمیری مسلمانوں کا یہ موقف سنائی دیا کہ ہندو انتہا پسند ان کی جائیدادوں پر قبضہ کرناچاہتے ہیں۔ مذہبی آزادیوں کے حوالے سے حالیہ امریکی رپورٹ پر مختلف مکاتب فکر کے علما و مشائخ اور دیگر شخصیات کا ردعمل بھی بجا طور پر درست ہے۔ وزیراعظم کے مشیر مذہبی ہم آہنگی مولانا طاہر اشرفی کا اس رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہنا تھا کہ امریکی محکمہ خارجہ کی رپورٹ انصاف پر نہیں جانبداری پر مبنی ہے۔ بھارت میں اقلیتوں سے ہونے والے ناروا برتائو، کشمیریوں کی مذہبی بنیادوں پر نسل کشی تلخ حقیقت ہے۔ امریکی حکام کو دوہرا معیار ترک کرکے انصاف اور انسانیت کا ساتھ دینا چاہیے۔ دفتر خارجہ اور مختلف مکاتب فکر کے علما و مشائخ نے امریکی حکام کی جن حقائق کی طرف توجہ دلائی ہے امید نہیں کہ امریکی حکام ان کو مدنظر رکھیں۔ عالمی سیاست کے باہمی مفادات اور جنوبی ایشیا میں چین اور پاکستان کے خلاف منفی پروپیگنڈے کے لئے بھارت قدم قدم پر امریکہ کا ہمنوا و مددگار ہے۔ ہم اسے بدقسمتی ہی کہہ سکتے ہیں کہ امریکہ نے کسی بھی مرحلہ پر امن و انسانیت کے لئے پاکستان کی خدمات کا اعتراف نہیں کیا الٹا اس کے پالیسی سازوں نے پاکستان کو بدنام کرنے کے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیا۔ اس دوہرے معیار پر یہی کہا جاسکتا ہے کہ دامن کو ذرا دیکھ ذرا بند قبا دیکھ۔